کرد جوہری سائنسدان کو ایران میں پھانسی دیدی گئی ,سرکاری سطح پر تصدیق نہ ہوسکی

07 اگست 2016 (12:53)
 کرد جوہری سائنسدان کو ایران میں پھانسی دیدی گئی ,سرکاری سطح پر تصدیق نہ ہوسکی

تہران:ایران میں امریکہ سے واپس وطن آنے والے کرد جوہری سائنسدان شہرام امیری کو پھانسی دیدی گئی جبکہ ایرانی حکومت کی جانب سے اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ۔ایران کے ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ ایرانی حکام نے امریکا میں پناہ کی درخواست دینے کے بعد وطن اپس لوٹنے والے کرد جوہری سائنسدان شہرام امیری کو پھانسی دے دی ہے تاہم ایران کے سرکاری ذرائع نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی۔ اس سے قبل جوہری سائنسدان شہرام امیری کو امریکا سے واپسی پر دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ایران میں فارسی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ٹی وی چینلمن و تو نے اپنی رپورٹ میں شہرام امیری کے اہل خانہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ جوہری سائنسدان کوپھانسی دی گئی تاہم ایران جوڈیشل حکام اس خبر پرخاموش ہیں۔خیال رہے کہ شہرام امیری کا تعلق ایران کے مغربی ضلع کرمان شاہ کے کرد اکثریتی علاقے سے تھا۔ وہ ایرانی فوج کے زیراہتمام چلنے والی مالک اشترک انڈسٹریل یونیورسٹی سے وابستہ تھے۔ 2009 میں مناسک حج کے دوران وہ اچانک غائب ہوئے۔ ایک سال بعد معلوم ہوا کہ وہ امریکا میں ہیں. جہاں انہوں نے امریکی حکام سے پناہ کی درخواست کی ہے۔ تاہم ایران کے مطالبے پر وہ دوبارہ تہران لوٹ آئے تھے جہاں ایک ہیرو کے طور پر ان کا استقبال کیا گیا۔ان کا استقبال کرنے والوں میں ایرانی وزارت خارجہ کے سابق معاون حسین قشقاوی بھی شامل تھے۔ بعد ازاں نامعلوم وجوہات کی بنا پر ان کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے اور ریاستی راز افشا کرنے کے الزمات میں انہیں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ایران واپسی سے قبل شہرام امیری کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں انہوں نے دعوی کیا تھا کہ وہ امریکی انٹیلی جنس اداروں کے ہاتھوں یرغمال ہوچکے ہیں۔ جب کہ ایک دوسری ویڈیو میں کہا گیا کہ وہ امریکا میں رہنے تعلیم حاصل کرنے اور امریکا میں پناہ حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔ایرانی وزارت خارجہ نے بھی امریکا پر اپنے جوہری سائنسدان کے اغوا کاالزام عاید کیا تھا تاہم واشنگٹن نے تہران کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ امریکا کا موقف ہے کہ شہرام امیری خود ہی امریکا میں پناہ کے حصول کے خواہاں تھے۔پاسداران انقلاب کی مقرب نیوز ایجنسی فارس نے ایک ذمہ دار سیکیورٹی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ شہرام امیری کو امریکا ایرانی خفیہ اداروں ہی کی پلاننگ کے تحت لے جایا گیا۔ اس کامقصد امریکا کے اہم راز چوری کرنا تھا تاہم وہ امریکی خفیہ اداروں کے ہاتھ لگے اور انہوں نے ایران کے اہم راز امریکیوں کو فراہم کیے تھے۔ سیکیورٹی عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ شہرام امیری نے امریکیوں کو ایران کے بارے میں بیش قیمت معلومات فراہم کی تھیں۔