مصر ،مرسی اور پاکستان

07 جولائی 2013

مصریوں کی فطرت نے ایک سال بھی جمہوریت برداشت نہیں کی۔ آمریت کا بت مصریوں نے اپنے ہاتھوں 2011ء اس وقت توڑا جب وہ لاکھوں کی تعداد میں قاہرہ کے تحریر چوک میں ڈیرے جما کر بیٹھ گئے۔ان کا تحریر چوک کی یخ بستہ ہوا اوربارود کی فضا میں ایک ہی مطالبہ تھا ”حسنی مبارک استعفیٰ دو“انکے عزم کو شیلنگ تو کیا فائرنگ بھی متزلزل نہ کر سکی ۔جنوری کے آخر میں تحریر چوک کی سانسوں کو بھی جمادینے والی سردی میں مصریوں کا کھولتا ہوا خون رنگ لایا، 11فروری کو حسنی مبارک استعفیٰ دینے پر مجبور ہوگئے۔اسکے بعد انتخابات میں52فیصد مصریوں نے اخوان المسلمون پر اعتماد کیا۔ کیا محض ایک ہی سال کے اندر مصری جمہوریت سے عاجز آکر اخوان المسلمون کے وزیر اعظم مرسی کیخلاف تحریر چوک میں براجمان ہوگئے۔ مظاہرین مرسی سے استعفے کا مطالبہ کیا جن کو پانچ سال کیلئے منتخب کیا گیا تھا۔انہوں استعفیٰ دینے سے انکا ر کیا تو فوج کے صبر کا پیمانہ چار دن میں لبریز ہوگیا۔جنرل عبدالفتاح السیسی کو مرسی نے ہی آرمی چیف بنایا،اس جرنیل نے پاکستان کی تاریخ مصر میں دہراتے ہوئے جنرل ضیا اور جنرل مشرف کی یاد دلا دی۔تحریر چوک میں مظاہرین کا جنوری فروری والا ہی عزم تھا لیکن مظاہرین وہ نہیں تھے جو حسنی مبارک کی طاقتور فوج کے سامنے18دن سینہ سپر رہے۔48 فیصد ووٹ لینے والوں کے سینے پر مرسی کی کامیابی کا سانپ ہمہ وقت لوٹتا رہا۔مرسی بھی خود کو فرعونی آمریت کا صحیح متبادل ثابت نہ کرسکے۔ ایران اور شام سے قربت کے باعث قطراور سعودی عرب ناراض ہوئے ان راضی کرنے کی کوشش میںشام اور ایران سے فاصلے بڑھا ئے لیکن کمان سے نکلا تیرا واپس نہ آسکا۔ امریکہ اور اسرائیل پہلے ہی مرسی کی پالیسیوں سے نالاں تھے۔اس سب کا یہ مطلب نہیں کہ ایک منتخب حکومت کا تختہ اُلٹ دیا جائے۔ جنرل السیسی نے اندرونی اور بیرونی ماحول کو اپنے لئے سازگار دیکھا تو مظاہرین کی خواہش چار دن میں ہی پوری کردی۔ کسی بھی پارٹی کیلئے تحریر سکوائر کو بھرنا مشکل نہیں تاہم اس کو پوری قوم کی آواز قرار دیناحماقت ہے ایسی حماقت کوئی سیاستدان نہیں جمہوری روایات سے نابلد جرنیل ہی کرسکتا ہے جو ہمارے مشرف کی طرح خود کو عقل کل سمجھتا ہو۔جرنیل کی طاقت وردی اور بوٹ ہوتی ہے۔ اسی کے بل بوتے پر وہ خود کو سیاست ، فلسفہ،علم وہنر اور دانش کا پیکر سمجھنے لگتا ہے ۔ پھروردی اور بوٹ کے اترنے پر اس کے ساتھ ہی سب کچھ کسی کونے کھدرے میں پڑا گل سڑ رہا ہوتا ہے ۔مشرف کا کروفر انکی وردی بوٹ اترنے کے ساتھ ہی کافور ہوگیا۔ اسکے بغیر وہ ایک سال بھی اقتدار میں نہ رہ سکے۔مصر میں ایک ہی سال کے اندر جمہوریت کا خاتمہ کرکے دراصل جمہوریت کے پودے کو اس وقت ا کھاڑ کر لگانے کی کوشش کی گئی ہے جب اس نے جڑیں بھی نہیں پکڑی تھیں۔اب اس پر برگ وبار لانے اور اسے ثمر آور بنانے کیلئے کسی لی جینڈکمٹڈ اور جینیئس کی ضرورت ہے۔یہ جنرل السیسی جیسے ماورائے عقل جرنیل ،عمرو موسیٰ اور محمدالبرادی جیسے خود غرض اور سازشی سیاستدان کے بس کا روگ نہیں۔گو پاکستان میں بھی جمہوریت تناور شجر نہیں بن سکی لیکن اسکی جڑیں کافی مضبوط ہو چکی ہیں۔ہمارے سیاستدان جو کچھ بھی کرتے ر ہیں وہ معاملات کو سمجھتے ضرور ہیں۔مرسی کچھ بھی نہ کرنے کے باوجود سادگی میں مارے گئے۔ ہمارے اکابرین سیاست اور جغادریانِ جمہویت عموماًبہت کچھ کرکے بھی چالاکی سے بچ نکلتے ہیں۔ کوئی انگلی اٹھائے تو کہتے ہیں آئینی مدت کے اختتام پر عوام کو احتساب کا حق اور اختیار ہے۔مشرف کے پروردگان نے گورننس کی ایسی کی تیسی پھیری دی جس پر عوام 2008ءمیں ق لیگ سے نجات حاصل کرلی پیپلز پارٹی نے تو ہر ادارہ اجاڑتے ، اجاڑتے پانچ سال پورے کئے۔ اربوں، کھربوں کے لاتعداد سکینڈل سامنے آئے۔اس نے بیوروکریسی کو ساتھ ملایا اور عدلیہ کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔پہلے سال میں ہی اس کی ترجیحات کھل کر سامنے آگئی تھیں۔اگر پہلے سال ہی ایسے حکمرانوں سے نجات حاصل کرلی جاتی تو آج ملک یقینا اندھیروں میں نہ ڈوبا ہوتا۔مسلم لیگ ن کی حکومت نے ایک ماہ میں ہی عوام کو دن میں تارے دکھا دئیے ہیں ۔اسکے رہنما بھی بجا کہتے ہیں کہ ڈلیور نہ کرسکے تو الیکشن میں عوام مسترد کردینگے جو ایک ماہ کم پانچ سال بعد ہونے ہیں۔اگر ن لیگ کی کارکردگی سابقون جیسی رہی تو لوگ عمران کے سرپر ہما بٹھا دیں گے،بالفرض پانچ سال وہ بھی پیشروﺅں کی طرح نکلتے ہیں تو قوم کے تو بیس سال ضائع ہوگئے۔اسکے بعدنئے سرے سے پھر پرانا سائیکل شروع ہوجائیگا، ق لیگ ،پی پی پی ،ن لیگ ، پی ٹی آئی ۔عوام سیاست دانوں کی ہیرا پھیری کی گھمن گھیری کے گرداب میں چکراتے رہیں گے ۔ کوئی ایسا سسٹم ہو کہ جو حکمرانوں کو ڈی ٹریک نہ ہونے دے۔نواز لیگ اداروں کی بحالی اور بحرانوں پر قابو پانے کیلئے پر عزم نظر آتی ہے لیکن اب تک اچھل کود اور عوامی مسائل میں اضافے کے سوا کوئی کارکرگی دکھائی نہیں دی ۔مہنگائی کا ایک طوفان اٹھا دیاگیا ہے۔ امید ہے کہ یہ جلد یا بدیر بحرانوں پر قابو پالے گی ۔پی پی پی کے ڈبوئے ہوئے اداروں میں سے کچھ بیچ دیگی ،باقی اپنے پاﺅں پر کھڑے ہو کر کماﺅ پتر بن جائینگے۔ہمارا عوامی شعور کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ عوام پی پی پی پر اعتماد کرتے ہیں تو کوئی ان کا ہاتھ نہیں روک سکتا۔زرداری صاحب صدر ، گیلانی ، راجہ وزیر اعظم ، توقیر صادق چیئر مین اوگرا۔۔۔وغیرہ وغیرہ ہونگے تو؟ ہمارے سسٹم میں کسی پر بھی ایک بار دوبار بلکہ کئی بار اور با بار لوٹ مار ا پر کوئی پابندی نہیں،اگر کوئی پکڑا گیا تو معمولی سزا اور پھرپوتر۔ پارٹیوں سے کرپٹ لوگوں کو تو نکالنے کا کام کوئی پارٹی اپنے طور پر کرتی ہے اور نہ کریگی بلکہ کسی کی کامیابی کے امکانات کے پیش نظر اسے دوسری پارٹی قتل جیسے جرم اور اربوں کی کرپشن سے بھی صرف نظر کرتے ہوئے شمولیت کی دعوت ، اسکی مرضی کا ٹکٹ اور حلقہ عطا کردیتی ہے ن لیگ نے انتخابات میں ڈیڑھ سو ایسے مچھندر بھرتی کئے جن میں سے سو جیت بھی گئے، یہ ہماری سیاسی قیادتوں کی جمہوریت سے کمٹمنٹ اور عوامی شعور پر سوالیہ نشان ہے ۔مغربی جمہوریت ہم مسلمانوں کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتی اس کی کارفرمائی کیلئے بڑے عزم و ارادے کی ضرورت ہے۔مغرب میں جمہوریت کا پہیہ گھوم رہا ہے اور گھومتا چلا جارہا ہے۔ہم مسلمانوں کو گھمانا پڑتا ہے۔جہاں کوتاہی کی ‘یہ رک جاتا ہے یہ پہیہ تبھی گھومتا رہ سکتا ہے کہ اسکے فلائی ویل کے کتے فیل نہ ہونے دئیے جائیںاور پیڈل بھی چلتا رہے۔ جس نے ایک دفعہ کرپشن کی اس پر سیاست کے دروازے ہمیشہ کیلئے بند کر دیئے جائیں۔ سابق وزیر اعظم گیلانی کہتے ہیں ”آئین کے تحت منتخب وزیراعظم کو استثنیٰ حاصل ہوتا ہے، مانگوں گا نہیں ،کسی میں جرا¿ت ہے تو گرفتار کر لے، کسی عدالت یا ایف آئی اے کے سامنے پیش نہیں ہوں گا۔ ایک منتخب وزیراعظم کو برطرف کرنے پر عدلیہ بھی آرٹیکل 6 کی زد میں آتی ہے“۔آفرین ہے ایسی دیدہ دلیری پر۔مغربی جمہوریت ہمارے مفاد میں تو ہے لیکن ہمارے مزاج کے مطابق نہیں اس کو گدلے لوگوں سے پاک نہ رکھا گیا تو یقین مانئے بہت بُرا ہو سکتا ہے اور شائد ہوکر ہی رہے ۔ضروری نہیں بغاوتیں اور انقلاب ہمیشہ پر امن ہی رہیں۔ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ سر پھرے انقلابی وہ سر سلامت نہ رہنے دیں جس نے ایک بار بھی الیکشن لڑا ہو۔بہتر ہے کہ بااصول سیاستدان جل کو گدلا کرنے والی مچھلیوں کو نکال باہر کریں۔