چودھری نثار علی خان کا موقف پوری قوم کی ترجمانی!

07 اگست 2016

کشیدگی کے ماحول میں دو ہمسایہ ممالک جن کے مسائل گھبیر تر ہوں کا مل بیٹھنا ناممکن نظر آتا ہے… اور اُس وقت یہ مزید مشکل ہو جاتا ہے جب امریکا و روس جیسی قوتوں کا جھکائو بھارت کی طرف ہو اور بھارت امریکی آشیرباد پر پاکستان کو آنکھیں دکھارہا ہو اور اسی اثناء میں کبھی وہ کشمیریوں پر ظلم و بربریت کی داستانیں لکھے اور کبھی گائے ماتا کے نام پر مسلمانوں کا شکار کرے… اور رہی بات مذاکرات کی تو دو ممالک کے درمیان مذاکرات اسی صورت میں کامیاب ہوتے ہیں جب بیرونی قوتوں کے مفادات درمیان میں نہ ہوں… ایسی صورت میں امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مسائل میں اس طرح الجھا رہے کہ اسے اپنے عوام کی خدمت کرنے کا موقع ہی نہ ملے اور وہ اپنے تمام تر وسائل بیرونی قوتوں سے لڑنے میں جھونکتا رہے… اورچین کے ساتھ سی پیک منصوبہ کسی طرح بھی پایہ تکمیل تک نا پہنچ سکے… اسی لیے دنیا کی ’’گریٹ گیمز ‘‘ میں پاکستان اپنے جغرافیہ کی وجہ سے پستا رہا ہے … اور یہ وہی گریٹ گیمز ہیں جن کا میں اکثر اپنے کالموں میں ذکر کرتا رہتا ہوں… خیر اگر ہمارے سیاستدان و حکمران غیرت کا لبادہ اوڑھ لیں تو کسی بیرونی گریٹ گیم کا مقابلہ آسانی سے کیا جا سکتا ہے… آج کی سیاست میں ان سیاستدانوں میں چودھری نثار علی خان منفرد نظر آئے… حالانکہ میں حکمران جماعت کی پالیسیوں سے سخت نالاں رہتا ہوں لیکن جو تعریف کے قابل شخصیات ہوں ان کے کام کی ضرور تعریف کرنی چاہیے…
گزشتہ دنوں سارک وزراء داخلہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کی میزبانی پاکستان کے حصے میں آئی…اس کانفرنس میں وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے بھارتی وزیر داخلہ کے ’’لچھن‘‘ دیکھ کر اپنی لکھی ہوئی تقریر ایک طرف رکھ دی اور بھارتی وزیر داخلہ اور بھارتی پالیسیوں کو آڑھے ہاتھوں لیا… حقیقت میں جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم یا سارک جنوبی ایشیا کے 8 ممالک کی ایک اقتصادی اور سیاسی تنظیم ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی علاقائی تنظیم ہے جو تقریباً 1 اعشاریہ 57 ارب لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ تنظیم 8 دسمبر 1985ء کو بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، مالدیپ اور بھوٹان نے قائم کی تھی۔ 3 اپریل 2007ء کو نئی دہلی میں ہونے والے تنظیم کے 14 ویں اجلاس افغانستان کو آٹھویں رکن کی حیثیت تنظیم میں شامل کیا گیا تھا۔جنوبی ایشیا کی ترقی میں سارک کا کردار موثر نہ ہونے کی بڑی وجہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری سیاسی اور عسکری کشیدگی کو سمجھا جاتا ہے۔ انہی اقتصادی، سیاسی اور علاقائی کشیدگیوں کے باعث جنوبی ایشیائی ممالک مشترکہ معیشت کا فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں۔ اپنے قیام سے آج تک یہ تنظیم ’’نشستند، گفتند، برخاستند‘‘ کی مثال بنی ہوئی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے حالیہ سارک وزرائے داخلہ کانفرنس کے دوران بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی الزام تراشی کا مدلل، واضح اور دو ٹوک انداز میں جواب دیا ۔ انہوں نے پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان سارک کو کامیاب تنظیم دیکھنا چاہتا ہے،پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، ڈھاکہ، کابل اور پٹھان کوٹ کی طرح پاکستان میں بھی دہشت گردی کے کئی واقعات ہوئے ہیں جن میں ہمارا قیمتی جانی نقصان ہوا، الزام برائے الزام کی سیاست گزشتہ 6دہائیوں سے چلی آ رہی ہے، پاکستان تمام ممالک کے ساتھ پر امن تعلقات کا خواہاں ہے، دہشتگردی کا ہر واقعہ قابل مذمت ہے، پاکستان میں آرمی پبلک سکول پشاور، چارسدہ یونیورسٹی اور سانحہ لاہور جیسے واقعات پیش آئے، الزام برائے الزام سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، وقت آگیا ہے کہ تمام معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے، اب انتہا پسندانہ سوچ کا خاتمہ کرنا ہوگا، پرامن ایشیا کے لئے سازگار ماحول بنانا ہوگا،خطے کو بے پناہ چیلنجز کا سامنا ہے، خطے کو منی لانڈرنگ‘ ہیومن ٹریفکنگ جیسے جرائم کا سامنا ہے اور جرائم سے نمٹنے کے لئے مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی‘‘۔ انہوں نے کشمیر کی صورت حال پر دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ’’ اقوام متحدہ کی قرار دادو ںکے مطابق کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے نہ کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام پر ان کی جدوجہد آزادی کو دبایا جائے، نہتے شہریوں پر طاقت کا استعمال انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، آزادی کی جد وجہد اور دہشتگردی میں فرق ہے، مقبوضہ کشمیر میں شہریوں پر وحشیانہ تشدد دہشتگردی ہے، پاکستان کے اندورنی معاملات میں ڈھٹائی کے ساتھ مداخلت کی جا رہی ہے، سمجھوتہ ایکسپریس ہمارے لیے بہت تشویش کا باعث ہے، ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے سمجھوتہ ایکسپریس کے ذمہ داران کو کٹہرے میں لایا جائے، تمام ممالک سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، پاکستان نے کبھی مذاکرات کے دروازے بند کیے نہ ہی مذاکرات شروع کرنے سے پہلے پیشگی شرائط رکھی ہیں‘‘۔
میرے خیال میںمطابق بھارتی وزیر داخلہ پاکستانی ہم منصب کے بیان کردہ سچ کی کڑواہٹ برداشت نہ کر سکے۔ اور بھارتی ریاستی دہشت گردی کا چہرہ بے نقاب ہونے پر گھبراہٹ کے عالم میں وفد کے ہمراہ سیشن ادھورا چھوڑ کر واپس چلے گئے۔وہ پاکستانی وزیر داخلہ کی تقریر اور گزشتہ روز راج ناتھ سنگھ کی آمد پر حریت کانفرنس، جماعت اسلامی، جماعت الدعوۃ اوردوسری جماعتوں کے احتجاج پر برافروختہ تھے، وہ پاکستانی میڈیا میں ان کی پاکستان پر تنقید بالواسطہ طور پر کشمیری حریت لیڈروں کو دہشت گرد قرار دینے کے ریمارکس پر مشتمل تقریر پر کوریج نہ ہونے پر بھی سیخ پا تھے۔ یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ خطے کے ممالک میں باہمی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے سارک کا پلیٹ فارم قائم کیا گیا تھا۔ سارک میں پاک بھارت کشیدگی خاص طور پر کشمیر سمیت باہمی تنازعات کے حق میں بھارتی ہٹ دھرمی سارک کے مؤثر کردار ادا کرنے کی راہ میں ہمیشہ بڑی رکاوٹ رہی ہے۔
اگر قوم کو یاد ہو تو گزشتہ سال چوہدری نثارنے امریکا اور برطانیہ کا سرکاری دورہ کیا تھا جس میں پاکستان کے موقف کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں عالمی منشیات کی روک تھام کے سلسلے میں پاکستانی کامیابیوں، کاوشوں اور مستقبل کے لائحہ عمل کے سلسلے میں ملکی نقطہ نظر پر روشنی ڈالی۔ بہرکیف چوہدری نثار علی خان کو سلام کہ انہوں نے باطل کے سامنے کلمہ حق کی آواز بلند کی اور انہوں نے دہشتگردی اورشدت پسندی کیخلاف جنگ میں کامیابیوں کو اجاگر کیا… یہ بات تو طے ہے کہ چودھری نثار اپنی لگن، مستقل مزاجی اور بیباکی کی وجہ سے اپنوں غیروں سب کی آنکھ میں کھٹتکتے محسوس ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں بھارت اور پی پی پی کے لوگ شاید اسی وجہ سے چوہدری نثار سے ملاقات کے خواہشمند نظر نہیں آتے کہ وہ اپنے اصولی موقف پر ڈٹے رہنے کے عادی ہیں۔
بہتر ہے کہ تمام سیاسی رہنما بھی چوہدری نثار علی خان کی تقلید کریں ۔ اپنے اختلافات کو اصولی اور بہتر سے بہتر پالیسی کے نفاذ کی جنگ تک محدود رکھیں۔ ایک دوسرے کی ذات پر کیچڑ اچھالنے کی روایت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن کر دیں اس میں ان کی اور ملک و قوم سب کی بھلائی کا راز مضمر ہے۔ اور رہی بات چوہدری نثار کے جذبہ حب الوطنی کی تو میرے خیال میں انہیں ان سب کرپٹ افراد کی پروا کیے بغیر وطن عزیز کے بارے میں سوچنا چاہیے ملک کے وسیع تر مفاد میں پیپلز پارٹی کی کرپشن کی داستانوں کو قوم کے سامنے آشکار کرنا چاہیے تاکہ ملک میں صاف سیاست کو فروغ دیا جاسکے۔ اور دعا یہ کرنی چاہیے کہ تمام سیاستدانوں کو چوہدری نثار جیسی حکمت عملی اپنانی چاہیے تاکہ ایک ہی موقف پوری قوم کی آواز بن جائے اور دوسری قومیں پاکستان پر کبھی انگلی نہ اُٹھا سکیں… یا یوں کہہ لیں کہ پاکستان میں اپنے اصولی موقف پر قائم رہنے والے پانچ دس مزید چوہدری نثار ہونے چاہئے جو اندر کھاتے عوام کے جذبات کا مذاق اُڑانے کی بجائے صحیح معنوں میں عوام کے موقف کی ترجمانی کریں… اگر ایسا ہو جائے تو دنیا کی کوئی طاقت نہیں جو پاکستان کو ترقی سے روک سکے… !