ناتھ ‘ نثار‘ نواز‘ لیگ

07 اگست 2016
ناتھ ‘ نثار‘ نواز‘ لیگ

محترمہ بینظیر بھٹو کی پہلی وزارت عظمی کے دوران بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی (دسمبر 1988ءاور جولائی 1989ئ) دو مرتبہ اسلام آباد آئے۔ ان دنوں غلام اسحٰق خان 58 ٹوBکے اختیارات سے لیس صدر، جنرل اسلم بیگ طاقتور آرمی چیف اور اعتزاز احسن وزیر داخلہ تھے۔ راجیو گاندھی کی آمد پر اسلام آبادکی شاہراہوں اور عمارتوں سے وہ بورڈ اتار دئیے گئے جن پر کشمیر لکھا تھا۔ ”شاہراہ ِکشمیر“ کتبہ بھی اس حکم نامے کی نذرہوگیا۔ راجیو بینظیر ملاقات سے قبل وزیر اعظم ہاﺅس کی ڈی بگنگ ”را“ نے کی تھی جو مو¿ثر نہ رہی۔ خالصتان کی آزادی کی خاطر لڑنے والے سکھ لیڈروں کی لسٹیں بھارت کے حوالے بھی مبینہ طورپراسی دور میں کی گئیں۔ لسٹیں حوالے کرنے میں چودھری اعتزاز احسن کا نامِ نامی لیا جاتا ہے، وہ اس پر سوال کئے جانے سے چِڑ جاتے ہیں۔
میاں نواز شریف کی واجپائی کے ساتھ بڑی دوستی تھی، اندرکمار گجرال کچھ عرصہ کیلئے وزیراعظم رہے ان سے میاں نواز شریف کی زیادہ ہی قربت تھی۔ ایک مرتبہ انہوں نے رات کو سوتے سے جگا کر مقبوضہ کشمیر میں کسی سرگرمی بارے پوچھاتو میاں صاحب نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ پتہ کر کے بتائیں گے۔ جبکہ وزیراعظم مودی کو شادی کی شرکت کی دعوت، آموں اور ساڑھیوں کے تحفے کل کی بات ہے۔
ہمارے ہاں جمہوری دورمیں یہ سب کچھ اس دوران ہوتا رہا جب کشمیری اپنے شہداءکو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفن کر رہے تھے اوربدستور کر رہے ہیں۔ نوجوان وانی کی شہادت کے بعد تحریک آزادی¿ کشمیر ایک بار پھر زوروں پر ہے۔ ایک ماہ سے مقبوضہ وادی میں کرفیو ہے اور ہڑتال چل رہی ہے۔ اب تک 80 کشمیری بھارتی فورسز کے جبر و ظلم سے شہید ہو چکے ہیں۔ پیلٹ گنوں سے سینکڑوں کشمیریوں کے چہرے چھلنی ہوئے اور وہ بینائی سے زندگی بھر کیلئے محروم ہو گئے۔ حکومت پاکستان نے مظلوم کشمیریوں کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے 20 جولائی کو یوم سیاہ منایا، 2 اگست کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا۔بے روح جسم کو لئے ڈگمگاتی او آئی سی سے نوٹس لینے کو کہا گیا۔ مردہ ضمیر اقوام متحدہ میں معاملہ اٹھانے کا اعلان ہوا۔ اہم ممالک کے سربراہوں کو خط لکھے گئے۔غیرملکی سفیروں کو بریفنگ دی گئی۔ بڑے ممالک میں تعینات سفیروں کی اسلام آباد میں کانفرنس بلا کر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے فعال کردار ادا کرنے کی تاکیدکی گئی۔ان سفیروں سے وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے جو کچھ کہا وہ ایک تاجر ہی کہہ سکتا ہے جو کبھی گھاٹے کا سوچتا بھی نہیں ۔” ہم کسی تصادم کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ ہم اگر کسی تصادم میں الجھیں گے تو ہماری وہ پیش قدمی رک جائے گی جو اقتصادی اور سماجی میدان میں جاری ہے۔دوستی کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے“۔
دنیا میں کوئی بھی ملک تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ جب کوئی جارحیت کرے توکیا سر جھکا لیں کہ ترقی رک جائے گی۔ کیاجوانمردی اسی کا نام ہے؟ شیرنے کیا صرف عمران پرہی دھاڑنا ہے؟ کشمیر میں بھارتی فورسز نے بربریت کی انتہا کردی، آپ فرما رہے ہیں ۔”دوستی کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے“۔ دشمن آپ کو للکار ہی نہیں رہا، وار بھی کر رہا ہے، آپ تعلقات اور دوستی کی بات کر رہے ہیں۔ یہ کمزوری ہی بزدلی بھی ہے۔ نرم سے نرم الفاظ میں اسے قوم و ملک کیساتھ ”بےوفائی“ کہا جاسکتاہے۔ بھارت اپنے مظالم پر پاکستان سے احتجاج کی توقع نہیں رکھتا۔ وہ پاکستان سے دشمنی کے باوجود اس کے حکمرانوں سے بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی طرف سے کئے گئے اسکی طبیعت کو بشاش کرنیوالے اقدامات اور بیانات کا عادی ہے۔ بھارت سے وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے مظفر وانی کو شہید کہنا بھی ہضم نہ ہو سکا۔ پہلے وزیر خارجہ سشما سوراج پھنکارتی رہیں پھر وزیر داخلہ راجناتھ نے پاکستان کی دھرتی پر کھڑے ہوئے للکارتے ہوئے زہر اگلا ۔ ”آزادی پسند یا دہشتگرد کو دوسرے ملک کیلئے شہید نہیں کہا جانا چاہیے“۔ چودھری نثار علی خان اس کانفرنس میں سارک وزرائے داخلہ کے چیئرمین کی حیثیت سے موجود تھے۔ انہوں نے چیئر مین کی سیٹ سیکرٹری کے حوالے کی اور راجناتھ کی تقریر کا جواب انہی کے لہجے میں دیا۔ انہوں نے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے بجائے اینٹ کا جواب اینٹ سے ہی دینے پر اکتفا کیا جبکہ ان کے باس بھارت کو اینٹ کا جواب پھولوں سے دینے کے قائل ہیں۔ نثار علی خان کے کسی پوری تقریر قومی امنگوں کی ترجمان اور ہر دل کی آواز تھی تاہم چند فقرے تاریخی اور ناقابل فراموش ہیں۔” آزادی کی جدوجہد اور دہشتگردی میں فرق ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں شہریوں پر وحشیانہ تشدد دہشتگردی ہے۔ پاکستان کے اندورنی معاملات میں ڈھٹائی کے ساتھ مداخلت کی جا رہی ہے۔ سمجھوتہ ایکسپریس ہمارے لیے بہت تشویش کا باعث ہے۔ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سمجھوتہ ایکسپریس کے ذمہ داران کو کٹہرے میں لایا جائے۔ اقوام متحدہ کی قرار دادو ںکیمطابق کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے نہ کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ کے نام پر انکی جدوجہد آزادی کو دبایا جائے۔ نہتے شہریوں پر طاقت کا استعمال انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے“۔
اپنی توقعات کے برعکس ایک پاکستانی کی دھاڑ پر لالہ راجناتھ آٹھ مرتبہ شایدگیلی دھوتی بدلنے واش روم گئے۔انہوں نے جھنجھلا، سٹپٹا اور لال پیلا ہو کر کانفرنس کے آخری سیشن میں بیٹھنا گوارہ نہ کیا۔ چودھری نثار علی خان نے کانفرنس کے آخری دن کا میلہ لوٹ لیا۔ انہوں نے جس پامردی سے پاکستان کا موقف پیش کیا اس پر ان کو 99خون معاف 100 واں کریں تو پکڑ لئے جائیں۔ بھارتی میڈیا میں تو نثار کی جرا¿ت رندانہ پر ماتم اور سوگ ہونا ہی تھا‘ کچھ پاکستانیوں کے چہروں پر بھی مردنی چھاگئی جبکہ ان کی سیاسی مقبولیت ایک دم سے اوج ثریا پر جا پہنچی۔ان کی طرف سے اسے کیش کرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے مگرکچھ حلقوں میں ”پالا“پڑ گیاہے۔
جس دن چودھری نثار لالہ جی پر برس رہے تھے اسی روز وزیراعظم کی صدارت میںمسلم لیگ ن کا پارلیمانی اجلاس ہوا جس میں ارکان اپنے وزیراعظم کو ”ودھائیاں“ دینے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کررہے تھے جبکہ شہری بجلی کی کمی، لاقانونیت،کرپشن، غربت کی بیشی، بچوں کے اغواءکے واقعات کی تندی و تیزی کے خلاف دہائیاں دے رہے تھے۔ اس موقع پر ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ایم این اے اسد الرحمن نے کھڑے ہو کر وہی بات کی جو اس اجلاس کے شرکاءکی اکثریت اپنے گھروں اور ڈیروں پر ملنے والوں سے کرتی ہے۔ ان کالہجے میں بھی گھن گرج تھی۔انکایہ بھی کہنا تھا کہ کرپٹ بیورو کریسی کوئی کام نہیں کرتی۔میاں صاحب نے پہلے مسکراتے ہوئے اورپھر آنکھیں دکھاتے ہوئے بیٹھنے کو کہا تو ان کا جواب تھا۔”آپ استاد ہیں نہ میں سٹوڈنٹ“۔ میاں صاحب! ایسے جواب سننے کے عادی نہیں ہیں ،کمال کاجلال تو آنا ہی تھا۔ ان کے اردگرد بیٹھے ارکان امیر کے غریب رشتے دار کی طرح پل پڑے اور بات کرنے سے روکتے ہوئے زبردستی ان کی سیٹ پر بٹھا دیا۔
گورننس کے حوالے سے عمران خان کی نہ سنیں۔ پارٹی کے اندر جو کچھ کہا جا رہا ہے اس پرغور کر لیں۔ وزیراعظم صاحب چاپلوسوں کے ٹولے کے باہر کے لوگوں سے احوالِ حکومت پوچھیں تو پتہ چلے کہ وہ اور ان کی حکومت کتنے پانی میں ہے۔