شام :ہسپتال پر بمباری لڑائی بچوں اور جنگجوئوں سمیت 10 ہلاک فورسز نے داعش سے شہر مینج آزاد کرالیا

07 اگست 2016

دمشق(صباح نیوز+بی بی سی+اے ایف پی+ پی پی ) شام کے شمال میں سیریئن عرب کردفورسز نے ہفتے کے روز حلب صوبے میں داعش تنظیم کے اہم ترین گڑھ منبج شہر کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ اس دوران عرب کرد الائنس فورس کو واشنگٹن کے زیرقیادت بین الاقوامی اتحاد کی جانب سے فضائی معاونت حاصل تھی۔شامی رصدگاہ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ "سیریئن ڈیموکریٹک فورسز نے منبج شہر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور شہر میں دہشت گردوں کی محض چند ٹولیاں ہی باقی رہ گئی ہیں جو مقامی آبادی کے درمیان روپوش ہیں دہشت گردوں کی تلاش میں شہر کے بیچ سرچ آپریشن کررہا ہے 31 مئی کو تزویراتی اہمیت کے حامل منبج شہر پر حملے کا آغاز کیا تھا۔ قبل شدت پسندوں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جنہوں نے خودکش حملوں ، کار بم دھماکوں اور بارودی سرنگوں کا سہارا لے رکھا تھا۔منبج شہر الباب اور جرابلس کے شہروں کے ساتھ حلب صوبے میں دہشت گردوں کا نمایاں ترین گڑھ ہے۔امریکی فضائیہ کی بمباری کے نتیجے میں شہر سے بھاگنے والے عام شہریوں کی ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں۔اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر نے خبردار کیا تھا کہ شہر میں پھنسے 70,000 عام شہریوں کو خطرناک صورتحال کا سامنا ہے۔کرد اور عرب جنگجوں کے اتحاد کے ترجمان نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ شہر کا نوے فیصد حصہ دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کروا لیا گیا ہے۔منبج کو ترکی سے ملانے والی سٹرک دولتِ اسلامیہ کے لیے شام میں جنگجوئوں اور رسد منگوانے کا ایک اہم راستہ ہے۔اے این این کے مطابق شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج نے سویدا نامی جیل پر دھاوا بول کر وہاں پر موجود قیدیوں پر وحشیانہ تشدد کیا ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم چار قیدی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔عرب ٹی وی کے مطابق اسدی فوج قیدیوں پر گولیاں برسا دیں ذرائع ابلاغ میں اطلاعات آئی تھیں کہ سویدا جیل کے قیدیوں نے نافرمانی کا اعلان اس وقت کیا جب اسدی فوج نے جیل کے 1000 قیدیوں کو پھانسی دینے کے لیے دمشق کی ایک جیل میں منتقل کردیا تھا۔ دمشق شام کی فوج نے رسد کی فراہمی کا اہم روٹ کھولنے اور شدت پسندوں کا محاصرہ تنگ کرنے کے لئے 300 سے زائد شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ۔ کہ جیش الفتح کے باغی بڑے پیمانے پر ہونے والی لڑائی کے دوران آرٹلری سکول پر قبضہ کرنے میں ناکام رہے جبکہ شدت پسند باغیوں نے اس کالج پر قبضہ کر لینے کا دعویٰ کیا تھا جس کی بعدازاں شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے تردید کی ۔شام کی فوج نے بھی ملٹری کالج کے قریب ہی باغیوں کی دھماکہ خیز مواد سے لدی گاڑیاں تباہ کردئے جانے کی تصاویر بھی میڈیا کو جاری کیں ۔ دریں اثناء شام کے قومی ٹی وی نے دعوی کیا ہے کہ فوج نے حلب کے جنوب مغرب میں آرٹلری سکول اور قریبی ملٹری کالج پر حملہ کرنے والے 300 سے زائد باغیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔مقامی شہر ادلب سے 15کلومیٹر دور قصبہ میلیس میں ہسپتال پر بمباری سے بچوں سمیت 10 مارے گئے آبررویٹری کے مطابق شامی اور روسی طیارے ایسے حملے کرتے ہیں تاہم ابھی تصدیق نہیں ہو سکی کون ملوث ہے۔حلب میں باغیوں نے 3 ہفتے سے جاری سرکاری فورسز کا محاصرہ توڑنے کا دعویٰ کیا ہے۔ شہریوں نے خوشی کا اظہار کیا۔