راجناتھ سنگھ کی اسلام آباد یاترا

07 اگست 2016
راجناتھ سنگھ کی اسلام آباد یاترا

بھارت کے وزیر داخلہ بی جے پی کے شعلہ بیان مقرر اور مسلمانوں کے ازلی دشمن راجناتھ نے سارک وزراءکی کانفرنس میں شرکت کے لئے اسلام آباد کا رخ کیا تو بھارت میں انتہاءپسند کڑ ہندوﺅں نے ٹائر جلا کر اور پاکستان کا پر چم نذرتش کر کے احتجاج کیا کہ راجناتھ سنگھ پاکستان کیوں جارہے ہیں۔8جو لائی 2016 کو نو جوان کشمیری رہنما بر ھان وانی کے قتل کے بعد سے پوری وادی کشمیر سر اپا احتجاج ہے اور60 سے زائد کشمیری نوجوان شھید کروئے گئے۔3000 سے زائد زخمی ہیں۔اس مر تبہ مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی فوج نے ایک سفا کا نہ ہتھیارا ستعمال کرنا شروع کیا ہے۔وہ چھرے والی بندوق استعمال کررہے ہیں اور دانستہ طورپر آنکھوں کا نشانہ باندھتے ہیں جس کے نتیجے میں چھرے لگنے سے سینکڑوں کشمیری نوجوان بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔ متعدد بچوں کی آنکھ کے ذریعہ چھرے دماغ میںگھس گئے جسکی وجہ سے یہ بچے ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں۔پاکستان اس بر بریت اور ظلم پہ احتجاج کررہا ہے اور راجناتھ سنگھ کی آمد پر پاکستان میں احتجاجی ریلیاں نکائی گئیں اور بھارتی پر چم کو نذر آتش کیا گیا۔ ان کی آمد سے قبل بی جے بی کی حلیف مقبوضہ کشمیر کی وزیراعظم محبوبہ مفتی کے بیان کہ جس پویس مقابلے میں برھان دانی کوقتل کیا گیا ، اگر انہیں علم ہوتا کہ برھان وانی وہاںموجود ہیں تو وہ ان کی جان بخشی کی کوشش کرتیں۔ مجبوبہ مفتی وادی کشمیر میں مشتعل کشمیریوں کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کررہی تھیں لیکن اس سے معاملہ اور بگڑ گیا۔ اب محبوبہ مفتی نے بیان دیا کہ بھارتی لیڈر شپ کو پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات کرنے چائیں جیسا کہ اٹل بہاری واجپائی نے شروع کیا تھا اور مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرنا چاہئے۔

راجناتھ سنگھ نے تو پاکستان آمد سے قبل اعلان کر دیا تھا کہ وہ اسلام آباد سارک کا نفرنس میں شرکت کے لئے جارہے ہیں اور کسی پاکستانی لیڈر سے نہ ملاقات کریں گے نہ مذاکرات ۔ یہ پاکستان کے لئے بہت اچھا موقع تھا کہ بھارت کاقبیح چہرہ دنیا کو دکھاتا اور اسے ننگا کرتا کہ ہم مذاکرات کرنا چاہتے ہیں لیکن بھارت کسی قیمت پہ بھی مذاکرات کے لئے تیار نہیں الٹاوہ مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیری بچوں اور نوجوانوں پہ جبرواستبداد کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔را جناتھ سنگھ کے پاکستانی ہم منصب چودھری نثار نے سنہری موقع ہاتھ سے جانے دیا اور بجائے اسکے کہ راجناتھ سنگھ کے زہر یلے بیان کا جواب دیتے کہ پاکستان تو مذاکرات کر نا چاہتا ہے لیکن بھارت راہ فرار اختیار کررہا ہے۔ چودھری نثار نے راجناتھ سنگھ کے اوچھے بیان کا جواب بھی اوچھے انداز مین دیا کہ ہم بھی بھارت سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتے۔راجناتھ سنگھ منہ سجائے ہوئے اسلام آباد تشریف لائے ۔سارک کانفرنس سے خطاب کے لئے آئے تو ہم منصب چودھری نثار سے مصافحہ تک کرنا گوار ا نہ کیا ۔ منبر پہ پہنچے تو خوب گرجے اور پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے للکارا کہ دہشت گردی کی پشت پناہی سے باز آئے اور کشمیریوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو شہید کرنا ترک کر دے۔ حقیقت یہ ہے بھارت دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ملک ہے جس نے ریاستی دہشت گردی کو فروغ دیا ہے۔ کشمیریوں کے خلاف بھارتی مظالم کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔ بھارت میں بسنے والے مسلمان، سکھ، عیسائی اور نیچ ذات دلت بھی کڑ اور انتہا ءپسند ہندوﺅں کے ظلم وستم سے محفوظ نہیں۔ حتی کہ بھارت میں عورت ذات کی عزت بھی داﺅ لگادی جاتی ہے۔ جتنی خواتین کے ساتھ زیادتی بھارت میں ہوتی ہے، دنیا میں کہیں نہیں۔یہاں تک کہ اسی برس کی عیسائی نن تک کو نہیں بخشا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں حساس اہل دانش جن مین ادیب ، فنکار ، موسیقار، اداکار شامل ہیں نے اپنی انتہاءپسند حکومت کے خلاف احتجاج میں اپنے قومی اعزاز واپس کردئے۔
بھارتی ریاستی دہشت گردی اپنے پڑوسیوں کے خلاف انتہاءپرہے۔نیپال میں اپنی پسند کا آئین لاگو کرنے کی خاطر بھارت نے نیپال پہ دباﺅ ڈالنے کی خاطر اسکا گھیراﺅ کرکے سامان رسد، خوراک اور ادویات کے علاوہ تیل کی سپلائی بند کردی۔ سری لنکا ، بنگلہ دیش اور سب سے بڑ ھ کر پاکستان بھارت کا ہدف ہیں۔ کمانڈر کلبھوشن کی گر فتاری اور اقرار جرم سے ثابت ہوا کہ بھارت ، ایران اور افغانستان کی سر زمین کو استعمال کرکے بلوچستان اور شمالی مغربی پاکستان کے علاوہ کراچی میں شورش بپا کررہا ہے اور اسکی پوری کوشش ہے کہ پاکستان کو غیر مستحکم کردے تاکہ پاکستان کو بھارت کی اطاعت قبول کر نی پڑے اور پاکستان کے ایٹمی ہتھیار اور بہترین افواج سب ناکارہ ہوجائیں۔اغلب ہے کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی قیادت اس بھارتی سازش کو کا میاب ہونے دیتی لیکن اللہ بھلا کرے افواج پاکستان کا جنہوں نے بھارتی سازش کو نا کام بناتے ہوئے بھارت کے ناپاک عزائم کی راہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوگئے ہیں۔ اب بھارتی میڈ یا نے پراپیگنڈہ مہم جاری کررکھی ہے جس میں پاک فوج اور آئی ایس آئی کو بد نام کیا جا رہے اور میاں نواز شریف کو بے کس، مظلوم اور فوج کے آگے بے بس ظاہر کیا جاتا ہے۔پاکستانی میڈ یا اور اہل قلم اور دانشوروں کا فرض ہے کہ بھارت کی سازش کو بے نقاب کریں۔ کشمیریوں پہ ظلم، جبر،جور واستبداد کو دنیا پہ واضح کریں اور پاکستان کے خلاف اسکی جنونی اور گھناﺅنی سازشوں سے پردہ اٹھا ئیں۔دنیا میں ہمدرد اور انسان دوست افراد اور انجمنوں کی کمی نہیں۔ حکومت پاکستان اور عوام کو چاہئے کہ ان کے ضمیرکو جھنجھوڑیں اور انہیں ثبوت مہیا کریں کہ بھارت میں نام نہاد جمہوریت ہے۔ وہاں کالے قانونوں کے تحت معصوم انسانوں کے خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے جسے روکنا ہرذی ہوش فرد کا فرض ہے۔ سکتا ہے باقی دنیا کو جگا نا ہمارا فرض ہے۔راجناتھ جیسے انتہا ءپسند ہندو ہمارے دارالحکومت میں آکر ہمیں کھری کھری سنا کرچلے جائیں اور ہمیں دہشت گرد کے خطاب سے پکاریں، اس کا جو اب دینا لازمی ہے۔