مسئلہ کشمیر کی قومی حمایت

07 اگست 2016

کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ نہ صرف کہا جاتا ہے بلکہ حکمرانوں کی طرف سے سمجھا بھی گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی عالمی منظرنامہ میں کشمیر پالیسی کو حکومت اپوزیشن اور عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہوتی ہے۔ تاہم ہر حلقہ اپنی دانست کے مطابق مسئلہ کشمیر پر عوامی جذبات اور دلی لگاﺅ کی بہتر ترجمانی کےلئے وقتاً فوقتاً حلقہ ارباب اختیار کو اپنی سفارشات پیش کر دیتے ہیں۔ اس طرح کی مثبت نظریاتی مدد اور مشاورت کو ہر حکومت بخوشی قبول کرتی ہے اور کوشش کرتی ہے کہ بغور جائزہ کے بعد سفارشات کو پاکستان کی کشمیر پالیسی میں جگہ دی جاسکے۔ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال نہایت ہی کشیدہ صورت اختیار کر گئی ہے۔ تقریباً ایک ماہ سے جاری کرفیو نے وادی کے باسیوں کیلئے معمولات زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ اب تک 70 کے قریب معصوم شہریوں نے بھارتی بربریت کو ثابت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ اس صورتحال میں جب مقبوضہ کشمیر کے ہمارے مسلمان بھائی بھارت کے جنگی جرائم کا سامناکر رہے ہیں۔ کچھ سیاسی عناصر تنقید برائے تنقید کے اصول پر عمل پیرا ہوتے ہوئے حکومت کی کشمیر پالیسی کو ہدف تنقید بنائے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں جاری کشیدہ حالات کی بلند آواز میں مذمت کی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے سرکاری سطح پر یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا اور 20 جولائی کو ملک سمیت دنیا بھر میں پاکستانی سفارتخانوں میں مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے اور کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کیلئے تقریبات منعقد کی گئی۔ ان تقریبات میں برہان وانی سمیت آزادی کشمیر کے بہادر سپاہیوں اور معصوم شہریوں کی شہادت پر انہیں خراج تحسین پیش کیاگیا۔ وزیراعظم نے برہان وانی کو ”آزادی کا سپاہی“ قرار دیا۔حکومت نے سفارتی سطح پر احتجاج کے ہر طریقے کو استعمال کیا تاکہ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی مدد کے وعدے کو بھرپور انداز میں پورا کر سکے اور حکومت کو ان اقدامات کو تمام ریاستی اداروں سمیت عوام کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ بھارتی ہائی کمیشن کو احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔ دفتر خارجہ میں اہم ممالک کے مندوبین کیلئے بریفنگ دی گئی۔ اس کے علاوہ حال ہی میں دفتر خارجہ میں پاکستانی سفراءجو اہم ممالک میں تعینات ہیں کو بلا یا گیا اور کانفرنس کا انعقاد ہوا تاکہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے جامع حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔ تین روزہ سفراءکانفرنس میں جس میں اقوام متحدہ میں تعینات مستقل مندوب سمیت امریکہ، برطانیہ، روس اور دیگر اہم ممالک میں تعینات پاکستانی سفیر شامل تھے۔ سفراءکانفرنس کے اختتامی روز وزیراعظم نواز شریف نے تمام سفراءکو پاکستان کی کشمیر پالیسی کو موثر طور پر اجاگر کرنے کی ہدایت کی تاکہ کشمیر کو عالمی سطح پر بھرپور انداز میں پیش کیا جا سکے۔پاکستان ہمیشہ کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی بھرپور حمایت کرتا رہا ہے اور عالمی تنظیموں اور اہم ممالک کی توجہ اس بات پر مبذول کرانے کیلئے کوشاں رہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل کرانے میں اپنا کردار ادا کریں۔اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملداری نہ صرف پاکستان اور بھارت بلکہ کشمیری عوام کے مکمل مفاد میں ہے۔
یہ قرار دادیں کشمیری عوام کو بنیادی انسانی حق تفویض کرتی ہیں جن کے تحت وہ آزادانہ ماحول میں اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔ پاکستان تمام تر جذباتی لگاﺅ کے باوجود کبھی بھی کشمیریوں کی مسئلہ کشمیر میں سیاسی شرکت پر قدغن نہیں لگاتا بلکہ ہر بار بھارت کے اس مسئلے کو دو طرفہ مسئلہ قرار دینے کے جواب میں پاکستان عالمی سطح پر اس بات کی وکالت کرتا رہا ہے کہ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے جس میں کشمیری ایک کلیدی حیثیت میں تیسرا فریق ہے۔ پاکستان میں حکومت، اپوزیشن، ریاستی ادارے اور عوام کشمیریوں کی حیثیت کو کھلے دل سے تسلیم کرتے ہیں اور انہیں سیاسی مستقبل کا اختیار دینے کیلئے کوشاں ہیں۔ بلکہ اسی تناظر میں اگر پاکستان کے اندرونی سیاسی حالات کا جائزہ لیا جائے تو حکومت پر تنقیدی سیاسی عناصر کو پاکستان میں بھی رائے کا احترام کرنے کی روش کو اختیار کرنا چاہئیے۔ منتخب حکومت عوام کی کثرت رائے اور حمایت سے وجود میں آتی ہے اور اپوزیشن کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیئے کہ احتجاج بے شک جمہوریت کا حسن ہے لیکن دھرنے جو عوام کی کثرت رائے سے ہم آہنگ نہ ہوبے جا سیاسی انتشار کا باعث بنتے ہیں۔ یہ سیاسی انتشار ملک کی نہ صرف معاشی و سماجی ترقی کو روک دیتا ہے بلکہ عالمی تناظر میں بھی بین الاقوامی تعلقات اور قومی پالیسیوں کی ترجمانی کمزور اور غیر موثر کرتا ہے۔ تمام سیاسی عناصر کو ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا تعمیری کردار ادا کرنا چاہیئے تاکہ ملک کے معاشی و سماجی حالات مثالی ہو اور پاکستان کشمیر سمیت تمام سفارتی مسائل کی بھرپور وکالت کر سکے۔ معاشی طور پر مضبوط اور سیاسی طور پر مستحکم پاکستان بلاشبہ مستقبل میں کشمیر حق خود ارادیت کے تحت شمولیت کےلئے باعث تقویت ہو گا۔ مسئلہ کشمیر کی حمایت سیاسی مقاصد سے بالاتر قومی حیثیت میں تمام سیاسی عناصر، اداروں اور عوام کی طرف سے ہونی چاہیئے کیونکہ یہ ہماری قومی غیرت و حمیت کی عکاس ہے۔