چیئرمین نیب کا تقرر، اتفاق ہوگا یا نہیں ہوگا؟

07 جولائی 2013

نیب کے نئے چیئرمین کی تقرری کے حوالے سے بعض میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف جسٹس (ر) رحمت حسین جعفری میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ ادھر اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کی جانب سے بھی ان کے نام پر اعتراض کا امکان نہیں ہے کیونکہ خورشید شاہ بعض حوالوں سے ان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں ۔ یاد رہے رحمت حسین جعفری کا تعلق پیپلزپارٹی کے مضبوط گڑھ لاڑکانہ سے ہے۔ علاوہ ازیںصدر آصف علی زررداری رواں سال فروری میں ایک موقع پر کہا تھا کہ 2000ءمیں میاں نوازشریف کو پھانسی کے پھندے سے بچایا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی رحمت حسین جعفری سے واقفیت تھی اور جب انہیں پتہ چلا کہ جنرل پرویزمشرف ان پر دباﺅ ڈال رہے ہیں کہ میاں نوازشریف کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے تو میں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ فیصلہ میرٹ پر کریں اور وہ رحمت حسین جعفری کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگئے کہ سزائے موت کا اعلان نہ کیا جائے۔ صدر آصف زرداری کے اس دعویٰ پر جتنا مرضی غور کیا جائے اس کے سوا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا کہ رحمت حسین جعفری نے طیارہ اغواءکیس میں اگر میاں نوازشریف کو سزائے موت نہیں سنائی تو اس کی ایک بڑی وجہ صدر آصف زرداری کا مشورہ تھا۔ واضح رہے کہ اس وقت آصف زرداری بھی جیل میں تھے ۔ اگر صدر آصف زرداری کا یہ دعویٰ درست ہے تو پھر یہ بہت اہم سوال ذہنوں میں ابھرنا چاہئے کہ اگر انہیں نیب کا چیئرمین مقرر کردیا جاتا ہے تو وہ صدر آصف زرداری اور ان کی پارٹی کے اہم لیڈروں کے خلاف کرپشن کے مقدمات میں کیسے غیر جانبدار رہیں گے کیا ان کا بطور نیب تقرر دوبارہ کسی دیدار شاہ یا کسی فصیح بخاری کا ہی تقرر نہیں ہوگا اور بالفرض وہ بہت غیر جانبداری کا مظاہرہ کریں اور بعض وجوہ کی بناءپر پیپلزپارٹی کے لیڈروں کے خلاف کیس کی تکمیل میں تاخیر ہوجائے تو اسے ان کی صدر زرداری سے واقفیت کا شاخسانہ سمجھا جائے گا۔میاں نوازشریف کو یہ باور کرادیا گیا ہے کہ ان کی موجودہ زندگی رحمت حسین جعفری کے جرا¿ت مندانہ فیصلے کی رہین منت ہے یا وہ از خود ایسا سمجھتے ہیں۔ ایک موقع پر انہوں نے رحمت حسین جعفری کو خراج تحسین ان الفاظ میں پیش کیا ”ہمیں جعفری جیسے ججز چاہئیں“ جبکہ ایک دوسرے موقع پر انہوں نے رحمت حسین جعفری کی تعریف یوں بالواسطہ انداز میں کی۔” سندھی جج نے ان کی جان بچائی ، پنجابی جج ہوتے تو وہ پھانسی چڑھ چکے ہوتے“ ان جذبات کی روشنی میں رحمت حسین جعفری کا بطور چیئرمین نیب تقرر کسی میرٹ کی بجائے ممنونیت کا کرشمہ سمجھا جائے گا اور اس کی وجہ سے اگر پیپلزپارٹی کے خلاف فیصلے ہوتے تو اس پر پیپلزپارٹی ان کے خلاف اس طرح شور مچائے گی کہ نوازشریف کا آدمی ہے جس طرح (ن) لیگ اور دیگر جماعتوں نے ایڈمرل (ر) فصیح بخاری کے لئے زرداری کا خاص آدمی کا شور مچایا تھا ان وجوہ کی بناءپر رحمت حسین جعفری کی تقرری غیر متنازع نہیں رہے گی۔بہرحال عدالتی فیصلے سے قبل اس معاہدہ کی بھنک کراچی کے بعض صحافیوں کے کانوں میں پڑگئی ۔ کہا جاتا ہے کہ اگرچہ مصدقہ نہیں ہے کہ میجر (ر) مستجاب نے فیصلہ سے قبل یہ بریکنگ نیوز دی کہ میاں صاحب کے سر سے موت کا سایہ ٹل گیا ہے اور یہ خبر تو عام تھی بلکہ بعض اخبارات میں شائع بھی ہوئی کہ خصوصی عدالت کے جج رحمت حسین جعفری کو آرمی کے ایک فوجی مرکز میں بلایا گیا اور ضروری بریفنگ کے بعد انہیں قومی ہیلی کاپٹر کے ذریعہ عدالت پہنچایا گیا جہاں پہنچ کر انہوں نے میاں نوازشریف کو عمر قید کی سزا سنائی۔ یہ جو رحمت حسین جعفری کی جرا¿ت اور بہادری کی کہانیاں بیان کی جارہی ہیں۔ واقعاتی شواہد سے ان کی توثیق نہیں ہوتی اس وقت بھی یہ چند سوالات اٹھائے گئے کیا ایک خصوصی عدالت کا جج ایک ایسے قومی حکمران کی حکم عدولی یا خواہش کے برعکس فیصلہ کرسکتا تھا جو ملک کے وزیراعظم کو وزارت عظمیٰ کی کرسی سے الٹا کر باہر پھینک سکتا تھا جو وزیراعظم کو ہتھکڑی لگوا کر جیل بھجوا سکتا ہے اس کے مقابلے میں ایک عام جج اتنا طاقتور کیسے ہوگیا اور پھر اس ”جرا¿ت مندی“ کے بعد وہ اپنے منصبی فرائض بھی کسی رکاوٹ یا دباﺅ کے بغیر انجام دیتا رہا کئی حلقے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ میاں نوازشریف سے ہونے والے معاہدہ کی روشنی میں رحمت حسین جعفری کو فوجی مرکز بلاکر فیصلے سے آگاہ کردیا گیا تھا بہرحال آج ان واقعات پر پروپیگنڈہ کے سائے ہیں لیکن تاریخ اور وقت بڑی بے رحمی سے حقائق سامنے لے آیا کرتے ہیں تاہم اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ رحمت حسین جعفری نے فوجی حکمرانوں کو آنکھیں دکھا کر صدر زرداری کے ایما پر نوازشریف کی سزائے موت کے فیصلے کو عمر قید میں تبدیل کردیا یا ازخود نوازشریف کی زندگی بچانے کا فیصلہ کردیا۔ دونوں صورتوں میں ان کا صدر زرداری اور میاں نوازشریف سے خصوصی تعلق کا پردہ فاش ہوتا ہے اور اس صورت میں ان کی غیر جانبداری مسلسل سوالیہ نشان رہے گی۔