خوابوں اور میوزک کے شہر ویانا میں دو دن

07 اگست 2016
خوابوں اور میوزک کے شہر ویانا میں دو دن

میں ان دنوںمشرقی یورپ کے مطالعاتی دورے پر ہوں۔اس ہفتے مشرقی یورپ کے ملک آسٹریا کے دارلحکومت ویانا اور کچھ دوسرے علاقوں میں جانے کا موقعہ ملا۔آسٹریا نے گزشتہ دو سو سالوں کے درمیاں تاریخ کے کئی اتار چڑھاﺅ دیکھے۔گزشتہ صدی کے دوران اسے دو عالمی جنگوں(پہلی اور دوسری جنگ عظیم) کا سامنا بھی رہا۔یہ دنیا کا واحد ملک ہے جس پر بیک وقت امریکہ،برطانیہ، سوویت یونین اور فرانس کا قبضہ رہا۔جمہوریہ آسٹریا برِ اعظم یورپ کے وسط میں واقع خشکی سے گھرا ہوا ملک ہے۔ اسکی کل آبادی تقریباً 87لاکھ ہے۔ آسٹریاکے شمال میں جرمنی اورجمہوریہ چیک ، مشرق میں سلواکیا اور ہنگری، جنوب میں سلوانیا اور اٹلی جبکہ مغرب میں سوئٹزرلینڈ واقع ہے ۔ آبادی کی اکثریت جرمن زبان بولتی ہے اور اسے ملک کی سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ دیگر مقامی زبانوں میں کروشین، ہنگری اور سلوین ہیں۔آسٹریا کو فی کس آمدنی کے اعتبار سے دنیا کا 12واں امیر ترین ملک مانا جاتا ہے۔ یہاں معیارِ زندگی بہت بلند ہے۔ آسٹریا 1955 سے اقوامِ متحدہ کا رکن ہے۔ 1995ءمیں یہ یورپی یونین کا رکن بنا۔ آسٹریا کے دارلحکومت ویانا جانے کےلئے ہم نے ہنگری کے دارلحکومت بڈاپسٹ سے انٹرنیشنل ریلوے کے ذریعے سفر کیا۔پڈاپسٹ سے ویانا تک 300کلو میٹر مسافت یہ تیز رفتار ٹرین اڑھائی گھنٹے میں طے کرتی ہے۔ ایک فرد کا دو طرفہ کرایہ صرف 38یورو ہے جو پاکستانی روپے میں تقریباً 4400 روپے بنتا ہے۔سیاحت کےلئے دو افراد کےلئے متوسط رہائش چھ سے سات ہزار پاکستانی روپے فی کمرہ ہے۔ پورے شہر میں میٹرو ریل، بس اور ٹرام پر ایک ہی ٹکٹ یا پاس استعمال ہوتا ہے۔ جس کی یومیہ لاگت چھ ہزار پاکستانی روپے ہے۔ویانا کے میوزیم،محلات اور پارک سیاحوں کےلئے خصوصی دلچسپی کے حامل ہیں۔ ویانا آسٹریا کا دارالحکومت اور ملک کی 9 ریاستوں میں سے ایک ہے۔ یہ ملک کا سب سے بڑا شہر ہے جس کی آبادی اٹھارہ لاکھ ہے اور یہاں کا سماجی،سیاسی اور اقتصادی مرکز ہے۔یورپی یونین کے ممالک میں یہ آٹھواں بڑا شہر ہے۔پہلی جنگ عظیم سے قبل ہنگری اور آسٹریا ایک ہی مملکت شمارکئے جاتے تھے۔برلن کے بعد دنیا بھر میں سب سے زیادہ جرمن زبان یہاں بولی جاتی ہے۔عالمی منظر نامے میں ویانا کا تذکرہ ہمہ وقت رہتا ہے۔ یہ شہر دنیا بھر کا مقبول ترین کانفرنس سینٹر بھی ہے۔ اقوام متحدہ اوراوپیک تنظیم کے اہم دفاتر بھی یہاں ہیں۔یہاں کی ثقافتی اہمیت کی بناءپر ویانا کو2001میں اقوام متحدہ نے عالمی وراثت قرار دیا ہے۔اس خوبصورت شہر کی عمارتوں اور ٹرانسپورٹ کا نظام مثالی اور خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔اس شہر کو خوابوں اور میوزک کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔آسٹریا کے زیادہ تر حصے کا موسم سرد رہتا ہے اور اس پر مغربی مرطوب ہواو¿ں کا اثر رہتا ہے۔ اس شہر میں بیک وقت پندرہ قوموں کے افراد آباد ہیں۔ جن میں جرمن، ترک، سربین،ایرانی، روسی، چینی، پولینڈ،رومانیہ اور بلغرایہ کے لوگ بھی شامل ہیں۔ ویانا میں سب سے زیادہ آبادی سرب اور ترک ہے جبکہ تیسرے نمبر پر جرمن آباد ہیں۔ پاکستانیوں کی بھی قلیل تعداد یہاں آباد ہے۔یہاں کی 49فی صد آبادی رومن کتھولک ہے۔ مسلمانوں کی آبادی چھ فی صد اور یہودی پانچ فی صد آباد ہیں یہاں آباد 32فی صد لوگوں کا کوئی مذہب نہیں۔آسٹریا میں اسلام سو سال سے سرکاری طور پر ایک تسلیم شدہ مذہب ہے۔ اس وقت آسٹریا میں تقریباً پانچ لاکھ سے زائد مسلمان آباد ہیں جو کہ ملک کی کل آبادی کا چھ فیصد ہیں۔ آسٹریا کی اسلامی برادری کیمطابق اس وقت ملک میں ساٹھ ہزار مسلمان بچے مذہبی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہ تعلیم جرمن زبان میں فراہم کی جاتی ہے۔ ایک اندازے کیمطابق ساٹھ سے ستر لاکھ سیاح سالانہ ویانا آتے ہیں۔ اس شہر کو دنیا کا سمارٹ ترین شہر بھی کہا جاتا ہے۔ دنیا کے پہلے ماہر نفسیات Sigmund Freud کا تعلق بھی اسی شہر سے تھا۔ شہری سہولتوں کے اعتبار سے دنیا بھر کے پر کشش شہروں کی فہرست میں آسٹریلیا کے شہر ملبورن کے بعد اس کا نمبر ہے۔ تاریخی حوالے بتاتے ہیںکہ یہ شہر پانچ سو قبل مسیح میں دریائے ڈینیوب کے کنارے آباد ہوا۔ رومن دور میںبھی اس شہر کو ثقافتی مرکز کی حیثیت حاصل تھی۔20ویں صدی کے آغاز میں یہ آسٹرو، ہنگرین سلطنت کا دارلحکومت تھا۔پہلی جنگ عظیم کے بعد ویانا جرمن اور آسٹرین ری پبلک کا دارلحکومت بھی رہا۔1919ءمیں یہ شہر آزاد ملک آسٹریا کا دارلحکومت قرار پایا۔دوسری جنگ عظیم کے دوران 1945ءمیں سوویت یونین نے ویانا پر حملہ کر کے شہر کا محاصرہ لر لیا۔ سوویت قبضہ چھڑانے کےلئے امریکہ اور برطانیہ نے یہاں ہوائی حملے کئے جن سے بڑی تبائی ہوا۔ گیارہ روزہ جنگ کے بعد بھی سوویت قبضہ قائم رہا۔آسٹریا کو جرمنی سے الگ کر کے ری پبلک کا درجہ دیا گیا۔آسٹریا1955ءتک سوویت یونین کا حصہ رہا۔دنیا کی تاریخ کا یہ پہلا واقعہ ہے کہ آسٹریا بیک وقت چار ممالک کے قبضے میں رہا۔ویانا شہر اور آسٹریا کے مختلف حصوں پر سوویت یونین،امریکہ،برطانیہ اور فرانس قابض رہے۔اسی بناءپر Four soldiers in a jeep کی اصطلاح استعمال کی گئی۔ بالآخر1955ءمیں ایک معاہدے کے تحت آسٹریا کو آزادجمہوریہ قرار دیا گیا۔