بجلی بحران کا جائزہ اور حل

07 جولائی 2013

انتخابات سے پہلے مسلم لےگ (ن) کے تما م سرکردہ لےڈر لوڈشےڈنگ کو چند ماہ مےں ختم کرنے کے وعدے کر رہے تھے۔ جناب شہباز شرےف نے اس سلسلے مےں 6 ماہ ےا اےک سال کے عرصے کا متعدد بار اعلان فرماےا۔ توانائی کے بحران نے ملک کی معےشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دےا ہے اور عوام گر می اور حبس سے پرےشان ہےں اور آئے دن ملک مےں توڑپھوڑ کے واقعات سامنے آرہے ہےں۔ ملک مےں توانائی کی کمی کے حوالے سے چند اہم حقائق درج ذےل ہےں٭ملک مےں حکومتی کنٹرول مےں کل 12 کمپنےاں بنام ناردرن پاور لاکھڑا پاور‘ لےسکو‘ پےپکو‘ حبکو‘ آئسکو‘ ہےسکو‘ جامشورو پاور‘ سےنٹرل پاور‘ کےسو‘ فےلکو اورم ےپکو ہےں۔ ےہ تمام کمپنےاں ہر سال تقر بےاً400 بلےن روپے کے خسارے مےں چل رہی ہےں ۔حکومتی سطح پر توانائی کے مسئلے کے حوالے سے دو حل تجوےز کئے جاتے جو کہ کوئلے سے بجلی پےدا کرنا اور بجلی کے نرخ بڑھانے پر مشتمل ہےں‘ جہاں تک کوئلے سے بجلی بنانے کا سوال ہے اس منصوبے کیلئے کئی بلےن ڈالر درکار ہونگے جو کہ ملک مےں موجود نہےں نےز تےل کی جگہ کوئلے کے استعمال کیلئے سازو سامان کیلئے کئی بلےن ڈالر کی ضرورت ہے جو ہمارے پاس نہےں ہےں۔ مزےد برآں کوئلے کے استعمال سے آلودگی مےں اضافہ ہوتا ہے اس لےے کوئی ترقی ےافتہ ملک اس کیلئے رقم دےنے کو تےار نہےں ہوگا۔اسکے علاوہ کوئلے کی نقل و حمل کیلئے کئی بلےن ڈالر کی ضرورت ہوگی ۔کوئلے سے 500 مےگا واٹ تےار کرنے کیلئے 33لاکھ 37 ہزار کلو گرام کوئلے کی روزانہ ضرورت پڑیگی۔ ےعنی ہمےں کل 100,000 ٹن کوئلے کی روزانہ ضرورت ہوگی جبکہ ہم صرف 8000 ٹن کوئلہ پےدا کر رہے ہےں۔ ان حقائق کی روشنی مےں ےہ بات روزروشن کی طرح عےاں ہے کہ اس وقت ہم کوئلے سے بجلی بنانے کی صلاحےت نہےں رکھتے۔ بجلی کے شعبے مےں ہونیوالے نقصان کا اندازہ اس امر سے کےا جاسکتا ہے کہ اس وقت حکومتی سطح پر چلنے والے 200اداروں سے ملک کو جو 500 بلےن روپے سالانہ کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے اس مےں 400 بلےن 12 بجلی کی کمپنےوں کے حوالے ہے جو کہ لگاتار گھاٹے مےں چل رہی ہےں۔ باقی خسارہ مختلف حکومتی محکموں، دفاق اور صوبائی حکومتوں کے واجبات نہ ادا کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے اگر 12 بجلی کی کمپنےوں کے حالات درست کر لےے جائےں تو تقرےباً 80 فےصد تک رقم بچائی جا سکتی ہے جہاں تک بجلی کے بلوں کی عدم ادائےگی کا تعلق ہے تو وفاقی حکومت اسکے ساتھ وابستہ ادارے تما م خود مختار اور نےم خود مختار ادارے، ڈےری فارم، جوائنٹ سٹاف ہےڈ کواٹر۔ پی اےم سےکڑےرےٹ، الےکشن کمےشن، سپرےم کورٹ، وفاقی وزراءکی رہائش، اےوان صدر، وفاقی پولےس، اےف آئی اے۔ انٹےلی جنس بےورو اور چےرمےن سٹےٹ کی رہائش گاہ سب اس ملک دشمن کارروائی مےں ملوث ہےں۔جہاں تک صوبوں کا تعلق ہے ۔ سندھ 61 بلےن روپے، آزاد کشمےر حکومت 20 بلےن، پنجاب9 بلےن اور کے اےس سی50 بلےن روپے کے نادہندہ ہےں ۔ مزےد برآں400 بلےن روپے کے نقصان مےں آدھی رقم بجلی اور پےسوں کی چوری، ٹرانسفارمر کی چوری، فرنس آئل کی چوری اور بجلی کے تاروں کی چوری کے حوالے سے ہے اور باقی پےسہ وفاقی ، صوبائی حکومتوں اور نجی شعبے کے بلوں کی عدم ادائےگی کی وجہ سے ہوتی ہے۔قارئےن! ملک مےں توانائی کا بحران شدت اختےار کر چکا ہے جس کی وجہ سے ملکی معیشت تباہ ہوگئی ہے اور لوگ ذہنی مرےض بن گئے ہےں۔ 27جون کو وزےر خزانہ نے اےک بےان مےں کہا کہ پانی اور بجلی کی مدمےں خسارہ23 ارب تک پہنچ چکا ہے۔حکومت کے تحت کام کرنیوالی 12کمپنےاں ملکی خزانے کو 400بلےن روپے کا نقصان پہنچا رہی ہےں جوکہ ملک مےں مجموعی نقصان کا 80 فیصد ہے ان تمام کمپنےوں کے سربراہ کی تقرری وزےر اعظم کرتے ہےں جو کہ سےاسی بنےادوں پر کی جاتی ہےں۔ جہاں تک توانائی کے بحران کا حل کا تعلق ہے اس سلسلے مےں ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام بڑی کمپنےوں کو نجی شعبے دے دےا جائے کےونکہ اس وقت صورتحال ےہ ہے کہ صرف بلوں کی عدم ادائےگی کے حوالے سے FESCO 1.5 فیصد LESCO 4 فیصد، GEPCO 1.5 فی صد اور IESO 4.2 فی صد کا نقصان برادشت کررہی ہےں صرف ان اقدامات کی صورت مےں ہی توانائی کے بحران پر قابو پاےا جاسکتا ہے اور بجلی کی قلت کو دور کےا جاسکتا ہے۔