ایجی ٹیشن کی سیاست کے معاشی ترقی پر اثرات

06 نومبر 2016

کسی بھی ملک میں معاشرتی ترقی کے عمل مسلسل اور متواتر برقرار رکھنے کےلئے سیاسی استحکام بے حد ضروری ہے معاشی ترقی اور سیاسی استحکام ایک دوسرے کیلئے ناگزیر عوامل ہیں کیونکہ سیاسی عدم استحکام اور انتشار ملک میں غیر یقینی کی فضاءکو پیدا کرتا ہے جس کی وجہ سے وہاں پر معاشی سرگرمیاں معطل ہو جاتیں ہیں۔ سرمایہ کاری رک جاتی ہے خصوصاً بیرونی سرمایہ کاری میں خاطر خواہ کمی واقع ہو جاتی ہے اور علاوہ ازیں ملکی سرمایہ بھی ایسے ممالک میں منتقل ہونا شروع ہو جاتا ہے جہاں سرمایہ کاروں کو سکیورٹی، تحفظ اور سرمایہ کاری کی پالیسیوں میں تسلسل ملتا ہے اسی لئے پروفیسر لیوس کہتے ہیں ”کسی بھی ملک میں حکومت اور اپوزیشن اس ملک کی معاشی سرگرمیوں کو بڑھانے اور ان کی حوصلہ شکنی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں“ کسی بھی ملک میں سیاسی استحکام چاہے کسی بھی طرز حکومت کے مرہون منت ہو وہاں معاشی ترقی کے عمل کے تسلسل سے وہاں لوگوں کی معاشی مشکلات میں کمی آتی ہے اور انکی فلاح و بہبود میں اضافہ ہوتا ہے۔
اگر یہ سب کچھ جینوئن جمہوری حکومت کے ذریعے سر انجام دے تو یہ آئیڈیل صورتحال ہوتی ہے جس سے جہاں عوام الناس کا فزیکل معیار زندگی کا پیمانہ بلند ہوتا ہے وہیں سماجی انڈکس کا پیمانہ بھی بلند ہوتا ہے لوگوں کو مذہبی، سماجی اور معاشی آزادی اور آزادی رائے بھی ملتی ہے جیسا کہ امریکہ اور مغربی ممالک کی ویسٹ منسٹر جمہوریت میں ہے۔
مگر بدقسمتی سے پاکستان میں جب بھی سویلین یا فوجی آمریت کے دور حکومت میں معاشی ترقی کا عمل شروع ہوتا ہے تو ہمارے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی ریشہ دوانیوں سے معاشی ترقی کا عمل رک جاتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ہم گزشتہ ستر سالوں سے غربت اور پسماندگی کے منحوس چکر میں پھنسے ہوئے ہیں اور اس کی بڑی وجہ ہماری سیاسی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ کی خود غرضانہ اور محدود طرز عمل اور سوچ و فکر ہے۔ ایوب خان کے 10 سالہ ڈکٹیٹر شپ میں پاکستان نے بہتر معاشی ترقی کی۔ تربیلا ڈیم اور منگلا ڈیم تعمیر ہوئے ان کے دور حکومت میں پاکستان کا دوسرا پانچ سالہ منصوبہ بے حد کامیاب ہوا۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا کے تمام ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں پاکستان کی شرح معاشی ترقی زیادہ تھی جس پر پاکستان کے منصوبہ بندی کمشن نے ملک میں ترقی کی رفتار تیز تر کرنے کیلئے ایک بیس سالہ 1965-85ءتناظری منصوبہ تیار کیا۔ اس پر عمل درآمد کےلئے اسے پانچ پانچ سالہ کے چار حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ پاکستان کا تیسرا پانچ سالہ منصوبہ اس سلسلے کی پہلی کڑی تھا۔ مگر پاکستان کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی سازشوں کی وجہ سے اسے ہندوستان کے ساتھ جنگ کرنا پڑ گئی۔ سامراجی مغربی ممالک یہ نہیں چاہتے تھے کہ پاکستان اتنی تیزی سے ترقی کرے اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہو جائے اور اس سے وہ اپنی پاکستان میں برآمدات کی منڈی کو گنوا دیں لہٰذا اس چیز کے پیش نظر جونہی ہماری ہندوستان کے ساتھ جنگ شروع ہوئی اور ہمارے وسائل ترقیاتی کاموں سے ہٹ کر دفاع کی طرف منتقل ہوئے تو پاکستان کو امداد دینے والے ممالک کے کنوریشم جنگ کا بہانہ بنا کر ہماری امداد کو بند کر دیا اور اس طرح ابھرتا ہوا ترقی پذیر ملک پاکستان جس کی معاشی شرح نمو 3.5 سے لے کر 6.5 فیصد سالانہ تھی اور جنوبی اشیاءحتی کہ جاپان سے بھی زیادہ تھی دوبارہ پسماندہ ممالک کی صف میں آ کھڑا ہوا۔صدر ایوب نے ڈیم بنا کر ہائیڈل بجلی کی پیداوار کو فروغ دینا شروع کیا تو انکے خلاف سیاسی تحریک کا آغاز کر دیا گیا۔ 1968-69ءمیں ملک سیاسی افراتفری کا شکار ہو گیا۔ 1970ءمیں مشرقی پاکستان میں باغیانہ سرگرمیاں اور 1971ءمیں جنگ کے بعد مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے پاکستان معاشی اور سیاسی طور پر مکمل تباہ ہو گیا۔
1973ءمیں بھٹو نے صنعتوں کو قومیانے میں لیا جس سے معاشی ترقی کی رفتار بے حد کم ہو گئی۔ پرائیویٹ سیکٹر تباہ ہو گیا مگر صنعتوں کو قومیانے سے جہاں پیداوار میں کمی ہوئی وہیں ٹریڈ یونینوں کے طاقتور ہونے سے فیکٹری ورکرز نے کام کرنا چھوڑ دیا اور سوشلزم کے نام پر کمیونسٹ مزدور لیڈروں نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا جب بھٹو نے کسی حد تک ملک کو سیاسی اور معاشی طور پر سنبھالا تو 1977ءمیں انکے خلاف امریکہ کے ایماءپر سیاسی تحریک شروع ہو گی۔ پی این اے کی الیکشنوں کے خلاف دھاندلی کو بڑی مہارت سے نظام مصطفےٰ تحریک بنا دیا گیا۔ ڈالر روپے کے مقابلے میں سستا ہو گیا اور آخر کار ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے کی وجہ سے بھٹو کو امریکی آشیرباد سے پھانسی کے پھندے تک پہنچا دیا گیا۔
بھٹو، فیصل، قذافی، صدام اور ناصر سب قوم پرست لیڈر تھے۔ بھٹو اور فیصل نے اسلامی بلاک اور تیل کے ہتھیار کو مغرب کے خلاف استعمال کیا جسکی وجہ سے ان سب قوم پرست لیڈران کو اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔ نواز شریف کو ایٹمی دھماکوں کی سزا ملی وہ اقتدار سے معزول ہوئے اور اب جب تیسری دفعہ اقتدار میں آئے ہیں تو جہاں ایک طرف ان کے اندر شخصی آمریت کا جن بیٹھا ہوا ہے اور وہ بادشاہوں کی طرح حکومت کرتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ کالا باغ ڈیم کا مسئلہ یا سی پیک کا منصوبہ ہمیشہ پختونخوا کے قوم پرست لیڈران اور دانشور ہی اسکی مخالفت کرتے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ ہماری سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے معاشی ترقی کے منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی اور عمران خان نے بھی عین موقع پر ایجی ٹیشن ختم کر دیا جس سے یہ امید بندھ رہی ہے کہ انشاءاللہ اس دفعہ پاکستان میں سی پیک کے ذریعے معاشی ترقی کے سفر میں کوئی تعطل پیدا نہیں ہو گا اور تائید غیبی سے پانامہ لیکس کا مسئلہ سپریم کورٹ میں حل ہونے جا رہا ہے جس سے امید ہے کہ اس ملک میں معاشی ترقی بالآخر جمہوریت کے ذریعے فروغ پائے گی۔