ترکی میں انتقام،امیرا لعظیم کا مشورہ

07 اگست 2016

امیر العظیم جدید ترکی پر انسائیکلو پیڈیا کی حیثیت رکھتے ہیں۔ فرخ سہیل گوئندی سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں۔
ان سے ایک نازک ایشو پر بحث ہوئی۔امیرا لعظیم پکڑائی نہیں دے رہے تھے، میں جاننا چاہتا تھا کہ ترک حکومت نے بغاوت کی ناکامی کے بعد سے انتقام کا نہ ختم ہونے والا عذاب ملک پر کیوں مسلط کر دیا ہے۔ کیا یہ جمہوریت کی خدمت ہے۔
امیرا لعظیم سنتے رہے۔اخبارات بند کر دیئے گئے ہیں۔اخبار نویس جیلوں میں بند کردیئے گئے ہیں۔ متعدد ٹی وی چینلز بھی بندش کا شکار ہیں،جرنیلوں کی بڑی تعداد گرفتار ہے۔ہزاروں فوجی برطرف ہو چکے ہیں،پولیس میںبھی تطہیر کی گئی ہے، ایک اندازے کے مطابق لاکھوں افراد ترک حکومت کے انتقام کا نشانہ بن چکے ہیں اور یہ کام کہیں ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔جمہوریت کی جگہ ایک شخصی آمریت پنپ رہی ہے۔
امیرالعظیم نے براہ راست جواب دینے سے گریز کیا۔مگر وہ افسردہ ضرور تھے کہ گولن اور اردوان کے مابین دوری اور اختلافات ایک طرف اسلامی تحریکوں کو کمزور کرنے کا باعث بنیں گے ، دوسری طرف خود ترکی میں استحکام کو نقصان پہنچے گا۔
میںنے ایک اور پہلو سے بات کی کہ فتح مکہ کے بعد مسلمانوںنے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے اسلام مخالفین کو گزند پہنچانے کے حق میںنہیں۔ترک حکومت بھی اسلام کا نام لیتی ہے تو اس نے انتقام کو شعار کیوں بنا لیا۔امیرالعظیم نے اس پر صرف اتنا کہا کہ اردوان کو صرف ان لوگوںکے خلاف کاروائی کرنی چاہئے جو بغاوت کی سازش میں ملوث تھے۔اس حد سے وہ آگے بڑھیں گے تو اپنے آپ کوبھی کمزور کریں گے ا ور ملک کو بھی، اس لئے کہ ان کے خلاف عالمی سطح پر ایک محاذ قائم ہے جو اس تاک میں بیٹھا ہے کہ ترکی میں جس حد تک اسلام کو اثر و نفوذ حاصل ہو چکا ہے،اسکے آگے بند باندھا جائے۔
یہ اسلام درمیان میں کہاں سے ا ٓ گیا۔ میںنے پوچھا۔
جواب ملا کہ آپ اگرترکی نہیں گئے تو اس بات کو بالکل سمجھنے سے قاصر ہوں گے۔ اتاترک کے بعدترکی کو جدیدیت کے جس راستے پر لگا دیا گیا تھا ، ا س میں اسلامی شعائر کے لئے برداشت کی قطعی گنجائش نہیں تھی، اس کی مثال یہ ہے کہ اردوان کی اپنی بیٹی جو اسکارف اوڑھتی ہے، اسے ترک کالجوںا ور یونیورسٹیوںمیں داخلہ نہیںملا تھا، وہ اعلی تعلیم کے لئے امریکہ گئی، اور یہ ستم ظریفی ہے کہ امریکہ میں اسکارف پر کوئی پابندی نہ تھی۔ یہ بھی ترکی میںہوا کہ ایک رکن اسمبلی نے اسکارف پہن کر سیشن میں شرکت کی، تو اسے ایوان سے نکال دیا گیا اور عدالت کے ذریعے اس کی شہریت چھین لی گئی۔او را س بے چاری کو رہائش کے لئے امریکہ میںجلاوطنی لینا پڑی۔امیر العظیم نے ایسی کہانی چھیڑی کہ اس پر انسان دنگ ہو کر رہ جاتا ہے، انہوںنے بتایا کہ ایک وقت تھا کہ امریکہ میں پردے کی سخت مخالفت تھی۔تو اس کا حل علما نے یہ نکالا کہ خواتین سر پہ وگ چڑھا لیا کریں، ا س سے ا سلام کے اس حکم کی پابندی بھی ہو جائے گی کہ خواتین اپنے سر ڈھک کر رکھیں اور امریکیوں کو بھی اعتراض کرنے کا کوئی بہانہ نہیں ملے گا۔ امیرا لعظیم نے کہا کہ اگر کسی کے انسانی حقوق کااحترام ضروری ہے تو انسانی حقوق کی ذیل میں مذہبی حقوق کا احترام اور تحفظ بھی مساوی طور پر ضرور ی ہے۔مگر مغربی دنیا نے تو مذہبی حقوق کاا حترام نہیں کرنا، ادھر نام نہادا سلامی ریاستیں بھی یہ حقوق دینے کے لئے تیار نہیں۔امیر العظیم نے یہ بھی بتایا کہ جب مسلمان پہلے پہل امریکہ گئے ا ور دفتروںمیں کاموں پر لگے تو انہیں ظہر یا عصر کی نماز کے لئے کوئی وقفہ نہیں دیا جاتا تھا،ا س پر مولانا مودودی نے فتوی دیا جو ان کی کتاب رسائل ومسائل میں شامل ہے کہ مسلمان ورکر دفتر سے فارغ ہو کر گھر آئیںتو دن کی قصر نمازیں ایک ساتھ ا دا کرلیں، حالت مجبوری کی وجہ سے ہو سکتا ہے اللہ تعالی ان نمازوں کا وہی ثواب عطا کرے جو وقت پر ادا کرنے کا ثواب ہے، ان مثالوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوںنے مغربی تہذیب کے ساتھ کوئی تصادم مول نہیں لیاا ور نہ اکھڑ پن کا راستہ اختیار کیا۔اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ علما نے انتہا پسندی پر اصرا نہیں کیا جیسا کہ آج ہر کوئی اسلام کی اپنی تعبیر کرتا ہے اورا س کی خلاف ورزی کرنے والے کو دائرہ اسلام ہی سے خارج سمجھتا ہے۔
تو پھر اردوان آخری انتہا پر کیوں چلا گیا ہے، میںنے پوچھا۔
یہ اس کی غلطی ہے اور اس کے عالمی حریف اس کا پورا پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے، امیر العظیم نے جواب دیا۔
کیا گولن کو آپ غدار سمجھتے ہیں۔ میںنے براہ راست سوال کیا۔
نہیں ۔ جواب ملا، اردوان اور گولن ماضی کے حلیف رہے ہیں، ان میں اختلافات ضرور پید اہوئے مگر انہیں دشمنی میں تبدیل کرنے کی منطق سمجھ میں نہیں آتی۔ گولن نے ترکی میں اسلام کے احیا میں اہم کردارا دا کیا ہے جسے فراموش نہیں کیاجاسکتا۔
یہ ترک اسکولوں کا جھگڑا کیا ہے۔ میںنے پوچھا۔ ترک وزیر بھی خاص طور پر انہیں بند کرانے آئے تھے، اردوان نے کہا ہے کہ ان اسکولوں میں دہشت گردی اور غداری کی تربیت دی جاتی ہے۔
امیر العظیم نے بتایا کہ پاکستان میں ترک اسکولوں کو اعلی اور معیاری تعلیمی اداروںمیں شمار کیا جاتا ہے، یہاں فیس بھی زیادہ ہے ا ور میں خود اپنے بچوں کو ان میں داخل نہیں کرو اسکا تھا۔ان اسکولوںمیں پاکستانی نصاب پڑھایا جاتا ہے، ہمارے تعلیمی بورڈ امتحانات لیتے ہیںا ور اسناد جاری کرتے ہیں۔ گولن کا ان سے کیا لینا دینا۔حکومت پاکستان نے اگر ترک حکومت کی فرمائش پوری کرنی ہی ہے تو اس کاایک راستہ یہ ہے کہ ان کو بند کرنے کے بجائے انہیں ایک ٹرسٹ کی تحویل میں دے دیا جائے۔
کیا جماعت اسلامی پاکستان نے ترکی میں بغاوت کی ناکامی پر مٹھائیاں بانٹی ہیںا ور ترک پرچم لہرائے ہیں۔میرا آخری سوال تھا۔
ممکن ہے ہمارے کارکنوں نے اپنے طور پر کسی ردعمل کا اظہار کیا ہو۔ جماعت کی ہائی کمان نے ابھی اس مسئلے پر کوئی غور ہی نہیں کیا تو ہمیں طعنہ کس بات کا۔امیرالعظیم نے مجھے چڑانے کے کہا کہ حکومت پاکستان نے تو باقاعدہ ترک عوم کو مبارکباد دی ہے اور اردوان کی جمہوری حکومت کے خلاف بغاوت کی ناکامی پر مسرت کااظہار کیا ہے۔