آئی جی پنجاب، جیسا میں انہیں جانتا ہُوں

07 جولائی 2013

یہ قسمت کا کھیل ہے کہ خان بیگ بھی آئی جی پنجاب بنا دئیے گئے ہیں۔ خادم پنجاب شہباز شریف تھانہ کلچر میں تبدیلی کے علمبردار ہیں۔ وہ محکمہ پولیس سے کرپشن کا خاتمہ بھی چاہتے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا خان بیگ اس سلسلہ میں ان کی امیدوں پر پورا اتر سکتے ہیں۔ خان بیگ ضلع سیالکوٹ میں پولیس کی سربراہی کر چکے ہیں۔ میں یہاں اُن کی کارکردگی کو دیکھتا رہا ہوں۔ اُن کی شرافت کا بھی میں گواہ ہوں لیکن جب اعجاز احمد شیخ سیالکوٹ سٹی سے ممبر صوبائی اسمبلی تھے اور خان بیگ ایس ایس پی سیالکوٹ تو وہ اتنے کمزور اور بے اثر ضلع کے پولیس سربراہ تھے کہ وہ اپنی مرضی سے تھانوں میں ایس ایچ اوز کی تبدیلی اور تقرری بھی نہیں کر سکتے تھے۔ سیالکوٹ شہر کی حدود میں اعجاز احمد شیخ جیسے طاقتور ایم پی اے کی وجہ سے وہ اور بھی زیادہ غیر م¶ثر تھے۔ سیالکوٹ میں حکومتی ایم پی اے کا ایک چہیتا ایس ایچ او تھا، وہ خود کو خان بیگ ایس ایس پی سے زیادہ طاقتور سمجھتا تھا۔ اگر ایک ایس ایچ او کو اپنے ضلعی پولیس سربراہ کا خوف نہ ہو تو وہ اپنے علاقے میں اندھیر مچا دیتا ہے۔ مختصر یہ کہ خان بیگ ایس ایس پی کے طور پر اپنے ماتحت افسروں کے سامنے بالکل بے بس تھے۔ جب ایک اعلیٰ پولیس افسر اپنے ماتحت افسروں کے اپنی مرضی سے تبادلے نہیں کر سکتا۔ وہ کسی بدعنوانی پر انہیں سزا نہیں دے سکتا۔ وہ کسی ماتحت کو ایمانداری سے اپنے فرائض سرانجام نہ دینے پر اس کی سرزنش نہیں کر سکتا تو وہ پولیس جیسے بے لگام محکمہ میں بہتری کیسے لا سکتا ہے؟۔ خان بیگ صاحب پر مجھ جیسوں کو یہ اعتراض تھا کہ یہ شخص اپنی بے اختیاری پر بھی ناراض نہیں ہے۔ ایم پی اے اعجاز شیخ بہت خوش تھے کہ انہیں شاید ہی پورے پنجاب سے خان بیگ جیسا فرمانبردار کوئی اور ایس ایس پی مل سکتا تھا۔ میں اب سوچ رہا ہوں کہ خان بیگ صاحب اگر ایک ایم پی اے کا حکم ٹالنے کا حوصلہ اپنے اندر نہیں رکھتے تھے تو شہباز شریف جیسے طاقتور اور سخت گیر وزیراعلیٰ کے سامنے اُن کی حالت کیا ہوتی ہو گی۔ ایک پولیس افسر اگر ایک ممبر صوبائی اسمبلی کے روبرو اپنے اختیارات سرنڈر کر دیتا ہے تو بطور آئی جی پنجاب اُن کی کارکردگی مثالی کیسے ہو سکتی ہے؟۔ اگر آئی جی پنجاب کے تمام اختیارات وزیراعلیٰ پنجاب نے خود استعمال کرنے ہیں تو پھر خان بیگ سے بڑھ کر کوئی موزوں آئی جی پنجاب اور نہیں ہو سکتا اور اگر پنجاب پولیس میں خادم پنجاب کوئی انقلابی تبدیلی لانا چاہتے ہیں اور تھانہ کلچر کو بھی واقعی تبدیل کر دینے کی خواہش رکھتے ہیں تو یہ کام موجودہ آئی جی پنجاب پولیس کے بس کی بات نہیں۔ آئی جی پنجاب ایسا ہونا چاہئے جو بے جا سیاسی مداخلت کا مقابلہ کرنے کی جرا¿ت رکھتا ہو اور جو غیر قانونی حکم ماننے سے انکار کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ مجھے معلوم ہے کہ ضلع اور ڈویژن میں پولیس افسروں کی تقرریاں اور تبادلے وزیراعلیٰ خود کرتے ہیں اور آئی جی کا آفس صرف ڈاکخانہ کا کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن ذوالفقار چیمہ جیسا آئی جی پولیس ہو تو وہ اپنا کردار ادا کرنے کیلئے بھی کوئی راستہ تلاش کر لیتا ہے۔ لیکن خان بیگ تو رضاکارانہ طور پر اور خوشی سے اپنے اختیارات سے دستبردار ہو جانے والا پولیس افسر ہے۔ اس کے ذریعے شہباز شریف پنجاب پولیس میں کیسے انقلاب لائیں گے؟ اگر وزیراعلیٰ پنجاب محکمہ پولیس کی موجودہ صورتحال (کرپشن اور نااہلیت) کو ہی برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو پھر موجودہ آئی جی ان کا بہترین انتخاب ہیں۔ معلو م ہوتا ہے کہ سیاست میں بعض باتیں صرف کہنے کیلئے ہوتی ہیں۔ شاید پولیس کلچر اور پٹواری کلچر میں تبدیلی کے نعرے بھی عمل کرنے کیلئے بلند نہیں کئے جاتے۔ شاعر نے کہا تھا ....
آدمی نہیں سنتا آدمی کی باتوں کو۔۔۔ پیکرِ عمل بن اور غیب کی صدا ہو جا
ہماری تو خواہش ہے کہ شہباز شریف ”تھانہ کلچر تبدیل کر دیں گے“ کا صرف نعرہ بلند نہ کریں بلکہ اس معاملہ میں پیکرِ عمل بن کر بھی دکھائیں۔ شہباز شریف گزشتہ پانچ سال بھی وزیراعلیٰ پنجاب رہ چکے ہیں اور انہوں نے ان گنت دفعہ یہ شعر مختلف مواقع پر سنایا ہے۔ ....
ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں۔۔۔ عدل کو بھی صاحبِ اولاد ہونا چاہئے
شہباز شریف مسلسل یہ شعر سناتے چلے جاتے ہیں لیکن عدل صاحبِ اولاد ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا اور کوچہ و بازار میں ظلم اور بچے جنتا چلا جا رہا ہے۔ ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ شہباز شریف خود بھی معاشرے کی موجودہ صورتحال کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔ اگر حالات تبدیل ہو گئے تو شہباز شریف کو نئے اشعار تلاش اور پھر یاد کرنا پڑیں گے۔ حالات میں تبدیلی نہ آنے کا یہ فائدہ ہے کہ وزیراعلیٰ پہلے سے ہی یاد دو تین اشعار سے کام چلا لیتے ہیں۔ ....
خوشبوﺅں کا اِک نگر آباد ہونا چاہئے۔۔۔ اس نظام زر کو اب برباد ہونا چاہئے
ان اندھیروں میں بھی منزل تک پہنچ سکتے ہیں ہم۔۔۔ جگنوﺅں کو راستہ تو یاد ہونا چاہئے
ذرا سوچئے اگر نظام زر واقعی برباد ہو جائے اور ملک سے اندھیرے ختم ہو جائیں۔ اسی طرح ظلم اپنے بچے جننے کا عمل روک دے تو پھر شہباز شریف کو مندرجہ بالا اشعار سنانے کا کہاں موقع ملے گا۔ جب تک ہمارے محترم وزیراعلیٰ کو نئے اشعار یاد نہیں ہو جاتے اس وقت تک ہمیں موجودہ حالات اور موجودہ پولیس کلچر پر ہی گزارہ کرنا پڑے گا۔