مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بدمعاشی زیادہ دیر نہیں چلے گی: برجیس طاہر

07 اگست 2016

لاہور (خصوصی رپورٹر) بھارت نے گزشتہ 69 برسوں میں کشمیریوں کے جذبۂ حریت کو ختم کرنے کی بڑی کوششیں کیں لیکن کشمیریوں کے دلوں میں آزادی و حریت کی شمع ہمیشہ فروزاں رہی ہے۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیریوں پر بھارتی ظلم وستم میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔ نہتے کشمیری مسلمانوں پر بھارتی مظالم پر عالمی امن کے ٹھیکیداروں کی پراسرار خاموشی معنی خیز ہے۔ ان خیالات کااظہار تحریک پاکستان کے مخلص کارکن‘سابق صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین محمد رفیق تارڑ نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان ، لاہور میں جاری تقریباتِ یوم آزادی کے سلسلے میں منعقدہ خصوصی نشست بعنوان ’’کشمیری عوام پر سفاکانہ مظالم میں اضافہ اور اقوام عالم کی بے حسی‘‘ کے دوران اپنے صدارتی خطاب میں کیا ۔ اس نشست کے مہمان خاص وفاقی وزیر امورکشمیر و گلگت بلتستان چوہدری محمد برجیس طاہر تھے۔ ان تقریبات کا اہتمام تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا گیا ہے۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک ، نعت رسول مقبولؐ اور قومی ترانہ سے ہوا۔ قاری خالد محمود نے تلاوت کلام پاک جبکہ معروف نعت خواں حافظ مرغوب احمد ہمدانی نے بارگاہ رسالت مآبؐ میں ہدیۂ عقیدت پیش کیا۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض سیکرٹری نظریۂ پاکستان ٹرسٹ شاہد رشید نے انجام دیئے۔ محمد رفیق تارڑ نے کہا بانیٔ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناحؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا ۔ عالمی طاقتیں یوں تو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرانے میں بڑی مستعدی دکھاتی ہیں مگر کشمیر کے معاملے میں مجرمانہ چشم پوشی سے کام لے رہی ہیں۔ عالمی طاقتوں کے بھارت کے ساتھ طویل مدتی معاشی مفادات وابستہ ہیں‘ لہٰذا انصاف اور اخلاقی تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر انہوں نے بھی اپنا وزن بھارت کے پلڑے میں ڈال رکھا ہے۔ درحقیقت کوئی بھی عالمی طاقت یہ نہیں چاہتی کہ کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق کشمیر کا الحاق پاکستان سے ہوجائے۔ دراصل وہ عالمِ اسلام کی واحد ایٹمی طاقت کو اقتصادی لحاظ سے پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتیں۔ عالمی برادری کو یہ روش ترک کرنا ہو گی۔ بھارتی فوج اور سیکورٹی فورسز کے ظلم و بربریت کی انتہا یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں80 سے زائد نہتے کشمیری مسلمانوں کو فائرنگ کرکے شہید کردیا گیا جبکہ کشمیری مسلمانوں کی شہادت کے بعد ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران بھارتی فورسز کے ہاتھوں زخمی ہونیوالوں کی تعداد 2000سے زائد ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں اب ہر طرف پاکستانی پرچم لہرا رہے ہیں اور بھارتی قیادت کے پاس اس جذبہ جنون کا کوئی توڑ نہیں۔ برصغیر میں امن و استحکام کے قیام اور بقا کی خاطر مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا از حد ضروری ہے۔ سارک کانفرنس میں پاکستانی وزیر داخلہ نے کھل کر اپنے موقف کا اظہار کیا جس کے نتیجے میں بھارتی وزیر داخلہ کانفرنس کو چھوڑ کر واپس بھاگ گئے۔ موجودہ حکومت کشمیر کے معاملے میں بڑی حساس ہے۔ میری دعا ہے یہ مسئلہ موجودہ حکومت کے دور میں ہی حل ہو۔ وفاقی وزیر برائے امورکشمیر و گلگت بلتستان چوہدری محمد برجیس طاہر نے کہا یہ آزادی کا مہینہ ہے۔ 69 برسوں میں ہم نے بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں اسکے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں بھی پاکستانی پرچم لہرا رہے ہیں۔69 برسوں میں 5 لاکھ سے زائد کشمیریوں نے جام شہادت نوش کیا۔ برہان وانی کی شہادت نے تحریک آزادی کو مزید جلا بخشی ہے۔ اس کے نماز جنازہ میں 5 لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے ۔ کیا بھارت وضاحت کرسکتا ہے کہ یہ 5 لاکھ سے زائد افراد بھی دہشتگرد ہیں؟ 5 لاکھ افراد نے پاکستان کا پرچم لہرایا۔ میرا بین الاقوامی اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے یہ سوال ہے کہ تحریک آزادی کو دہشتگردی کیوں کہا جا رہا ہے؟ نہتے کشمیری 8 لاکھ بھارتی فوج کا مقابلہ کررہے ہیں اور بھارت پھر بھی انہیں دہشت گرد کہتا ہے۔ دس برسوں سے میڈیا اتنا طاقتور ہو گیا ہے اب بھارت کے اندر سے کشمیریوں کے حق میں آوازیں بلند ہورہی ہیں کہ ان پر ظلم بند کرو۔ مجھے یقین ہے کہ اب آگہی آ رہی ہے اور بھارت زیادہ دیر تک کشمیریوں کو اپنے تسلط میں نہیں رکھ سکے گا۔ بھارت کی بدمعاشی زیادہ دیر نہیں چلے گی ۔ پاکستانی وزیرداخلہ نے سارک کانفرنس میں پاکستانی قوم کی صحیح ترجمانی کی اور بھارتی وزیرداخلہ کو وہی جواب دیا جس کا وہ حقدار تھا۔ ہم اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر میں رائے شماری کروانے کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ ہندوستان کی ایک ہزار سالہ تاریخ میں کوئی ایک بھی ایسا واقعہ نہیں جس میں ہندوئوں نے مسلمانوں کے ساتھ مصالحانہ رویہ اختیار کیا ہو۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی اور پاکستان کی طرف سے ان کی حمایت جاری رہنی چاہیے۔ چیئرمین تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ چیف جسٹس(ر) میاں محبوب احمد نے کہا عالمی برادری دہرا معیار ترک اور کشمیر کمیٹی اس مسئلہ کے حل کیلئے فعال کردار ادا کرے۔ چیف کوآرڈی نیٹر نظریۂ پاکستان ٹرسٹ میاں فاروق الطاف نے کہا کہ قائداعظمؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ یہ شہ رگ ہمارے ازلی دشمن بھارت کے قبضہ میں ہے۔ بھارت ٹوٹنے سے بچنا چاہتا ہے تو اسے مسئلہ کشمیر کو حل کرنا ہو گا۔ مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب رانا محمد ارشد نے کہا بھارت کے ظلم و ستم کے باوجود کشمیری پاکستان کے پرچم کو سربلند کررہے ہیں۔ مجھے یقین ہے مقبوضہ کشمیر جلد پاکستان کا حصہ بنے گا۔ تحریک پاکستان کے گولڈ میڈلسٹ کارکن کرنل(ر) اکرام اللہ خان نے کہا عالمی برادری بھارتی مظالم کا نوٹس لے ۔ کشمیری رہنما غلام عباس میر نے کہا آج کشمیری پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں۔ ہم کشمیرکی آزادی تک خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے۔ شاہد رشید نے کہا سات لاکھ بھارتی فوج وحشیانہ کاروائیوں کی مدد سے کشمیریوں کی آواز دبانے کی کوششوں میں مصروف ہے لیکن کشمیری قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کررہے ہیں۔ پاکستانی میڈیا بھارتی مظالم کو ہائی لائیٹ کرے جبکہ عالمی برادری اس مسئلہ کے حل کیلئے بھارت پر دبائو ڈالے۔ پروگرام کے دوران محمد رفیق تارڑ نے چوہدری محمد برجیس طاہر کو یادگاری شیلڈ پیش کی۔ آخر میں مولانامحمد شفیع جوش نے دعا کرائی۔ خصوصی نشست میں خواجہ محمود احمد ایڈووکیٹ، میاں غلام حسین شاہد، چوہدری بدرالدجیٰ ،چوہدری محمد شفیع، سید مشتاق حسین شاہ، بشیر احمد نظامی، محمد یٰسین وٹو، ناصر حسین ڈار، فاروق خان آزاد،سید نواز شاہ، محمد ارشد کمبوہ، ڈاکٹر یعقوب ضیائ،اعجاز حسین بھٹی، اشفاق بھٹی، شہزاد خان ، چوہدری محسن علی،عبدالکریم آسی، چوہدری ذوالفقار، تنویر نثار گجر، انعام اللہ بٹ سمیت فیض محمد مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے کواتین و حضرات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔