ادھورے خوابوں کی تعبیر

07 اگست 2016

برازیل کا نامور لکھاری پائیلوکوہائیلو اپنے شہرہ آفاق ناول ’’الکیمسٹ‘‘ میں ہیرو کو اپنے خوابوں کی تعبیر کے حصول کے لئے مشکل ترین صحرا (جسے موت کی سرزمین کہا جاتا ہے)کے سفرپر روانہ کرتا ہے۔ نوجوان ہیروامید کا دامن ہاتھ میں تھامے، آنکھوں میں بیم ورجاء کے خواب سجائے منزل کی طرف رواں دواں رہتا ہے۔ امید پرست پائیلوکوہائلیو کے ناول کا تھیم یہ ہے کہ جب کوئی باہمت انسان اپنے خوابوں کی تکمیل خواہ یہ ڈاکٹرشاہد صدیقی کے آدھے ادھورے خواب ہی کیوں نہ ہوں …کے لئے جان جوکھوں میں ڈال کر سچی نیت اور بھرپور جذبوں سے ہم آہنگ ہوکر ان کی تعبیرکو اپنی زندگی کا مقصد حیات بن کر اس کی مددگار بن جاتی ہیں ۔ سماج کی بہتری اور اجتماعی فلاح وبہبود کے خواب سینچنے والوں کی زندگی اہل طریقت کی راہ پر چلنے والے ان سالکوں کی مانند ہوتی جو شمس تبریز کے ہد ہد کی طرح خدا کی تلاش میں نکلے ہو مگرجب ان میں سے چند خوش نصیب ہدہد ’’مرشد کامل‘‘ کے آستانے پر پہنچتے ہیں توانہیں وہاں اپنے ہی طرح کا ہد ہد دکھائی دیتا ہے۔ وہ حیران وپریشان ہوکر سوچتے ہیں کہ کہ کیا انہوں نے اس قدر کٹھن اور صعوبتوں سے بھرپور سفر اس لئے طے کیا کہ منزل مقصود پر پہنچ کر انہیں اپنا آپ ہی ملے۔ توپھرقدرت کی ندا سنائی دیتی ہے درحقیقت اپنے آپ کو پالینے کی جستجو میں خدا کی خوشنودی کے لئے راہ وفا کا سفرہی توانسان کے من کو بدلتا ہے ۔ جب من کی دنیامخلو ق خدا کی بھلائی کے خواب دیکھے اور اس کے لئے زندگی کے پرخار راستوں پر خوابوں کا راہی آبلہ پاچلتا جائے تووہ اپنے من میں ڈوب کر خدا شناس بن جاتا ہے یا وحدت ابوجود صوفی کی طرح خدائے بزرگ وبرترکے بحربے کراں میں اپنی ہستی کو غرقاب کرنے میں کوئی تامل نہیں کرتا ہے۔ اسی لئے علامہ اقبال کہتے ہیں …؎
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
تو میرا نہیں بنتا تو نہ بن، اپنا تو بن
جذبے سچے ہوں توخوابوں کی حقیقت کا روپ دینے کے لئے قدرت اپنا کردار ضرورآدھا کرتی ہے۔ ڈاکٹرشاہد صدیقی نوجوانی ہی سے آنکھوں میں ادھورے خواب سجائے تعلیم کے ذریعے سماجی تبدیلی کے خواہاں رہے وہ اپنے ناول آدھے ادھورے خواب میں ایک ایسے استاد کی کہانی بیان کرتے ہو۔ جو نامور دانشور پروفیسر فتح محمد ملک کے بقول ڈاکٹر شاہد صدیقی کے ناول کا ہیرو زندگی اور علم کی نظریاتی بنیادوں کو ہم آہنگ کرتا ہے۔ وہ اعلیٰ و ارفع آئیڈیل کی خاطر ذاتی دکھوں کو بالائے طاق رکھ کر تعلیم کا مقصد انسانیت کا بلند معیار قرار دیتا ہے۔ میری نظر میں شاہد صدیقی کے ناول کا مرکزی کردار مزاحمت کی علامت ہے جو جبر، ظلم اور معاشرتی ناانصافی کے خلاف احتجاج کی صدا بلند کرتا ہے۔ جو شخص کسی بھی معاشرے میں اجتماعی ظلم و ستم کے خلاف اپنی احتجاج کی صدا بلند نہیں کرتا ہے تو وہ کتنا بھی بڑا دانشور، استاد یا سماجی رہنما کیوں نہ ہو، وہ انسان کہلانے کا حقدار نہیں ہوتا ہے۔ اس کا علم محض ایک سراب کی مائند ہوتا ہے جو کبھی کمرشل پراڈکٹ بن کر بکتا ہے تو کبھی انسانی ذات میں تکبر اور غرور کے کانٹے بو دیتا ہے۔ حقیقی استاد اور جینوئن ماہر تعلیم تو ہولسٹک سکول (Holistic School) یعنی تعلیم انسانی شخصیت کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے، سے تعلق رکھتا ہے یعنی "Education is for Healing" اسی جذبہ صحر کرکے ساتھ وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے اپنے ادارے میں سپیشل طالب علموں کے لئے Accerrihility Centre قائم کیا جو بصارت سے محروم طالب علموں کے لئے کمپیوٹر سافٹ ویئر کے ساتھ سننے کی سہولت فراہم کرتا ے اور ایم فل پی ایچ ڈی کے طلبہ و طالبات جو ’’سپیشل‘‘ ہیں، میں دانستہ جسمانی عوارض کے لئے معذور کا لفظ استعمال کرنے سے گریز کرتا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب کے ادھورے خواب کی تکمیل کی انتہا سپیشل طالب علموں کے لئے یہی سنٹر ہے جو قابل دید ہے۔ کبھی وہ ٹھٹھہ جاکر غریبوں کے بچوں کی تعلیم کے مراکز قائم کرتے ہیں تو کبھی جیلوں کے قیدیوں کے لئے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ذریعے مفت تعلیم و تربیت کرتے ہیں۔ آج علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں 13 لاکھ سے زائد طلبہ و طالبات انتہائی کم فیس پر معیاری تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ وگرنہ ہمارے پبلک سیکٹر اور ادارے بھی کمرشلائزیشن کے تحت سیلف فنانسنگ پر لاکھوں روپے فیس چارچ کررہے ہیں۔ 13 اگست کو کاروان یکجہتی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ روانہ ہورہا ہے۔ علامہ اقبال یونیورسٹی اسلام آباد کی مختلف یونیورسٹیوں کے دو ہزار سے زائد طلبہ و طالبات کوئٹہ اپنے بلوچ بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ 14 اگست کو قومی پرچم بلند کررہے ہیں
۔ اس یکجہتی قافلہ کے لئے جنر راحیل شریف، جنرل عامر ریاض اور وطن کی محبت میں سرشار ڈاکٹر شاہد صدیقی اور ڈاکٹر مختار سمیت وہ تمام طالبہ و طالبات اور اساتذہ کی کوششیں اور جذبے لائق تحسین ہیں کہ جو اس بلوچستان …؟؟؟ کبھی پاکستان کا پرچم لہرانا ناممکن تھا۔ وہاں بلوچستان یونیورسٹی کے ماہرین تعلیم اور کمانڈنٹ سدرن کمانڈ جنرل عامر ریاض کی کاوشوں سے 14 اگست کو پنجاب، اسلام آباد اور بلوچستان کے ہزاروں طلبہ و طالبات بقول شاہد صدیقی ’’اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں‘‘ تو میں نے ان سے عرض کی کہ آپ کا ایک ادھوراخواب تو 14 اگست کو پایہ تکمیل کو پہنچ رہا ہے۔ ڈاکٹر صاحب ایسے تخلیق کار ہیں جو خون جگر سے پرانی اشیاء کو نئی ترتیب اور شکل دے کر خوبصورتی کے ایسے رنگ اجاگر کر دیتے ہیں کہ محسوس ہوتا ہے کہ کوئی نئی تخلیق ہے۔ وہ کیفے ٹیریا میں قطار میں کھڑے ہوکر اپنی ہی یونیورسٹی میں خود بل ادا کرتے ہیں، خود بنک جاتے ہیں اور خود ہی یونیورسٹی کے جم میں جاتے ہیں۔ ان کے ہمراہ کوئی گارڈ، کوئی پروٹوکول افسر نہیں ہوتا ہے۔ وہ میڈیا کے نامور افراد کے ساتھ ڈائیلاگ کرتے رہتے ہیں اور ہمہ وقت تعلیم اور معاشرے میں بہتری کے لئے مختلف امکانات کی تلاش میں رہتے ہیں۔ پروفیسر شاہد صدیقی ایک نظریاتی آدمی ہیں، اپنے ناول کے مرکزی کردار کے ذریعے وہ پروفیسر کو ایک انقلابی کے طور پر اس طرح پیش کرتے ہیں، ناول کی ہیروئن اپنی ماں کو ٹیلی فون پر بتاتی ہے: ’’ماں انہیں پولیس پکڑ کر لے گئی ہے، سررائے قید تنہائی میں ہیں اور ان پر بہت تشدد ہورہا ہے‘‘۔ جیل؟ میری ماں بولی، پروفیسر کا جیل میں کیا کام؟ ماں وہ مشینی پروفیسر نہیں ہے، وہ تعلیم اور معاشرے کے تعلق کو اہم سمجھتے ہیں، وہ کہا کرتے تھے کہ یہ ہم سب کا معاشرہ ہے، اس کی تعمیر کے لئے ہم سب کو قربانی دینی ہوگی۔ وطن سے محبت قربانی مانگتی ہے۔ کبھی مال، کبھی مرتبے اور کبھی جان کی۔
آخر میں فراز مجھ کو یاد آرہا ہے …؎
شکوہ ظلمت شب سے تو بہتر ہے
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جائیں