تھرکول ڈیم منصوبے پر اٹھنے والے اعتراضات تھرکول ڈیم کےخلاف بحث شروع‘ علاقہ مکینوں نے قانونی نکات اٹھا دیئے

06 نومبر 2016

کراچی (سالک مجید) تھرکول ڈیم منصوبے پر اٹھنے والے اعتراضات نے ایک بار پھر 45 سال پرانے دستخط شدہ بین الاقوامی معاہدے رام سر کنونشن کی پابندیاں یاد دلا دی ہیں پاکستان بھی 2 فروری 1971ءکو دستخط کرنے والے ملکوں میں شامل تھا جنہوں نے ایرانی شہر رام سر سے منسوب واٹرلینڈ مینجمنٹ کے معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔ رام سر کنونشن کے مطابق رن کچھ میں ڈیم کا پانی چھوڑا جاسکتا ہے یا نہیں اس مسئلے پر بحث چھڑ گئی ہے اور تھر کے باشندوں اوران کے وکلاءنے قانونی نکات اٹھا دیئے ہیں تھرکول ڈیم کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سرکٹ بنچ حیدرآبادمیں درخواست دائر کرانے والے متاثرہ گاﺅں کے وکیل لیلا رام اور لاکھو بھیل کے مطابق تھرکول انتظامیہ نے شروع میں رن کچھ میں ڈیم بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ جو تھر کول بلاک ٹو سے صرف 3کلومیٹر دوری پر ہے مگر بعد میں تھرکول انتظامیہ نے ڈیم کی جگہ تبدیل کرکے پلانٹ سے 40کلومیٹر دور 12 گاﺅں کے درمیان ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا اور علاقہ مکینوں کے احتجاج کے باوجود ڈیم کی تعمیر کا کام شروع کردیا ہے۔ تھر کول انتظامیہ کے مطابق رام سرکنونشن کے تحت رن کچھ میں ڈیم کا زہریلا پانی نہیں چھوڑا جاسکتا جب کہ وکیل لیلا را م کے مطابق رام سر کنونشن میں یہ ذکر ہی نہیں ہے کہ آپ زہریلا پانی چھوڑ سکتے ہیں یا نہیں بلکہ رام سر کنونشن میں صرف ماحولیات اور جانداروں کی حفاظت کی ضمانت دی گئی ہے ۔ وکیل لیلا رام کے مطابق رن کچھ کا علاقہ بھارتی سرحد سے ملتا ہے اور وہ علاقہ تھرکول منصوبے کے قریب ہونے سمیت ڈیم کے لئے بہت ہی موزون جگہ ہے جہاں کوئی آبادی متاثر نہیں ہوگی جب کہ ڈیم کی ہالیہ جگہ سے کم از کم 12 ہزار افراد ، 2لاکھ سے زائد قیمتی درخت،5مندر اور 5مساجد متاثر ہوں گی او ر پورے علاقے کو نقل مکانی کرنا پڑے گی ۔یاد رہے کہ رام سر کنونشن ہر 3سال بعدمنعقد ہوتاہے 2015 میں آخری اجلاس یوراگوے میں منعقد ہوا تھا اور اگلا اجلاس 2018 میں دبئی میں ہونا ہے۔ کنونشن واٹر لینڈ کے دانشمندانہ استعمال کے حوالے سے واضح رہنمائی کرتا ہے اور نقصان دہ استعمال سے روکتا ہے۔
تھرکول ڈیم