شیخوپورہ: گھر کے سامنے سے 6 سالہ بچہ اغوا: کاہنہ، 14 سالہ مغوی واپس گھر پہنچ گیا

07 اگست 2016

شیخوپورہ+ کاہنہ+ فیروزوالا (نامہ نگار خصوصی+ نمائندہ نوائے وقت+ نامہ نگار) مختلف شہروں میں بچوں کے اغوا کے واقعات کم نہیں ہو سکے جس کی وجہ سے لوگوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ فیصل آباد روڈ کی آبادی سکندر آباد سے بھی گھر کے دروازے کے سامنے کھیلتے ہوئے 6 سالہ بچے کو اغوا کار لے گئے۔ واردات پر بچے کے والدین سکتے میں آ گئے۔ علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اہل علاقہ نے ٹائر جلا کر فیصل آباد لاہور روڈ بلاک کر کے 2 گھنٹے تک شدید احتجاج کیا۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر منتشر کیا۔ 6 سالہ سبحان اپنے گھر کے سامنے کھیل رہا تھا۔ فیروزوالا سے نامہ نگار کے مطابق کوٹ عبدالمالک میں آٹھ سالہ لڑکا عبدالسلام لاپتہ ہو گیا۔ خالد محمود کا بیٹا بازار گیا واپس نہیں آیا۔ علاوہ ازیں مریدکے پولیس نے بچے اغوا کی آڑ میں جی ٹی روڈ پر ٹریفک بلاک کرنے اور شہریوں کو ہراساں کرنے کے الزام میں 70 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ کاہنہ سے نامہ نگار کے مطابق 14سالہ بچے کے اغواء کی کوشش ناکام ہو گئی بچہ اغواء کاروں کے چنگل سے نکل کر زخمی حالت میں گھر پہنچ گیا۔ شرافت علی کا بیٹا فیصل دو بجے کے قریب کھیلنے کے لیے گھر سے نکلا ڈیڑھ گھنٹے بعد مسجد کے قریب بے ہوشی کی حالت میں ملا جس کے کپڑے خون میں لت پت تھے اور اس کے جسم پر تیز دھار آلے زخم لگائے گئے تھے جب بچے کو ہوش آیا تو اس نے اپنے اغواء کی ساری داستان سنا دی اس نے بتایا کہ میں فیروز پورروڈ پر کھڑا تھا کہ اچانک کیری ڈبہ میرے قریب آکر رکا جس میں تین مرد اور دوخواتین سوار تھیں جنہوں نے مجھے زبردستی پکڑ کر اند ر بٹھا لیا۔ مزاحمت پر تشدد شروع کیا۔ اوکاڑہ سے نامہ نگار کے مطابق 12 سالہ بچے کے اغوا کا ڈراپ سین ہو گیا والد اور والدہ کو گرفتار کر کے بچے کو بازیاب کر لیا گیا۔ 12 سالہ زیب علی کے اغوا کا مقدمہ درج تھا۔ پولیس نے تفتیش کے دوران شک پر والدہ سے پوچھ گچھ کی تو اصل صورتحال سامنے آ گئی۔