بلاول کا نیا طرزِ خطابت، سیاسی مخالفین، ناراض رہنماوں کیلئے سوالات کھڑے کردیئے

06 نومبر 2016

لاہور (سید شعیب الدین سے) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول کے تبدیل ہوتے طرزِ خطابت اور بیانات نے انکے سیاسی مخالفین اور پارٹی کی موجودہ اور ناراض قیادت کیلئے سوالات کھڑے کردیئے۔ انکا طرزِ تخاطب طنزیہ اور غصے سے بھرپور ہے جبکہ ایشوز پر وہ اپنی مرحومہ والدہ بینظیر کا انداز اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سیاسی حلقے اسے اہمیت دے رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ ان کا ڈرائنگ روم سے نکل کر عوام میں آنا اور انہیں لیڈ کرنا ہے۔ اپنے حالیہ دورہ جنوبی پنجاب اور سندھ کے دوران ورکرز سے براہ راست رابطے میں انہوں نے پارٹی کی ماضی کی عظمتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں باہر نکلنے اور مخالف سیاسی قوتوں کا سامنا کرنے کی ترغیب دی اور دو بڑے سیاسی مخالفین نوازشریف اور عمران کو جس طرح للکارا وہ یقینی طور پر ایک نیا طرز تخاطب ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جمہوریت کو بچانے کیلئے شیر کی قربانی دینی ہوگی۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ پاکستان دنیا میں تنہا ہو گیا۔ بلاول نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ انہیں تخت رائیونڈ کی بادشاہت قبول نہیں۔ انہوں نے یہ دھمکی بھی دی کہ 4 مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو وہ ایسا سیاسی ماحول پیدا کر دیں گے کہ انتخابات قبل از وقت 2017ءمیں کرانے پڑ جائیں گے۔ انہوں نے مستقبل کی خوفناک منظر کشی کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) اسی طرح صوبوں کے درمیان تفریق برتتی رہی تو وفاق کمزور ہو جائے گا۔ عمران کو چاچا عمران کہہ کر مخاطب کیا۔ اپنے والد آصف زرداری کے حوالے سے عمران کے لب و لہجے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران اپنے والد اکرام اللہ نیازی کے ماضی پر بھی غور کرلیں۔ یاد رہے کہ مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے اکرام اللہ نیازی کو ملازمت سے اسلئے برطرف کیا تھا کہ 313 افسروں میں شامل تھے جنہوں نے ملک کو بیدردی سے لوٹا تھا۔ سیاسی ناقدین کا خیال ہے کہ بلاول حالیہ تقریروں میں اپنی سیاسی بلوغت کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں اور اگر یہ عمل جاری رہا تو وہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی سیاسی تکون میں بتدریج اہمیت حاصل کرتے جائیں گے۔ یہ حلقے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ بلاول آہستہ آہستہ اپنے والد کی گرفت سے آزاد ہو کر اپنے فیصلے خود کرنے کے قابل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ تاہم ان حلقوں کے نزدیک بلاول کا سب سے بڑا چیلنج اپنی جماعت کے اس تاثر کو ختم کرنا ہے کہ یہ واضح طور پر دو دھڑوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول اسی ماہ پنجاب میں جلسے کر کے ناراض جیالوں کو ایک بار پھر متحرک کریں گے۔
بلاول تقاریر