عدالتی کمیشن :وزیر اعظم اپنے حق میں بہتر فیصلہ کریں!

06 نومبر 2016

پانامہ لیکس سے لیکر عمران خان کے احتجاج تک، احتجاج سے دھرنوں تک، دھرنوں و لانگ مارچ تک، لانگ مارچ سے جلسے جلوسوں تک اور جلسوں سے اب سپریم کورٹ تک ہر الزام میں وزیر اعظم کانام آنا اور پھر وزیر اعظم کا تحقیقات کیلئے خود کو پیش کرنا ایک اچھا اور اہم فیصلہ ہے لیکن تجویز دینا میرا حق ہے اور میں ایک آزاد شہری کی حیثیت سے یہ حق بھی محفوظ رکھتا ہوں کہ جس طرح پرویز رشید کو خبر لیک کرنے کے حوالے سے شفاف تحقیقات کیلئے وزارت اطلاعات کے منصب سے ہٹایا گیا تاکہ اصل حقائق تک پہنچاجا سکے اور موصوف اپنے اثر ورسوخ کا غلط استعمال نہ کر سکیں بالکل اسی طرح وزیر اعظم پر بھی چونکہ الزامات لگے ہیں اس لیے انہیں ملک و قوم کی خاطر چاہیے کہ کچھ عرصہ کیلئے اقتدار اپنے کسی سیاسی جانشین کے حوالے کردیں اور اپنے آپکو شفاف انکوائری کیلئے پیش کر دیں اور اگر ان پر الزامات ثابت نہ ہوئے تو وہ دوبارہ منصب سنبھال لیں۔ وزیر اعظم کی جانب سے اگر ایسا نہ کیا گیاتو الزامات کی سیاست ساری زندگی ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ چوری ، کرپشن، دھاندلی اور پانامہ لیکس کے حوالے سے انکے سیاسی کیرئیر پر ہمیشہ کیلئے قدغن لگ جائیگا اور تاریخ انہیں اچھے لفظوں میں یاد نہیں رکھے گی اور ویسے بھی بادی النظر میں اگر کسی اور قوت نے انہیں ہٹایا تو یہ ان کیلئے بہتر نہیں ہوگا اور انکی جماعت جو یقینا اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے تنکوں کی طرح بکھر جائے گی اور کبھی سمیٹی نہیں جا سکے گی۔
اور رہی بات عمران خان کی تو عمران خان کوطعنہ دیا جا رہا ہے کہ چونکہ کارکنوں کی تعداد کم تھی لہٰذا وہ پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے۔ ایسے لوگوں پر وہ حقیقت کو تسلیم کرنے سے عاجز ہیں انہیں دو نومبر کا جلسہ دیکھ کر اندازہ نہیں ہوا کیاکہ چوبیس گھنٹے پہلے کے بلاوے پر عوام کا جم غفیر وہاں پہنچ گیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کی مقبولیت برقرار ہے بلکہ اس میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے اور اگر یہ بات مان بھی لی جائے کہ عمران خان اپنی مقبولیت کھو رہے ہیں تو پھر میرے مشاہدے کیمطابق اتنے لوگوں کا اکٹھا ہو جانا وزیر اعظم نوازشریف سے نفرت کا اظہار بھی ہو سکتا ہے یعنی اگر لوگ عمران خان کی چاہت میں اکٹھے نہیں ہوتے تو پھر شاید وزیراعظم کی نفرت انہیں اکٹھا ہونے پر مجبور کرتی ہے لہٰذا اب عمران خان نے دھرنا ختم کر کے عدالت عظمیٰ کے سامنے سرنگوں کیا ہے تو سنجیدہ حلقوں میں اسے تحسین کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ انکی اس سیاسی حکمت عملی پران سے پر خاش رکھنے والے تجزیہ نگار بھی حیران ہیں کہ انہوں نے سیاست کاری میں اپنا آپ منوا لیا ہے کہ شہر بند کرنے کی دھمکی دےکر حکومت کو مضطرب کر دیا۔ اور وہ اس اضطرابی کیفیت میں ایسی حرکات کرنے لگی کہ جو انسانی حقوق کی تنظیموں کو اپنی طرف متوجہ کر گئیں پوری دنیا میں پی ٹی آئی کے کارکنوں میں ہمدردی کے جذبات امڈ آئے اور وہ حکومت کو کھری کھری سنانے لگی حتیٰ کہ پی پی پی جو اس سے سے سیاسی سمت میں دوسری طرف ہے نے بھی احتجاج کیا دوسری چھوٹی جماعتیں بھی حکومتی رویے کےخلاف چیخ اٹھیں کہنے کا مطلب یہ ہے کہ عمران خان نے اپنے کارکنوں کو بھی بچا لیا اور مقصد بھی حاصل کر لیاکہ میاں نواز شریف جو عدالت میں جانے کیلئے راضی نہیں دکھائی دے رہے تھے اب اسکے روبرو پیش ہوں گے۔ میڈیا میں بحث مباحثے ہوں گے اور بال کی کھال اتارنے کی کوشش کی جائےگی۔ اس تناظر میں ہی پی ٹی آئی کے سربراہ نے یوم تشکر منانے کا اعلان کیا۔ اگرچہ کہا گیا کہ انہیں فیس سیونگ دی گئی ہے فیس سیونگ تب ہوتی ہے جب وہ مقصود حاصل کیے بغیر ہاتھ کھڑے کر دیئے انہوں تو پہلے ہی کہا تھا کہ نواز شریف استعفیٰ دیں یا تلاشی دیں۔اب جبکہ ”تلاشی“ کا فیصلہ ہو چکا ہے تو انہیں ناکام و نامراد تو نہیں کہا جا سکتا پھر انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ عوام کو جب اور جہاں چاہیں اکٹھا کر سکتے ہیں یہ کہ پی ٹی آئی ملک کی دوسری بڑی جماعت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا....!
میں نہ تو پی ٹی آئی کا کارکن ہوں اور نہ ہی کسی اور پارٹی کا جیالا ہوں لیکن زمینی حقائق سے واقفیت ضرور رکھتا ہوں ۔ پاناما لیکس کے بعد جوڈیشل کمیشن بننا چاہیے جو وزیراعظم نوازشریف اور دیگر لوگوں کےخلاف تحقیقات کرے، جن کے نام پاناما لیکس میں آئے ہیں۔ تحریک انصاف کا شروع دن سے یہی مطالبہ رہا کہ فوری طور پر جوڈیشل کمیشن بننا چاہیے جس کے ٹی او آرز ایسے ہوں کہ وزیراعظم کا نام تحقیقات میں لازمی شامل ہو۔دوسری طرف مسلم لیگ ن کا یہی جواب اور دلیل تھی کہ چونکہ پانامہ لیکس میں وزیراعظم کے بچوں کے نام آئے ہیں، وزیراعظم کا نہیں، اس لیے انکے خلاف تحقیقات کا کوئی جواز نہیں، مسلم لیگ ن کمیشن بنانے پر تو رضامند تھی، مگر اس کیلئے وہ مطلوبہ قانون سازی کرنے کو تیار نہیں تھی اور وہ کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آرز) کو دانستہ اس قدر پھیلانے پر اصرار کر رہی تھی کہ تحقیقات کے بعد نتیجہ جلدی نہ نکل سکے اور وزیراعظم کےخلاف کچھ فائنڈنگ نہ ہوسکے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر مسلم لیگ ن اپنے اتحادیوں اور پیپلزپارٹی جیسی فرینڈلی اپوزیشن پارٹی کے ساتھ مل کر ٹی ا و آرز کا معاملہ ہی اس قدر لمبا کھینچ گئی کہ دو تین ماہ اسی میں ضائع ہوگئے، پلاننگ غالباً یہی لگ رہی تھی کہ اس معاملے کو جتنا لمبا کھینچا جا سکے، کھینچا جائے، حتیٰ کہ پارلیمنٹ کی مدت ہی ختم ہوجائے۔تحریک انصاف نے پارلیمنٹ میں ٹی او آرز ڈرامے میں ڈھائی تین ماہ ضائع کیے، جب اچھی طرح اندازہ ہوگیا کہ یہ سب ڈرامہ بازی ہے، جس میں پیپلزپارٹی بھی کھل کر شامل ہے اور متحدہ اپوزیشن کی چھتری دراصل میاں صاحب کو سپورٹ فراہم کرنے کیلئے ہے تو پھر عمران خان الگ ہوگئے۔ عمران خان اور تحریک انصاف پچھلے کئی روز سے ایک ہی بات کہتی رہی کہ میاں صاحب یا تو استعفا دیں یا پھر تلاشی دیں۔ تلاشی کی اصطلاح تحریک انصاف نے خاص طور سے گھڑی، مطلب اس کا یہی تھا کہ میاں صاحب جوڈیشل کمیشن بننے دیں اور اس کی تحقیقات کا سامنا کریں۔ اب وزیر اعظم کو ملکی مفاد میں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے کیا کرنا ہے اور انہیں بالآخر یہ تسلیم کرنا پڑےگا کہ اس وقت وہ ملک کی بڑی جماعت کا روپ دھار چکی ہے اسکی وجہ یہی ہے کہ عمران خان ایک سچے کھرے سیاستدان ہیں وہ بدعنوانی اور موجودہ نظام حیات سے سخت بیزار ہیں۔ عوام کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر وہ کڑھتے ہیں مگر سٹیٹس کو کی حامی و محافظ سیاسی جماعتیں ان کا راستہ روک رہی ہیں اور چاہتی ہیں کہ وہ زیرو ہو جائیں لہٰذا ان کے خلاف طرح طرح کی باتیں کر رہی ہیں کبھی ان کے طرز سیاست پر تنقید کرتی ہیں اور کبھی انکے طرز عمل پر مگر عمران خان کیلئے چونکہ منافقت کرنا انتہائی مشکل ہے اور مروجہ طرز فکر کو اختیار کرنا ناممکن ہے لہٰذا روایتی سیاستدان انہیں ترچھی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں! مگر عوام جنہیں ان کا کھرا پن پسند ہیں وہ انکے پیچھے چل پڑے ہیں تاکہ موجودہ نظام سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے مگر اس کو قائم رکھنے والی قوتیں ایکا کر چکی ہیں کہ جس طرح بھی ممکن ہو انہیں اقتدار میں نہیں آنے دینا.... مگر اس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکیں گی اب عوام کے جذبات مختلف ہیں ان میں شعور پیدا ہو چکا ہے۔ وہ بڑی حد تک اپنے حقوق سے بھی آشنا ہو چکے ہیں پھر دنیا بھر میں سماجی و سیاسی تبدیلیاں آ رہی ہیں پرانے نظام ہائے حیات کی جگہ نئے نظام لے رہے ہیں لہٰذا یہ ممکن ہی نہیں کہ وطن عزیز میں حالات جوں کے توں رہیں!!
کیوں کہ سیاسی محاذ آرائی کی ایک بڑی وجہ بیڈ گورننس بھی ہے۔ نوازشریف کی حکومت گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں ابھی تک توانائی بحران کا خاتمہ نہیں کر سکی ہے جبکہ افواجِ پاکستان نے ملک میں دہشتگردی کو بڑی حد تک ختم کر دیا ہے۔ ایسے میں مسلم لیگ (ن)کس طرح 2018 ءمیں ووٹروں کا سامنا کرےگی؟ یہ تو آنیوالا وقت ہی بتائے گا۔ اب تک کی غیر سرکاری اطلاعات کیمطابق حکومت نے ساڑھے تین سالوں میں پانچ سو پچاس میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی ہے۔ جواونٹ کے منہ میںزیرے کے مترادف ہے۔ یاد رہے کہ ملک کو پانچ ہزار میگاواٹ بجلی کے بحران کا سامنا ہے۔ جو 2018 ءکے اوائل تک پورا ہوتا نظر نہیں آتا۔ گڈگورننس کا قیام تین اشیاءکامرکب ہوتا ہے۔ ان میں سرفہرست قابلیت ، دوئم اہلیت اور سوئم استعداد شامل ہیں۔ موجودہ حکومت ان تینوں عناصر سے تہی دامن نظر آتی ہے۔ تاہم ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ عدالت عظمیٰ پانامہ لیکس پر ضابطہ¿ کار کی تشکیل کے بعد تیزی سے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اس اہم مقدمہ کا فیصلہ کرےگی۔ سپریم کورٹ کا فل بنچ اس کیس میں کس کس کی تلاشی لے گا اور کس کس کے پلے سے کیا کچھ نکلے گا، اس کیلئے ہمیں تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا۔تاہم حقیقی تلاشی کے اس عمل میں جو کچھ بھی برآمد ہوگا وہ یقینا قوم کے بہترین مفاد میںہوگا اور وزیراعظم کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے حق میں بہتر فیصلہ کریں تاکہ ان تمام مسائل سے ہٹ کر حکمران عوام کی بھی بات کریں۔