پانامہ تحقیقات :اپنا اپنا گریبان

06 نومبر 2016

مقدمہ تو ہمیشہ ملزمان کے خلاف ہوتا ہے مگر امتحان پورے معاشرے کا۔ جتنا بڑا مقدمہ ہوتا ہے اداروں اور معاشرے کیلئے اتنا ہی بڑا امتحان۔ اوپر بیٹھا جج ہو، کٹہرے میں کھڑا ملزم ہو، سامنے کھڑے وکلاءہوں، پریس گیلری میں قلم بردار صحافی ہوں، کمرہ عدالت کے سامعین ہوں، سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین ہوں یا حکومت سب کے سب تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہوتے ہیں۔ اپنی اپنی باتوں، فیصلوں، بیانات، حرکات و سکنات اور رویوں سے ہم سب اپنا اپنا گریبان چاک کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ انصاف سے بھی زیادہ انصاف کے حصول کیلئے قانونی تقاضوں کو پورا کرنا مہذب معاشروں میں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کی ذمہ داری محض عدالت یا معزز ججوں پرہی نہیں تمام مذکورہ معاشرتی عناصر پر ہوتی ہے۔ پانامہ سکینڈل کے حوالے سے سپریم کورٹ میں تحقیقات کے آغاز و انداز نے بھی ہمارے اداروں، نظام اور معاشرے کو ایک بڑے امتحان میں ڈال دیا ہے۔ گوکہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے دور میں ہر روز ہی ایک امتحان ہوتا تھا مگر شاید ہم نے اس دور سے یا تو کچھ سیکھا نہیں یا پھر اس وقت کی خطرناک روایات کو مکمل طور پر اپنا لیا ہے۔ ہم بطور ادارہ اور معاشرہ آج تک یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ مفاد عامہ ہوتا کیا ہے۔ کبھی تو پانامہ سکینڈل کی درخواستوں کو ”فضول“ (FRIVILOUS) کہہ کر مسترد کر دیا جاتا ہے یا پھر چھ ماہ تک از خود نوٹس کے قابل بھی نہیں سمجھا جاتا تو کبھی محض فریقین کے اتفاق کرنے پر ہی اسے "مفاد عامہ" کے باعث قابل سماعت قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد صرف اور صرف تحریری فیصلوں کے ذریعے بولنے کی روایت کے وارثوں کو چلا چلا کر میڈیا کہ ذریعے عوام کو باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ انصاف ہوگا، جلد ہوگا، بے رحم ہوگا، روزانہ کی بنیاد پر ہوگا، بلاخوف ہوگا اور فیصلے پر عمل درآمد بھی کروایا جائے گا۔ اپنے آئینی حلف کے متن کو بار بار ریمارکس کی صورت میں دوہرا کر شہ سرخیاں بنائی جاتی ہیں۔ کچھ لوگوں کو اپنی آواز کی گونج اتنی ہی سریلی اور خوبصورت لگتی ہے جتنی کسی اناڑی گلوکار کو غسل خانے کے آئینے کے سامنے اپنی آواز۔ شاید چھ مہینے کی اپنی خاموشی اور ”مفاد عامہ“ سے لاتعلقی کا کفارہ ادا کیا جا رہا ہے۔ ویسے بھی جب عوام اور اداروں کی محافظ حکومت خود کٹہرے میں کھڑی ہو تو انصاف کرنے والوں کو اپنے حتمی محافظوں کو بھی غیر جانبداری کا یقین دلانا ضروری ہو جاتا ہے۔ نجانے یہ ایک اعادہ اور اعلامیہ ہوتا ہے یا مجبور اور خوفزدہ شخص کا وعدہ۔ پانامہ سکینڈل کی عدالتی تحقیقات کے حوالے سے ہمیں یہ احتیاط بھی کرنا ہے کہ آئینی عہدیداران کا ماضی میں ان معاملات سے کوئی تعلق نہ رہا ہو جو اس وقت تحقیقات کا موضوع ہیں۔ مثلاً اگر کوئی وکیل یا جج زیر تحقیق جائیدار یا متعلقہ مقدمے میں وکیل یا استغاثہ رہا ہے تو یہی وقت ہے کہ وہ خود کو ان معاملات سے علیحدہ کرلے۔ اسی طرح اٹارنی جنرل کا عہدہ بھی بہت اہم ہے جس نے ایک غیر جانبدار وفاق کے نمائندے کی حیثیت سے اس بات کی تصدیق کرنا ہے کہ وہ ماضی میں کسی فریق کو زیر تحقیق جائیداد کے حوالے سے بطور ذاتی وکیل کوئی مشورہ نہ دیتے رہے ہوں۔ انھیں خود کو اس کیس سے متعلق وزیراعظم ہاو¿س یا سکریٹریٹ میں مشاورت سے بھی علیحدہ رکھنا ضروری ہوگا۔ اس معاملے میں میاں نواز شریف پر الزام ہے نہ کہ وزیراعظم پر اور اسی لئے میاں نوازشریف نے اپنے لئے ذاتی وکیل سلمان بٹ کا انتخاب کیا ہے۔ موجودہ اٹارنی جنرل اشتراوصاف علی انتہائی قابل اور بین الاقوامی کارپوریٹ لاءکے ماہر ہیں اور آج تک انھوں نے اپنے عہدے کو پروقار انداز میں نبھایا ہے۔ مگر اب پانامہ کے اس معاملے میں ان کیلئے سب سے بڑا امتحان خود کو میاں نواز شریف کے وکلاءاور وزراءسے دور رکھنا ہوگا تاکہ وہ عدالت عظمیٰ کے نوٹس پر غیر جانبدارانہ معاونت کا حق ادا کرسکیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بطور نمائندہ وفاق وہ اب بھی وفاقی حکومت یا وزیراعظم کی ہدایات کے پابند ہیں مگر پھر پانامہ کی تحقیقات میں کیا وہ وزیراعظم سے ہدایات لے سکتے ہیں یا خود وزیراعظم کو اس معاملے میں ہدایات جاری کرنی چاہئیں؟ یہ ایک سوال جس کا جواب قانون کے علاوہ اخلاقی اعتبار سے بھی درکار ہے۔ اسی صورتحال سے جڑا ہے وفاقی وزراءاور حکومتی عہدیداروں کا پانامہ سکینڈل میں بیان بازی کے ذریعے رد عمل چونکہ سپریم کورٹ میں وزیراعظم کی ذاتی حیثیت میں فریق بنایا گیا ہے تو کیا وزراءکو پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ جیسے سرکاری ادارے میں بیٹھ کر ان الزامات کا جواب دینا چاہئے؟ حکومت خود کو متنازعہ کیوں بنانا چاہتی ہے؟ کیا مسلم لیگ نون بطور سیاسی جماعت اس قابل نہیں کہ ان سیاسی الزامات کا جواب دے سکے؟ کیا مسلم لیگ نون کے پاس کوئی دفتری عمارت نہیں ؟ اسی طرح مقدمے کی سماعت کے دوران بڑی تعداد میں وفاقی وزراءکا اپنے کا چھوڑ کر کمرہ عدالت میں گھنٹوں موجود رہنا اور اپنی وزارتوں میں نہ بیٹھنا کیا سیاسی معاملے میں سرکاری وسائل اور وقت کا ضیاع نہیں؟
اب آتے ہیں اپوزیشن کے رویے اور کردار کی جانب ؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس مقدے کے آغاز سے ہی تحریک انصاف عدالتوں پر سوالات اٹھاتی رہی ہے۔ یکم نومبر کو پہلی باقاعدہ سماعت سے پہلے خیبر پختونخوا سے کی جانیوالی اسلام آباد پر یلغار کی کوشش عدلیہ پر دباو¿ برقرار رکھنے کی ہی ایک کوشش تھی۔ اگر کوئی یہ کہے کہ یہ کوشش ناکام ہوئی تو یہ بھی سچ نہ ہوگا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد جس طریقے سے متعلقہ جج کو براہ راست مخاطب کر کے انکے فیصلے پر سوالات اٹھائے گئے یہ ایک واضح پیغام تھا کہ تحریک انصاف اپنے خلاف ہونیوالے کسی بھی فیصلے پر عدلیہ کو نشانہ بنائے گی۔ اب جبکہ تحریک انصاف نے پانامہ تحقیقات کے حوالے سے سپریم کورٹ پر اعتماد کا اظہار کر ہی دیا ہے تو اسے اس معاملے پر بیان بازی بند کرنے کا اعلان کرنا چاہئے۔ اسی بیان بازی کے باعث عدالت اور معزز ججوں پر دباو¿ آتا ہے جو غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے اور اسی باعث ججوں کو بھی ریمارکس کے ذریعے اپنی غیر جانبداری ثابت کرنا پڑتی ہے۔
اب بات کرتے ہیں میڈیا کی۔ پہلے تو میڈیا محض خبروں اور تجزیوں کے ذریعے ہی عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہوتا تھا۔ اب کچھ نام نہاد صحافیوں نے عدالتوں میں اپنے نام سے درخواستیں دائر کرنا شروع کر دیا ہے۔ جو کام کچھ پیشہ ور ٹاو¿ٹ ماتحت عدالتوں میں کرتے ہیں۔ عوام کو اپنی خبروں کے ذریعے آگاہ کرنے کی بجائے اب درخواستوں کے ذریعے "مفاد عامہ" کے لبادے میں گمراہ کیا جاتا ہے۔ سستی شہرت کے بھوکے اور صحافتی اقدار سے نابلد یہ نام نہاد صحافی مفاد پرست عناصر اور چند خفیہ ہاتھوں کی ایما پر عدالتی نظام اور قانونی عمل کو یرغمال بنانے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں۔ گوکہ یہ پہلی بار نہیں ہورہا مگر ایسے نام نہاد صحافیوں کی وجہ سے میڈیا سے مرعوب ہمارا نظام عدل غیر ضروری دباو¿ میں آ رہا ہے۔ اس حوالے سے میڈیا کے ضابطہ اخلاق کی ٹھیکیدار ہماری تنظیمیں پہلے ہی ٹوٹ پھوٹ اور دھڑے بندی کا شکار ہیں۔ ایسے میں میڈیا کے اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ مختصر کہ کہ پانامہ سکینڈل نے پوری قوم اور ہمارے اداروں کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ ہم سب کو اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔ ان تحقیقات میں کسی اور پر الزام ثابت ہو نہ ہو ڈر اس بات کا ہے کہ ہم پہلے والی عدالتی تحقیقات کی طرح اجتماعی طور پر ہی اپنی آنے والی نسلوں کے مجرم نہ قرار پائیں۔ ہمارے پاس یہ سنہری موقعہ ہے کہ بطور قوم اور بطور ادارہ ہم ایسی اچھی روایات قائم کریں کہ ہماری آنے والی نسلیں مجرم سے نہیں بلکہ جرم سے نفرت کریں۔ آئیے ہم سب مل کر اپنے اپنے گریبان میں جھانکیں اور پھر ایک دوسرے کے گریبان چاک کریں۔