بغاوت میں ملوث نہیں، امریکی سفیر کی پھر تردید، گولن کو ملک بدر نہ کریں:وکلا کا مطالبہ

07 اگست 2016

واشنگٹن/استنبول(آئی این پی/صباح نیوز)امریکہ میں مقیم مسلمان عالم دین فتح اللہ گولن کے وکلا نے کہا ہے کہ ترکی نے اس بات کا ثبوت فراہم نہیں کیا کہ پچھلے مہینے تختہ الٹے جانے کی ناکام کوشش میں وہ ملوث ہیں جس کے بعد ہی ان کی ممکنہ ملک بدری ہو سکتی ہے۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے گولن کے ایک اٹارنی ریڈ وائن گارٹن نے کہا کہ ان کے موکل کے خلاف سازش کے الزامات کی پیچیدگی اور بیہودگی کا پتا لگتا ہے، یہ کہنا کہ بغاوت کے پیچھے ان کا اور سی آئی اے کا ہاتھ تھا، جن الزامات کی شدت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔وائن گارٹن نے اس بات کی جانب توجہ دلائی کہ گولن کی ملک بدری کے لیے دبائو ڈالنے کے لیے ترکی کے تین وزراء امریکہ آئے تھے۔وائن گارٹن کے الفاظ میں اِن الزامات کی انتہا یہ ہے کہ ہم ترک حکومت کی جانب سے سرکاری اقدامات کو دیکھتے ہیں، جو ہمارے لیے باعث تشویش ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ تین وزرا یہاں آئے۔ ہماری سمجھ کے مطابق، وہ امریکہ پر دبائو ڈالنے آئے تھے کہ ملک بدری کی درخواست پر عمل کیا جائے۔امریکہ نے ترکی سے کہا ہے کہ وہ عالم دین کے ملوث ہونے کا ثبوت پیش کرے تاکہ ملک بدری کا عمل شروع کیا جاسکے۔ وائن گارٹن کا کہنا ہے کہ ترکی نے اپنے دعوئوں کی حمایت میں ثبوت فراہم نہیں کیا۔ریڈ گارٹن کے الفاظ میں ملک بدری دراصل قانونی کارروائی ہے۔ ہم قانون دان ہیں، ہم ثبوت پر چلتے ہیں اور ہم باضابطہ عمل کو دیکھتے ہیں۔ ترکی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد واقع میں ملوث افراد کے خلاف کریک ڈاون کا سلسلہ جاری ہے، فتح اللہ گولن سے وابستگی کے الزام میں ایک جرمن شہری کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ جرمنی کے وزارت خارجہ کے مطابق ترک حکومت نے ایک جرمن خاتون کو گھر سے فتح اللہ گولن کی کتابیں ملنے پر گرفتار کرلیا گیا۔ حکومت نے جرمن خاتون پر فتح اللہ گولن سے روابط کا الزام عائد کیا ہے۔ خاتون سے رابطہ کرنے کے لیے جرمن سفارتخانے کی کوششیں جاری ہیں تاہم اب تک خاتون سے رابطہ نہیں کیا جاسکا۔ترکی میں تعینات امریکی سفیر نے ایک بار پھر، گزشتہ ماہ ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکام کوشش میں امریکا کے ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کی ہے۔ اخبار ’’حریت ڈیلی نیوز‘‘ میں امریکی سفیر جون باس کے شائع ہونے والے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں بس یہ کہنا چاہتا ہوں، اب یہ باب بند ہونا چاہیے۔ اپنے ملک پر اس حوالے سے لگنے والے الزامات پر گہرا دکھ اور افسوس ہے جبکہ ترک آرمی کے سابق چیف ِالکر باسبگ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی سی آئی اے کا بھی اس سازش کے پیچھے ہاتھ ہے۔