”لمحہ فکریہ“

07 اگست 2016
”لمحہ فکریہ“

گزشتہ چند ماہ کے حالات پر اگر ایک سرسری نظر ڈالی جائے تو یہ بات کھل کے سامنے آتی ہے کہ ہمارا پیارا ملک پاکستا ن پوری دنیا کے عتاب کا نشانہ بنا ہوا ہے اور ہر محب وطن یہ سوچ کر سخت مایوسی اور پریشانی کی حالت میں مبتلا ہے اور پوچھتا ہے کہ آخرکب تک ہم تذلیل و تنزل کا نشانہ بنتے رہیں گے اور یہ سلسلہ آخر کب اور کہاں جا کر رکے گا۔اس وقت حال یہ ہے کہ نہ صرف ہمارا بڑا ہمسایہ بھارت بلکہ چھوٹاہمسایہ ملک افغانستان بھی ہمار ے لئے ، درد سر بنا ہو اہے۔ علاوہ ازیں ایران، سعودی عرب اور یہاں تک کہ کاٹ چھانٹ کا شکار یو ۔کے (U.K ) بھی تذلیل کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔
ایک وہ بھی وقت تھا کہ پاکستان کو بڑی قدرومنزلت حاصل تھی ۔ ملک کے معرض وجود میں آنے کے تقریباً پہلے دس سالوں میں پاکستان نے عالمی سطح پر بہت فعال کردار ادا کیا۔ ہم نے اسلامی ممالک کی بھر پور مدد کی مثلاً پاکستان نے الجیریا کے رہنما فرحت عباس اورملک تونیسیہ(Tunisia) کے لیڈر بوابو رقیبا کو اُن کی آزادی کے حصول کی جدوجہد کے دوران پاکستانی پاسپورٹ مہیا کئے گئے اور اُن کو فرانس میں اپنی ایمبسیی میں رہائش کی سہولت فراہم کی جہاں سے انہوں نے فرانس کے نو آبادیاتی نظام کے خلاف کارروائیاںکیں ۔مزید برآں ہم نے اپنے ہمسایہ ملک چین کو جو اُس کے لیڈر ”ماﺅزے تنگ“ کے انقلاب کے دوران عالمی سطح پر مکمل تنہائی کا شکار تھا کو Opening دی یہ چین کے لےے بہت کڑا وقت تھا کیونکہ سویت روس اور چین کے اس وقت اختلافات اپنے عروج پر تھے۔ اب حالات یکسر بدل چکے ہیںا ور ہم ہر طرف سے لعن طعن کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ اس ضمن میں چند تلخ حقائق درج ذیل ہیں۔
بھارت کی طرف سے ہمارے خلاف ہر محاذ پر کارروائیاں کا میابی سے جاری وساری ہیں وہ ہمیں پوری طرح تنہا کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے اور ہماری حکومت کی ناقص حکمت عملی اور غفلت کے نتیجے میں ہمارے دیر ینہ دوست اور خاص طور پر اسلامی ممالک بھی ہمارے خلاف بھارت کے ساتھ ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے بلوچستان میں ڈرون حملے پر احتجاج کے سلسلے میں ہم نے کافی چپ سادھ رکھی تھی بالکل اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں نہتے اور مظلوم کشمیریوں کیخلاف بھارت کی ظالمانہ کارروائیوں کے خلاف ہمارے غافل اور بے حس حکمرانوں نے ایک لمبے عرصے تک خاموشی اختیار کئے رکھی اور ہمارے اس ناقابل فہم روےے سے ہم نے بھارت کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ وہ ہمارے خلاف جو کچھ بھی کرے ہم ٹس سے مس نہیں ہو ں گے کیا ہم کیوبا سے بھی کمزور اور بے بس ہیں جو کہ امریکہ جیسی عالمی طاقت کے خلاف سینہ سپر ہے اور اس چھوٹے سے ملک کی طرف سے جنوبی افریقہ میں آزادی کی جد وجہد کی مکمل حمایت اور مدد جاری ہے اور کیوبا امریکہ کی طرف سے ڈالے جانے والے دباﺅ کو خاطر میں نہیں لایا۔ یہ ہے زند ہ اور غیرت مند قوموں کی نشانی۔ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات میں تلخی پیدا ہوئی ہے جس کی وجہ RAW کے کےا ایجنٹ یادیو کا معاملہ تھا۔ اب حکومت نے اس سلسلے میں مکمل چپ سادھ رکھی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ بھی ہمارے تعلقات میں کچھاﺅ کی جو کیفیت ہے وہ ہماری حکومت کی یمن کے معاملے پر غیر دانشمندانہ حکمت عملی کی وجہ سے پیدا ہوا۔
جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے تو یہ ملک اپنے اندرونی خلفشار اور شدید بدامنی کے باوجود امریکہ اور نیٹو کی شہہ پر ہمیں آنکھیں دکھانے اور ہم پر دباﺅ ڈالنے میں مصروف ہے جب کہ ہم اُن کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں اور اس ضمن میں افغان مہاجرین کے وطن واپسی جانے کے حوالے سے جو پالیسی اختیار کی گئی ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے۔اگر ہم یورپی یونین اور برطانیہ کی بات کریں تو اُن کا رویہ بھی ہمارے ساتھ ہتک آمیز ہے مثلا ً پاکستانی باشندوں کو ویزا کی فراہمی میں بے وجہ رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں نیز برطانوی حکومت ہمیں آئے دن نصیحتیں کرتی دکھائی دیتی ہے جب کہ وہ خود ریخت اور ٹوٹ پھوٹ کا شکارہے اور ہم سب کچھ خاموشی سے برداشت کر رہے ہیں نا جانے ہماری عزت نفس کہاں گئی؟ آسٹریلیا اور جاپان لگاتار ہمارے دفاعی ایٹمی پروگرام کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں مگر اُن کو اس سلسلے میں بھارتی جارحانہ پالیسیوں پر ایک لفظ بھی کہنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی او رہم یہ سب کچھ بغیر کسی چوں چراں کے برداشت کرتے جا رہے ہیں
یہاں پر بنگلہ دیش کا ذکر بھی ضروری ہے جہاں پر 1971ءمیں پاکستان کی حمایت کرنے والے محب وطن افراد کیمپوں میں جانوروں سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں۔
قارئےن! بے پناہ قربانیاں دے کر حاصل کئے ہوئے ملک پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر جس تذلیل اور تنہائی کا سامنا ہے وہ پاکستان کی اب تک کی تاریخ میں ہمیں کبھی دیکھنے کو نہیں ملا۔ ہماری خارجہ پالیسی غیر متحرک ، ناقص اور مجہول بنیادوں پر استوار ہے۔ نتیجتاًپوری دنیا یہاں تک ہم سے کم ترحیثیت کے ممالک بھی ہم کو لگاتار تذلیل کا نشانہ بنانے میں مصروف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ International peace keeeping force میں اب ہم چوتھے درجے پر آگئے ہیںجبکہ کم تر حیثیت کا حامل بنگلہ دیش بھی ہم سے اوپر کی سطح پر ہے۔ کیا یہ ہمارے لےے ، ہماری حکومت ، نام نہاد لیڈرز اورتمام محب وطن پاکستانیوں کے لےے لمحہ فکریہ نہیں ہے؟