لاہور بار کی انتخابی سرگرمیاں تیز‘ صدر کےلئے تنویر اختر‘ ملک ارشد میں مقابلہ

06 نومبر 2016

لاہور (تجزیہ/سروے: شہزادہ خالد) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کے بعد لاہور بار کے انتخابات برائے سال 2017ءکی انتخابی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ وکلاءسیاست کے دو بڑے گروپ پروفیشنل اور انڈیپنڈنٹ آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ صدر کی نشست کےلئے میاں اسرار‘ حامد خان کے پروفیشنل گروپ اور عاصمہ جہانگیر کے انڈیپنڈنٹ گروپ کے امیدواروں کے درمیان ون ٹو ون مقابلہ ہو گا۔ حامد خان پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما بھی ہیں۔ 2016میں چودھری تنویر اختر کو حامد خان گروپ کے امیدوار کے طور پر نامزد کیا گیا مگر وہ عاصمہ جہانگیر گروپ کے امیدوار ارشد جہانگیر خان جھوجہ سے شکست کھا گئے۔ اب حامد خان گروپ کے چودھری تنویر اختر دوبارہ الیکشن لڑ رہے ہیں۔ ان کا عاصمہ جہانگیر کے گروپ کے ملک ارشد سے مقابلہ ہو گا۔ دونوں امیدواروں نے اپنی انتخابی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ نوائے وقت سروے کے مطابق وکلاءکی رائے عامہ تنویر اختر کے حق میں ہے ان کے الیکشن جیتنے کا امکان 90فیصد ہے کیونکہ تنویر اختر دوبارہ الیکشن لڑ رہے ہیں اور لاہور بار کی تاریخ ہے الیکشن ہارنے والا اگلے برس جیت جاتا ہے۔ تنویر اختر کی متوقع کامیابی کی ایک وجہ یہ بھی ہے سپریم کورٹ بار کے دو دن پہلے ہونے والے انتخابات میں حامد خان اور میاں اسرار کے حمایت یافتہ امیدوار رشید اے رضوی صدر اور آفتاب باجوہ سیکرٹری منتخب ہو گئے ہیں۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے وکلاءکی اکثریت کی حمایت تنویر اختر کے ساتھ ہے تاہم عاصمہ جہانگیر گروپ کے امیدوار ارشد ملک بھی کامیابی کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ لاہور بار کی صدارت کے امیدواروں نے اپنے ووٹرز سے رابطے تیز کر دیئے ہیں اور ایوان عدل‘ سیشن کورٹس‘ ہائی کورٹس میں وکلاءکی کثیر تعداد الیکشن کی تیاریوں میں مصروف نظر آ رہی ہے۔ اس مرتبہ خواتین امیدواروں کی بڑی تعداد بھی میدان میں آ رہی ہے۔ لاہور بار کے الیکشن 7جنوری بروز ہفتہ سیشن کورٹ میں منعقد کئے جائیں گے جس میں تین ہزار کے قریب خواتین وکلاءسمیت 15263ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ لاہور بار کی 9نشستوں کے لئے کل 27امیدواروں کے میدان میں آنے کا امکان ہے۔
لاہور بار