عوامی تحریک کے دھرنے....کنٹینر آج سے پھر چلے گا : عمران خان‘ طاہر القادری

07 اگست 2016

لاہور+ فیصل آباد+ گوجرانوالہ (سپیشل رپورٹر+ نیوز رپورٹر+ خصوصی رپورٹر+ نمائندہ خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ+ ایجنسیاں) پاکستان عوامی تحریک نے قصاص تحریک کا آغاز کرتے ہوئے لاہور‘ فیصل آباد‘ اسلام آباد‘ گوجرانوالہ‘ کراچی میں دھرنے دئیے۔ لاہور میں مال روڈ پر عوامی تحریک کے زیراہتمام قصاص مارچ اور دھرنے سے ٹیلیفونک خطاب میں طاہر القادری نے کہا کہ آج شہدائے ماڈل ٹاﺅن کے خون کا قصاص لینے اور پانامہ لیکس کے کرپٹ کرداروں کو کیفرکردار تک پہنچانے کی تحریک کا باضابطہ آغاز کر دیا، اب آل شریف کے اقتدار کا خاتمہ ہو گا اور بھارت کے سوا انہیں کوئی پناہ نہیں دے گا‘ حکمران اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ میرے بغیر بھی میرے کارکنوں کا کیا جذبہ ہے جب اس تحریک میں میں شامل ہوں گا تو پھر قاتلوں اور قومی خزانے کے لٹیروں کی گرفتاریاں ہو گی اور وہ اپنے انجام سے دوچار ہوں گے۔ مال روڈ کے احتجاجی مارچ اور دھرنے میں تحریک انصاف کے میاں محمود الرشید، شعیب صدیقی، عرفان ایڈووکیٹ‘ ق لیگ کے کامل علی آغا، چودھری ظہیر الدین اور خواتین میں ایم پی اے خدیجہ فاروقی کی قیادت میں کارکنوں‘ عوامی مسلم لیگ کے عبد القدیر ، امجد گولڈن، جماعت اسلامی کی طرف سے محمد عمیر کی قیادت میں قافلوں نے شرکت کی۔ مارچ میں پیپلز پارٹی، ایم ڈبلیو ایم،سنی اتحاد کونسل کے کارکنوں نے شرکت کی اور سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے انصاف اور قصاص کےلئے عوامی تحریک اور ڈاکٹر طاہر القادری کے مطالبہ کی حمایت کی۔ مارچ کا آغاز جی پی او چوک سے ہوا جو مسجد شہداءسے ہوتا ہوا چیئرنگ کراس پر اختتام پذیر ہوا جہاں پر عوامی تحریک کے ہزاروں کارکنوں نے متحدہ اپوزیشن کے ساتھ دھرنا دیا۔ طاہر القادری نے کہا کہ قوم کو فیصلہ کرنا ہو گا انہیں ریاست پاکستان چاہئے یا سلطنت شریفیہ۔ بیوروکریسی پرائیوٹائز ہو چکی ، نیب ،ایف بی آر، پولیس اور دیگر ادارے آل شریف کی ذاتی ملکیت اور جاگیر بن چکے‘ دکھی دل سے کہہ رہا ہوں اس نظام میں آئین و قانون کا چیک اینڈ بیلنس ختم ہو گیا، انصاف نام کی کوئی چیز نہیں بچی‘ حکمران کاروبار کےلئے اقتدار میں ہیں، یہ ملک کے وفادار ہیں اور نہ انہیں ملکی سلامتی سے کوئی غرض ہے۔ شریف برادران کے جابرانہ اور ظالمانہ اقتدار میں ہٹلر دور کی یادوں کو تازہ کر دیا، شخصی اقتدار کو مضبوط کرنے کےلئے آئین اور قوانین میں ترامیم لاتے ہیں۔ تحریک قصاص کے اعلان کے بعد وزیراعظم نے ترقیاتی فنڈز کے نام پر ایم این اے ،ایم پی ایز پر قومی خزانے نے سے سیاسی رشوت کے دروازے کھول دئےے ‘ بے گناہوں کے قاتل آل شریف کے افراد سن لیں، انصاف بھی ہو گا ،احتساب بھی ہو گا اور قصاص بھی۔ اب کوئی طاقت انہیں انکے انجام سے نہیں بچا سکے گی۔ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کا قصاص صرف عوامی تحریک کا مطالبہ نہیں ہے ، اب اس مطالبہ میں تمام اپوزیشن جماعتیں اور عوامی حلقے بھی شامل ہو چکے ہیں۔ احتجاج کی ابتدا ہے اب یہ قافلہ رکنے والا نہیں اب عوامی مواخذہ ہو کر رہے گا۔ حکمرانوں سے حساب لیکر رہیں گے‘ آج پاکستان کی سالمیت خطرے میں ہے‘ وہ دن دور نہیں جب انصاف کی فتح ہوگی۔ نوازشریف کو کبھی طیب اردگان نہیں بننے دیں گے۔ آرمی چیف شہداءماڈل ٹاﺅن کو انصاف دلائیں۔ گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق عوامی تحریک نے لاری اڈا سے سےالکوٹی دروازہ تک تحرےک قصاص رےلی نکالی گئی جس مےں مرد، خواتےن اور بچوں کی کثےر تعداد موجود تھی۔ رےلی کے شرکاءنے ہاتھوں مےں کتبے اور بےنرز موجود تھے جن پر "خون کا بدلہ خون ہے" کے نعرے درج تھے۔ ریلی میں پاکستان عوامی تحریک کے علاوہ دےگر جماعتوں نے بھی شرکت کی۔ کارکنوں نے سیالکوٹی دروازہ پہنچ کر دھرنا دیا اور حکومت مخالف نعرے بازی کی۔ فیصل آباد سے نمائندہ خصوصی کے مطابق ہزاروں مرد و خواتین کا احتجاجی مارچ بشیر نظامی چوک بیرون ریلوے سٹیشن سے شروع ہوا۔ چوک گھنٹہ گھر میں دھرنا دیا گیا جس سے چوہدری بشارت جسپال، سید ہدایت رسول قادری، رانا طاہر سلیم خاں، میاں کاشف محمود ، رانا رب نواز انجم ، رانا تجمل حسین،حاجی امین القادری، علامہ عزیز الحسن اعوان، چوہدری ناصر حبیب ایڈووکیٹ، شاہد سلیم ، رانا ناصر نوید دیگر اپوزیشن جماعتوں تحریک انصاف کے شیخ خرم شہزاد، فیض اللہ کموکا، پیپلزپارٹی کے ضلعی صدر طارق محمود باجوہ، سنی اتحاد کونسل کے صاحبزادہ حسن رضا ق لیگ کے ضلعی صدر رانا عظیم احمد خاں مجلس وحدت مسلمین سید حسنین شیرازی جماعت اسلامی کے عدنان محمود طارق نے بھی احتجاجی دھرنے سے خطاب کیا۔ قبل ازیں ایک انٹرویو میں طاہر القادری نے کہا حکمران خود کو سب سے زیادہ طاقتور سمجھتے ہیں، ملک میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں، عوامی تحریک کے تی فیز کے دھرنے میں پہلا فیز 30اگست کو ختم ہو گا جس میں اب 16اگست کو 8شہروں میں دھرنے دئیے جائے گے۔ اس کے بعد 20اگست کو مزید 8شہروں میں دھرنے دئیے جائیں گے پھر 27اگست کو مزید 8شہروں میں دھرنے دئیے جائیں گے جبکہ پہلے فیز کا آخری دھرنا طاہر القادری خود 30اگست کو اسلام آباد دیں گے تاہم پہلے فیز میں طاہر القادری خود براہ راست شرکت نہیں کریں گے جبکہ دوسرے اور تیسرے فیز میں وہ براہ راست شرکت کریں گے۔ دوسری جانب عمران خان نے قوم کو احتساب تحریک میں شمولیت کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کا کنٹینر (آج) اتوار سے پھر چلے گا۔ ٹویٹر پیغام میں انہوں نے کہا اگر بدعنوانی میں ملوث طاقتور لوگوں کو نہ پکڑاگیا تو ملک کرپشن سے تباہ ہو جائے گا۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ عوام کا حق ہے کہ وہ حکمرانوں سے جواب مانگیں۔ تحریک احتساب قوم کیلئے فیصلہ کن ہے۔ علاوہ ازیں تحریک انصاف نے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ عمران خان سے جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی نے ملاقات کی جس میں تحریک احتساب سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ عمران خان نے کہاکہ وزیراعظم کے احتساب کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوں گے‘ حکومت کی طرف سے دائر کردہ ریفرنسز سے گھبرانے والے نہیں۔ پشاور سے تاریخی تحریک احتساب کا آغاز کریں گے۔ طاقتور طبقے کا احتساب ضروری ہے‘ پوری قوم کو دعوت دیتا ہوں کہ احتساب تحریک میں ہمارا ساتھ دے۔ ہم اپنی تحریک کے دوران ریاستی اداروں سے مطالبہ کریں گے کہ طاقتور طبقے کو احتساب کے کٹہرے میں لائیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو میں عمران نے کہا اگر حکومت ہماری ٹی او آرز مان جاتی ہے تو ہم تحریک ختم کر دیں گے‘ بصورت دیگر نواز شریف کے جواب نہ دینے تک سڑکوں پر رہیں گے۔ وزیر اعظم کی جانب سے 5ماہ سے جواب نہیں مل رہا ہے خود ٹی او آرز کا فیصلہ کرنا چاہتا ہے‘ عام آدمی اور بادشاہ کے لیے ایک ہی قانون ہونا چاہئے۔ وزیراعظم ملک کا قانون توڑتا رہے اور اپوزیشن خاموش رہے یہ کیسے ممکن ہے جمہوریت میں سیاسی پارٹیاں عوام کے پاس ہی جاتی ہیں‘ ہماری تحریک پاناما لیکس اور احتساب کے لئے ہے اور عوامی تحریک ماڈل ٹاﺅن واقعہ کے قصاص کے لیے ہے اس سانحہ میں 14لوگوں کو مارا گیا تھا‘بلیک میل کر کے پیچھے ہٹانا چاہتی ہے مگر انہوں نے کہا کہ فوج کا کام ثالث بننا نہیں ہوتا جمہوری معاشرے میں فوج حکومت کا ذیلی ادارہ ہے جب اوپر چیف ایگزیکٹو بیٹھا ہو تو فوج ثالث کیسے بن سکتی ہے جمہوری پارٹیاں کبھی مارشل لاءنہیں چاہتیں ہم صرف جمہوری پارٹی کی طرح پرامن تحریک چلا رہے ہیں۔