کیوں نہیں بدلتی یہ خُو اپنی

07 جولائی 2013

 ہم بفضل تعالیٰ قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں۔ سونا، کانسی، لوہا، پیتل، تانبا، نمک، تیل، گیس .... اس قدر عنایات ربی کہ ہم دنیا کے امیر ترین ملکوں میں سرفہرست آ سکتے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان بیش بہا مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ مسائل اتنے گھمبیر ہیں کہ اس وقت قائم ہونے والی کسی بھی نئی حکومت کے لئے ان سے نبٹنا بڑی بہادری کی بات ہے۔ آج مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو بھی امن و امان و معاشی بحران جیسے لاتعداد مسائل کے حوالے سے مشکل فیصلے صادر کرنا پڑیں گے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ مشکل و ناپسندیدہ فیصلے کی نوبت اس وقت آتی ہے جب سلجھاﺅ کی کوئی دوسری صورت نظر نہ آ رہی ہو۔ ایسابھی کیا کہ ہم ”لینے والے ہاتھ“ کے بے توقیر سمجھنے جانے کے اصول کے باوجود امدادیں و قرض لینے کے لئے خواہاں رہتے ہیں۔ آئی ایم ایف سے 105 ارب 30 کروڑ ڈالرز کی بھاری رقم کے قرض اٹھانے کے ”نادہندہ ہونے سے بچنے“ کی جو وجہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بتائی ہے اس سے ظاہر یہ ہو رہا ہے کہ ہم معاشی بحالی سے صرف نظر کرکے اگلا قرض لے کر پچھلا قرض اتار کر صرف عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے ڈیفالٹ ہونے سے بچ بچاﺅ کی مضحکہ خیز گیم کھیل رہے ہیں۔البتہ عالمی مالیاتی سودخور اداروں کے قرضوں سے منہ موڑنے کا شاید ایک نقصان ضرور ہو سکتا ہے کہ اور وہ یہ کہ آئی ایم ایف کے ممبر نہ ہو کر عالمی منڈیاں ہماری اجناس و تجارتی لین دین میں دلچسپی ظاہر نہ کریں تاہم یہ نقصان زیادہ خطرناک اس لئے نہیں کہ عالمی منڈیوں میں صنعتی و زرعی و دیگر اجناس کی قبل از رسائی ”پیداواری قوت“ کا ہونا شرط اول ہے۔ اس وقت کا اہم مسئلہ بھی ہمیں توانائی، صنعتی، زرعی و لائیو سٹاک کی پیداواری قوت کو بڑھانا ہے۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ مسلم لیگ ن کو یہ مخدوش معیشت ورثے میں ملی۔ غربت، عدم مساوات، بے روزگاری، افراطِ زر کے تیزی سے بڑھتے ہوئے دباﺅ، گردشی قرضے، کمزور کرنسی، اندرونی و بیرونی سرمایہ کاری کے لئے غیر محفوظ ماحول کے بھیانک چیلنجز مسلم لیگ (ن) حکومت کے سامنے ہیں۔ افسوسناک پہلو تو یہاں صرف اتنا ہے کہ مسلم لیگ ن جس نے اپنی قوم کو معاشی بدحالی سے نکالنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس نے بھی وہی وطیرہ اختیار کیا جو ماضی کی حکومتوں نے اختیار کئے رکھا یعنی قرض اتارنے کے لئے مزید قرض لینے کا وطیرہ.... گویا کہ عالمی سود خوروں کے ٹریپ سے نکلنے کا جیسے کہ کوئی اور راستہ ہی نہیں ہے؟ جو ماضی میں ہوتا آیا ہے اگر وہ ہی آج دہرایا گیا تو عوامی ریلیف کا کیا ہو گا؟ پاکستان نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط کو تسلیم کر لیا ہے۔ اب بجلی کے نرخوں میں اضافہ ہوتا رہے گا؟ ٹیکسوں کا بوجھ بڑھتا رہے گا؟ رعائتوں و اعانتوں یا subsidies کا بھی مکمل خاتمہ کرکے کسانوں، آڑھتوں، تاجروں کو بھی جینے کے ہاتھوں مار دیا جائے گا اور ان سود خور اداروں کو ڈومورکا راگ الاپنے کا پورا پورا موقع فراہم کیا جاتارہے گا۔ حالیہ بجٹ سے آئی ایم ایف آقا کی اجارہ داری کا پیریڈ شروع ہو چکا ہے۔ 17% جی ایس ٹی کا نفاذ، گیس و پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑھوتی اور ود ہولڈنگ ٹیکسوں کے نفاذ میں اضافہ آئی ایم ایف کی مرضی کے شاہکار ہیں۔ کون نہیں کہتا کہ موجودہ نئی حکومت پچھلی حکومتوں کی بدانتظامیوں و بداعمالیوں کی زد میں ہے لیکن پھر بھی عوام کو بھی اپنی روح اور جسم کے رشتے کو برقرار رکھنے کا موقع ملنا چاہئے۔ سرکار آپ پہلے سے ہی معاشی بدحالی کا شکار اس قوم کے لئے مزید مہنگائی کے تباہ کن سیلابی کنارے نہ توڑیں۔ حضوروالا! آپ کی مہنگائی کے تباہ کن سیلاب کے پہلے ایک ماہ کے ریلے میں قوم ڈبکیاں لینے لگی ہے۔ یہ قوم اس خوفناک مہنگائی و بدحالی کی تاب نہیں لا سکتی۔ آئی ایم ایف نے نجکاری کے جو منصوبے دئیے ہیں ان سے روٹی، میڈیسن، ریلوے و دیگر سرکاری ٹرانسپورٹ اور تعلیم مزید مہنگی ہو جانے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ ذرا ماضی میں جھانک کر دیکھئے کہ 1947ءسے 1999ءتک کے دورانئے میں ہمارا کل قرضہ 0.3ہزار ارب رہا ہے جبکہ صرف گزشتہ ایک سال میں ہمارے قرض کی رقم 2 ہزار ارب تک پہنچ گئی۔ اس کے مقابلے میں ملک میں توانائی وسائل و زرعی و صنعتی پیداواری قوت میں اضافے کی شرح 10رہی جو کہ بے حد کم و مایوس کن ہے کہ یہ سب اس لئے ہو رہا ہے کہ ہم قرضے لے کر عوامی بہبود کے سادہ و سہل منصوبے ترک Reject کر دیتے ہیں۔ عوامی بہبود کے اگر مشکل فیصلے ہی کرنا ہیں تو عوام کی معاشی بحالی کا چناﺅ کیجئے کہ اسی عوام نے آپ کو اپنی تقدیر بدلنے اور سکھ پانے کے لئے چنا ہے۔ ہم مزید قرضوں کی وصولی کے بغیر بھی نادہندہ ہو سکتے ہیں؟ ہم خود عالمی مالیاتی اداروں کے کاسہ اسیر ہوئے بغیر اور خود انحصاری کی پالیسی اپنا کر بھی معاشی ترقی کا خواب پورا کر سکتے ہیں؟ یہ کیا کہ ہم معاشی بدحال ہیں اور مقروض بھی؟؟