اتوار‘ 3 ؍ ذیقعد1437ھ‘ 7؍ اگست 2016ء

07 اگست 2016
اتوار‘ 3 ؍ ذیقعد1437ھ‘ 7؍ اگست 2016ء

گزشتہ روز سرراہے میں آزاد کشمیر کے نامزد صدر مسعود خان کے حوالے سے کسی غلط فہمی کی بنیاد پر یہ لکھ دیا گیا تھا کہ وہ غیر کشمیری ہیں۔ہمیں اپنی اس سہو پر افسوس ہے جس کیلئے ہم مسعود خان صاحب سے معذرت خواہ بھی ہیں۔ درحقیقت مسعود خان صاحب کا تو کریڈٹ ہی یہ ہے کہ وہ راولاکوٹ کی مشہور سدّھن برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے گریجویشن بھی راولا کوٹ کے کالج حسین شہر سے کی۔ انہوں نے بطور سفارت کار کشمیری ہونے کے ناطے ہی پاکستان کے کشمیر کاز اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی مؤثر وکالت کی اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی حیثیت میں بھی اقوام عالم کے سامنے باوقار انداز میں پاکستان کا کشمیر کیس پیش کرتے رہے۔
ان سے یہ بات بھی غلط طور پر منسوب ہو گئی کہ انہوں نے جنرل مشرف کے چار نکاتی کشمیر فارمولے کو قبول کیا تھا۔ فی الحقیقت وہ مشرف کے اس فارمولے کے وقت دفتر خارجہ کے ترجمان نہیں تھے اور جنیوا میں سفارتی فرائض ادا کررہے تھے جبکہ ان سے منسوب یہ حقیقت تو تاریخ کے ریکارڈ کا حصہ بن چکی ہے کہ جب جنرل مشرف نے کشمیر پر یواین قراردادوں کا سرکاری طور پر تذکرہ نہ کرنے کی پالیسی تجویز کی تو دفتر خارجہ میں انہوں نے ہی اس تجویز کی مخالفت کی اور ایک جابر حاکم وقت کے سامنے یہ کہہ کر ڈٹ گئے کہ اس سے ہمارا کشمیر کیس غیرمؤثر ہو جائیگا۔ انہوں نے دفتر خارجہ کے دوسرے حکام کی مشاورت سے مشرف کی تجاویز انہیں واپس لوٹا دی تھیں۔ تحریک آزادیٔ کشمیر کے ایسے جاندار وکیل کا اب صدر آزاد کشمیر بننا تو تحریک آزادیٔ کشمیر کو مہمیز لگائے گا۔ وزیراعظم نوازشریف نے انہیں صدر آزاد کشمیر نامزد کرکے درحقیقت اپنے کشمیری ہونے کا بھی ثبوت فراہم کیا ہے اس لئے قربانیاں دینے والے کشمیری عوام کو ڈھیروں مبارک کہ انکی آزادی کی منزل اب دور کی بات نہیں رہی۔
٭٭٭٭
جتوئی میں پنچایت کے حکم پر 83 سالہ بزرگ کو جوتے مارے گئے۔
تف ہے ایسی پنچائت پر حیف ہے ایسے لوگوں پر جو ایسے کام کا حکم دیتے اور تماشا دیکھتے ہیں۔ اول تو ایسی پنچائتوں کا وجود ہی باعث ننگ اور مروجہ نظام عدل کی تضحیک ہے۔ ایسی پنچائتوںکے فیصلوں سے تو لگتا ہے یہ سب بھی جرائم پیشہ لوگ ہیں جو کسی کی عزت و حرمت کا خیال نہیں رکھتے۔ 83 سالہ بزرگ سے اگر کوئی غلطی ہوئی بھی تو ان نام نہاد سرپنچوں کو کس قانون نے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ ازخود عدالت لگا کر غیر انسانی سزائیں دیں۔اب پولیس کا فرض ہے کہ وہ کھڑپینچ اور اس کی ٹولی کو اسی طرح سرعام بیچ بازار کے بٹھا کر بابے کے ہاتھوں چھترول کرائے۔ یہ گلی گلی محلے محلے بنی ہوئی نام نہاد پنچائتوں میں زیادہ تر لوگ خود جرائم پیشہ ہوتے ہیں جو اپنی بدمعاشی کی وجہ سے ازخود پنچائتوں کے مامے بنتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭
گرمیوں کی چھٹیاں‘ اوبامہ کی بیٹی ایک ریسٹورنٹ میں ویٹرس بن گئی۔
ہمارے ہاں گرمیوں کی چھٹیاں ہوں تو اعلیٰ اشرافیہ ملک سے باہر اپنے بچوں سمیت ٹھنڈے ٹھار دلبہار ممالک کا رخ کرتی ہیں تاکہ اس وطن عزیز کی گرم ہواؤں سے محفوظ رہیں جس کی بدولت انہیں یہ مال و دولت‘ عز و جاہ نصیب ہوا۔اسکے برعکس امریکہ میں سچ کہیں تو یورپ کے تمام ممالک میں حکمرانوں کے بچے اپنی چھٹیوں میں پارٹ ٹائم جاب کر کے عملی زندگی میں داخل ہونے کی پریکٹس کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ چیز عنقا ہے۔ غریبوں کے بچے چھٹیوں کا کام ختم کرنے کی فکر میں مبتلا ہوتے ہیں۔ انہیں چھوٹے موٹے کام کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ انکے گھر والے بھی شاید سبکی محسوس کرتے ہیں یوں ہمارے نوجوان شروع ہی سے محنت میں عظمت کے فلسفے کو چھوڑ کر مستقبل میں سرکاری نوکری کی غائبانہ امداد کے چکروں میں لگے رہتے ہیں۔اسکے برعکس یورپ اور امریکہ میں سکول دور میں ہی وہاں کے بچے یعنی طالب علم کام‘ کام کام دن رات کام کے فلسفے پر عمل پیرا نظر آتے ہیں۔ اب اس ریسٹورنٹ کی تو سمجھ لیں لاٹری نکل آئی ہے جہاں 15 سالہ نتاشا کام کر رہی ہیں کیوں کہ آنے جانیوالے لوگ ضرور وہاں رکنے کی کوشش کریں گے جہاں دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے صدر کی بیٹی گاہکوں کو چائے کافی‘ برگر یا ہاٹ ڈاگ سرو کرتے ہوئے محنت کی عظمت کو سلام کرتی نظر آتی ہے…
٭٭٭٭٭٭
وزیراعلیٰ سندھ کا بارش میں دورہ کراچی‘ صدر میں چائے اور پراٹھے کا ناشتہ کیا۔
پنجاب کے بعد سندھ میں بھی وزیراعلیٰ نے بارش کے دوران شہر کی حالت دیکھنے کیلئے کراچی کا دورہ کیا جو لائق تحسین ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ شہباز شریف گھٹنوں گھٹنوں پانی میں اتر کر انتظامیہ کے کپڑے خراب کراتے تھے۔مراد علی شاہ نے رعایت سے کام لیتے ہوئے اپنی لگژری گاڑی میں بیٹھ کر انتظامیہ کو زیادہ اذیت نہیں پہنچائی۔ میڈیا والے بھی ہوشیار ہیں قدم بہ قدم وزیراعلیٰ کی کوریج کرتے رہے۔ صدر کی پراٹھا چائے ویسے بھی مشہور ہے وہاں وزیراعلیٰ نے غالباً بمعہ سٹاف کے ناشتہ کیا خوب پراٹھے اور چائے چلی۔ بل آیا 800 روپے تو بوقت ادائیگی سب وزیراعلیٰ کی طرف دیکھنے لگے جیسے غریب دوست بل دیتے ہوئے پیسے والے دوست کو تکتے ہیں۔ ہوش انہیں اس وقت آیا جب وزیراعلیٰ نے کہا کہ انکے پاس پیسے نہیں پرس وہ گھر بھول آئے ہیں۔اس سے پہلے کہ سٹاف بل ادا کرنے کیلئے ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوتا‘ وزیراعلیٰ نے خود اپنے سیکرٹری سے پیسے لئے اور بل ادا کیا۔ نوٹ 5000 کا تھا باقی واپس نہیں لئے یوں ہوٹل والے کی بھی موج ہو گئی۔
مراد علی شاہ میں بھی مزاح کی حس پائی جاتی ہے اسلئے انہوں نے انتظامیہ اور میڈیا کو بتا دیا ہے کہ وہ فلموں والے ایک دن کے وزیراعلیٰ نہیں اسلئے جو کہا ہے اس پر عمل کیا جائے۔ خدا کرے کراچی کی انتظامیہ ان کے حکم کو سنجیدگی سے لے اور اس پر عمل کرے…
٭٭٭٭٭٭