حکومت کا کالاباغ ڈیم سے اعلانیہ فرار

07 اگست 2016

قومی اسمبلی کو حکومت نے آگاہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کیلئے صوبوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔
کابالاغ ڈیم پر حکومت کی طرف سے ایسا اعلان ان قوتوں کی فتح ہے جو اس عظیم منصوبے کے عوض بھارت کی طرف سے کروڑوں ڈالر لیتے ہیں۔ 1992ء میں میاں نوازشریف کی ہی حکومت تھی جب چاروں صوبوں میں اس عظیم منصوبے پر اتفاق رائے قائم ہوا تھا۔ بعدازاں بھارتی فنڈنگ سے چلنے والی سیاسی جماعتوں نے اس منصوبے کو متنازعہ بنایا۔ اب بھی سندھ کے وڈیرے اور خیبر پی کے کی بعض سیاسی جماعتیں اس منصوبے کے خلاف کام کر رہی ہیں۔ حکومت کا کام سیاسی جماعتوں کو اس عظیم منصوبے پر قائل کرنا تھا‘ لیکن اس نے قومی اسمبلی میں تمام سیاسی جماعتوں کو اس بات کی یقین دہانی کرا دی ہے کہ وہ صوبوں کو اس کی تعمیر پر راضی نہیں کر رہے جو اس عظیم منصوبے کو سردخانے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اگر کالاباغ ڈیم آج بنا ہوتا تو مون سون کے موسم میں سیلاب میں عوامی املاک یوں تباہ نہ ہوتیں۔ ایک ٹھوس اور قابل عمل منصوبے کو بروقت شروع نہ کرکے ہم صرف دشمن ملک بھارت کی خدمت کر رہے ہیں۔ اس وقت ہمارے دریائوں میں دھول اُڑ رہی ہے جبکہ ہمارے سرسبز کھیت بنجر ہو چکے ہیں اور سیاسی جماعتیں بھارتی پیسے پر قوم کو صحرا میں بدلنے پر بضد ہیں۔ پانی کی قلت اور لوڈشیڈنگ کے عذاب سے ہم کالاباغ ڈیم تعمیر کرکے ہی بچ سکتے ہیں اور وقت کا تقاضا ہے کہ پانی اور بجلی کے بحران کو حل کرنے کیلئے جامع پروگرام تشکیل دیئے جائیں جس میں اولین ترجیح کالاباغ ڈیم کو دی جائے۔ اس ڈیم کی تعمیراتی جگہ کے تین اطراف میں مضبوط اور بلندوبالا قدرتی دیواریں پہلے ہی موجود ہیں۔ صرف ایک دیوار تعمیر کرنے سے ڈیم بن جائے گا۔ حکومت اس منصوبے کو کسی صورت سیاست کی نذر نہ ہونے دے۔