افتخار چودھری کا کل وزیراعظم کی نااہلی کیلئے ریفرنس دائر کرنے کا اعلان اسلام آباد میں پلاٹ کیلئے چیف جسٹس کو خط

07 اگست 2016
افتخار چودھری کا کل وزیراعظم کی نااہلی کیلئے ریفرنس دائر کرنے کا اعلان اسلام آباد میں پلاٹ کیلئے چیف جسٹس کو خط

اسلام آباد (نامہ نگار+آئی این پی)پاکستان جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی اسمبلی رکنیت ختم کرنے کیلئے نااہلی ریفرنس سپیکر قومی اسمبلی کو پیش کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف نے لندن کے فلیٹس اثاثوں میں ظاہر نہیں کیے ۔ منی لانڈرنگ کی ، ٹیکس چوری کیا اور اپنے منصب کا غیر قانونی استعمال کرکے اپنے کاروبار کو فروغ دینے کے لئے ایس آر اوز جاری کیے۔ سپیکر نے ریفرنس سماعت کیلئے الیکشن کمیشن کو نہ بھجوایا تو اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کریں گے یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے ریفرنس میں 43جعلی اکاﺅنٹ کے ثبوت دئیے ہیں۔ انہوں نے کہا ریفرنس کی ابتدائی کاپی سپیکر سیکریرٹریٹ کو بھجوا دی ہے ۔ سوموار کو ہمارے وکلاءکی ٹیم سپیکر سیکریٹریٹ پیش ہو کر ریفرنس جمع کرائے گی ۔ پریس کانفرنس کے دوران تندوتیز سوالات کے جوابات دیئے اور کئی سوالات ذاتی نوعیت کے تھے جس کا تحمل سے جواب دیا ور بعض سوالات ٹال گئے اور جوابات دینے سے گریز کیا۔ ان سے پوچھا گیا اپوزیشن جماعتیں بھی یہی الزامات لگارہی ہیں اس کے ساتھ کنٹینر پر کھڑے ہوں گے توانہوں نے کہا نوکمنٹس۔پلاٹ کے مطالبہ پر کہا پلاٹ میرا حق ہے جب میں چیف جسٹس تھا تو کسی کے اثر میں نہیں آنا چاہتا تھا اب میں ریٹائرڈ ہوچکا ہوں اس لئے یہ میرا حق ہے۔ایک سوال پر کہا عتیقہ اوڈھو کے خلاف سوموٹو ایکشن کے تحت کارروائی والی بات غلط ہے۔ نوائے وقت نیوز کے مطابق سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری پلاٹ کے حصول کیلئے سرگرم ہو گئے ۔ اسلام آباد کے سیکٹر ڈی 12 میں مخصوص پلاٹ کے حصول کے لیے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کو خط لکھ دیا۔خط میں کہا گیا ہے پلاٹ تنازعہ سپریم کورٹ کے سینئر جج کے اثر و رسوخ کی وجہ سے پیدا ہوا۔ غیر ضروری تنازعہ ختم نہ ہوا تو عدالت سے رجوع کروں گا۔ پلاٹ کیلئے میرا عدالت جانا اعلی عدلیہ کیلئے شرمندگی کا باعث ہوگا۔ ہاوسنگ فاونڈیشن ذرائع کے مطابق سابق چیف جسٹس نے دوران سروس ڈی 12 ٹو کا پلاٹ لینے سے انکار کیا تھا۔ بورڈ قواعد کے مطابق کسی ریٹائرڈ جج کو پلاٹ نہیں دیا جاتا۔