جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑےگا

07 اگست 2016

پروفیسر رئیسہ نسیم اختر کا کہنا تھا کہ لاہور کے تمام کالجز اگر رانا صاحب کی توجہ، وقت اور توانائی سے منظم و مستحکم ہوئے اور میں اور میرا گھر نظر انداز ہوا تو مجھے کوئی گلہ اور ملال نہیں۔ لاہور ڈویژن کے کالجز کی کل درست کرنے کے لئے رانا نسیم اختر انجم 2009ءس اب تک جُتے ہوئے ہیں۔ اگست 14 کو یوم آزادی کے ساتھ رانا صاحب کا سورج بھی سرکاری ملازمت کی پابندیوں، ڈیوٹیوں اور آزمائشوں سے آزادی کے پیغام کے ساتھ طلوع ہوگا یعنی وہ ریٹائرڈ ہوجائیں گے۔ گزشتہ روز گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج فار ویمن رائے ونڈ کی مینجمنٹ اور ٹیچنگ سٹاف کی طرف سے ڈائریکٹر کالجز لاہور ڈویژن رانا نسیم اختر انجم کے اعزاز میں الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ رانا صاحب بہت خوش قسمت ہیں کہ جنہوں نے عزت و وقار کے ساتھ اپنی جاب کا دورانیہ مکمل کیا۔ لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد کی جانے والی الوداعی تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ اس تقریب میں اساتذہ و پرنسپل صاحبان کے علاوہ لاہور کی سماجی و سیاسی و صحافتی شخصیتوں نے بھی بھرپور شرکت کی جن میں رائے ونڈ یوسی 272 کے ہردلعزیز چیئرمین داﺅد احمد خان، معروف صحافی پرویز بشیر، رائے ونڈ پریس کلب کے صدر عاطف سبزواری، اسلام پورہ کالج کی ڈی ڈی او نغمی پرویز اور کے نام قابل ذکر ہیں۔
تقریب کی صدارت ڈی پی آئی کالجز پنجاب پروفیسر خالد جاوید نے کی۔ کمپیئرنگ کے فرائض ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز زاہد حسین میاں نے انجام دیئے جبکہ اس موقع پر بجٹ اینڈ پلاننگ ڈیپارٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ سے جناب خالد اور اللہ راضی بھی موجود تھے۔ تقریب میں شریک معززین نے رانا نسیم اختر کی خدمات کو سراہا اور انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ہمیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے معلمین کی حیثیت میں اپنی نسل کی آبیاری کا جو فرض سونپا ہے، ہمیں اس سے بے اعتنائی نہیں کرنی۔ ہمارا مستقبل ہمارے ہاتھ میں ہے اور ہم اپنی قوم کے معمار ہیں۔ رانا نسیم اختر صاحب نے پوری زندگی انتظامی و تعلیمی امور میں اخلاص کا راستہ اختیار کیا۔ آپ نہ تو سختی سے پیش آئے اور نہ ہی نرمی سے بلکہ ہر مقام کی ضرورت کے تحت اپنے رویئے کا اظہار کیا کیونکہ انتظامی امور میں سختی و نرمی ہر طرح کے رویئے کی گنجائش رہتی ہے لیکن ایک بات واضح ہے کہ رانا نسیم اختر نے کالجز کے سربراہان کو جس طرح عزت و توقیر کی، شاید یہ ان کے وصف و ظرف کی بڑائی کی بدولت تھا۔ رانا نسیم اختر انجم نے پرنسپل صاحبان کے مسائل کوحل کرنا، انہیں تعظیم دینا اور انہیں مطمئن رکھنا اپنا مقصد بنا رکھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور ڈویژن کے کالجز کی اکیڈمک و انتظامی صورتحال کسی بھی دوسری ڈویژن سے بہتر نظر آتی ہے۔ ڈائریکٹر کالجز نے دریں اثناءگورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج فار ویمن رائے ونڈ کی ترقی و تبدیلی کی مثبت و قابل فخر صورت حال کو سراہا اور مینجمنٹ کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت میں رائے ونڈ کے ویمن کالج کی حالت زار پر بے حد پریشان رہتا تھا۔ یہاں کسی عام پرنسپل کا ٹھہرنا آسان نہ تھا کیونکہ یہاں من موجی و سیاسی بھرتیوں والوں نے اپنا راج بنا رکھا تھا۔ ہم نے یہاں سابق پرنسپلز کی بھی انکوائریاں بھگتی ہیں۔ ویسے بھی کالج کالج کی طرح نہیں رہنے دیا گیا تھا۔ انہوں نے اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا کہ میں اس وقت اپنی ریٹائرمنٹ کے موقع پر رائے ونڈ کے ویمن کالج کو سیاسی مداخلتوں سے پاک اور بہترین تعلیمی ماحول میں پروان چڑھتے دیکھ رہا ہوں۔ میں اب وثوق سے کہتا ہوں کہ اچھے لیڈر انتظام کی بہتری کی ضمانت ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بہت جلد ہم رائے ونڈ کے بوائز کالج کی حالت کی درستگی کے لئے بھی باصلاحیت و بہترین منتظم ڈپیوٹ کریں گے۔ اس موقع پر ڈی پی آئی کالجز پروفیسر خالد جاوید نے بتایا کہ اس وقت بیدیاں روڈ، کاہنہ، خوشاب اور میانوالی سمیت پنجاب کے دیگر علاقوں میں نئے کالجز کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔ داخلوں کے حوالے سے ہم اوکاس یعنی آن لائن سسٹم متعارف کرا چکے ہیں۔ اس طرح داخلوں کے عمل کو شفاف بنا دیا گیا ہے۔ طالب علموں کے داخلوں کی سیٹوں کو بڑھانے کا عمل بھی جاری ہے لیکن سیٹیں کالج انتظامیہ کی ڈیمانڈ پر بڑھائی جاتی ہیں کیونکہ طالبعلموں کے زیادہ داخلے تعلیمی سہولتوں کی دستیابی سے مشروط ہوتے ہیں۔ قارئین! سابق سیکرٹری ہائر ایجوکیشن پنجاب عرفان علی کی زیر نگرانی محکمے میں لاتعداد اکیڈمک ریفارمز کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ امید ہے موجودہ سیکرٹری جناب کیپٹن نسیم نواز صاحب کی شخصیت بھی محکمے کی تعلیمی و انتظامی ساکھ کو مضبوط کرنے کا باعث ہوں گے۔ جناب عالی! گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج فار ویمن رائے ونڈ میں بی ایس کلاسز اور ماسٹر پروگرام کا اجراءہونے کو ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنی بچیوں کو 60 کلومیٹر کی مسافت طے کرکے لاہور آنے کی مشقت سے بچا کر انہیں ان کی دہلیز پر اعلیٰ تعلیم کی سہولت فراہم کی جائے۔ جناب عالی! ہم نے اپنا تمام ہوم ورک بڑی محنت سے کیا۔ پنجاب یونیورسٹی سے الحاق کی فیسیں تک ہم ادا کرچکے ہیں۔ چونکہ اساتذہ کی فراہمی سراسر محکمے کی ذمہ داری ہے چنانچہ این او سی دینے کے بعد محکمہ نے ہمیں اساتذہ کی فراہمی کا جو وعدہ کررکھا ہے، ہمیں امید ہے کہ آپ یہ وعدہ بروقت وفا کریں گے۔ سر یور ایکسی لینسی ....