اتوار‘ 5 صفر المظفر 1438ھ‘ 6 نومبر 2016ء

06 نومبر 2016
اتوار‘ 5 صفر المظفر 1438ھ‘ 6 نومبر 2016ء

چین میں بندر نے ٹرمپ کے جیت کی پیشن گوئی کر دی!
الیکشن امریکہ کے ہوں تو دنیا بھر کے لوگوں کو اس میں کچھ نہ کچھ دلچسپی ضرور ہوتی ہے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ امریکی پالیسیوں کا ان کے ملک پر، سیاست اور معیشت پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ اس بار تو معاملہ ہی ذرا اوکھا ہے۔ ایک طرف ڈیموکرٹیک کی ہلیری ہیں تو دوسری طرف ریپبلکن کے ٹرمپ۔ دونوں میں برابر کا جوڑ پڑتا دکھائی دے رہا تھا کہ ٹرمپ کے مسلمان دشمن اور خواتین دشمن رویے نے ان کے خلاف رائے عامہ کے جذبات بھڑکا دئیے اور ہلیری کی برتری واضح ہونے لگی تھی۔ مگر اب فٹبال ورلڈ کپ مقابلوں میں جس طرح یورپ کی جان اٹکی ہوتی ہے۔ کبھی ہاتھی کبھی گینڈا کبھی مگرمچھ اور کبھی پانڈے سے فال نکلوائی جاتی ہے۔ اسی طرح ہمارے ہاں بھی اکثر عقل مند لوگ فٹ پاتھ پر بیٹھے نجومی سے طوطا فال نکلواتے ہیں۔ اب چین میں بندر سے فال نکلوانے والوں نے جب ہلیری اور ٹرمپ کے مجسمے اپنے فال نکالنے والے بندر کے سامنے رکھ دئیے تو یہ دانا بندر خدا جانے ستاروں کی چال دیکھ کر یا امریکی عوام کا حال دیکھ کر وارفتگی سے ٹرمپ کے مجسمے سے لپٹ گیا اور لگا اس کے بوسے لینے۔ اب امریکی ٹرمپ کو ووٹ دیتے ہیں یا نہیں مگر بندر نے تو ٹرمپ کی جیت کی فال نکال لی۔ اب یہ بات ہلیری کے لئے تشویشناک ہو سکتی ہے۔ ویسے بھی تو ہو سکتا ہے کہ یہ چینی بندر جان بوجھ کر امریکیوں میں کنفیوژن پیدا کرنا چاہتا ہو یا اپنی جیسی شباہت کی وجہ سے اس نے ٹرمپ کو پسند کیا ہو۔
٭....٭....٭....٭
عوام کے ”آئی لوّ یُو“ کے جواب میں وزیراعظم کا ”آئی لوّ یُو ٹو“ کا جواب سُن کر حاضرین کے چہرے دمک اُٹھے!
یہ ”آئی لوّ یُو“کا تو نگوڑا لفظ ہی ایسا ہے کہ جس کو بھی چاہے اوپر اوپر سے ہی کہہ دیں اس کا دل بھی ایک لمحے کے لئے مچل سا جاتا ہے۔ اب جلسہ عام میں جب ہزاروں نہ سہی سینکڑوں افراد ہی مل کر وزیراعظم سے اظہار محبت کرتے ہوئے وزیراعظم ”آئی لوّ یُو“ یا ”نواز شریف آئی لوّ یُو“ کی گردان دُہرانے لگے ہوں تو لامحالہ میاں جی کا چہرہ بھی کشمیری سیب کی طرح سُرخ ہو گیا ہو گا جو پہلے ہی سرخ و سفید رہتا ہے۔ بس ذرا مسکراہٹ کی کمی عوام شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ اگر میاں جی کے لبوں پر چہرے پر ایک ہلکی سی شریر سی مسکراہٹ بھی آیا کرے تو لوگ انہیں کشمیری گلاب بھی کہہ سکیں گے۔
اس وقت تو انہیں اس جملے کی واقعی بہت ہی ضرورت ہے کیونکہ ایک طرف ”ناراض خان“ بلّا لے کر اور دوسری طرف بپھرا بلاول تیر سنبھالے میاں جی پر یلغار کئے ہوئے ہیں، کسی اوٹ سے کبھی کبھی سراج الحق بھی پتھراﺅ کرتے نظر آتے ہیں مگر شرارتی بچے کی طرح پھر غائب ہو جاتے ہیں۔ ان پریشانیوں میں اگر کوئی ”آئی لوّ یُو“ کہہ دے تو حوصلہ بلند ہو جاتا ہے۔ جبھی تو میاں جی نے جواب میں ”آئی لوّ یُو ٹو“ کہہ کر حاضرین جلسہ کا دل موہ لیا، لہو گرما دیا۔ عوام کا کیا وہ تو ہمیشہ آسانی سے اسی طرح بہل جاتے ہیں خوش ہو جاتے ہیں۔
٭....٭....٭....٭
پیپلز پارٹی پاپا، پھوپھو اور پُتر پارٹی بن گئی ہے : عمران اسماعیل!
ڈھرکی کے جلسے میں بلاول زرداری جس طرح عمران خان پر برسے اسکے جواب میں سر منڈاتے ہی اولے پڑنے والا محاورہ اب سامنے آ رہا ہے۔ تحریک انصاف والوں کی طرف سے بلاول پر براہ راست گل باری شروع ہوئی ہے۔ اس کا اندازہ شاید بلاول جی کو نہیں۔ عمران اسماعیل نے ایسا تُرت جملہ کسا ہے کہ اب برسوں یاروں کی محفلوں میں اسکی بازگشت سنائی دے گی۔ پی پی پی کے ردیف قافیے سے تو پہلے ....
”پی پی پی‘ پیارے دل لگا کے پی“
کا مصرعہ ذہن میں آتا تھا۔ اب یہ پاپا، پھوپھو اور پُتر نے نیا رنگ جما دیا۔ یاران خراباتو واقفان رموز سیاست پہلے ہی کہتے تھے کہ بلاول صرف مہرہ ہے پُتلی ہے جو براہ راست آصف زرداری (پاپا) کی انگلیوں پر ناچتی ہے۔ اس کی اپنی سوچ ہے ہی نہیں۔ پاپا چونکہ باہر ہیں اس لئے انہوں نے فریال تالپور کی شکل میں پھوپھو کو پُتر کی نگرانی کے لئے بلاول کے سر پر بٹھا رکھا ہے۔ پی پی پی کے عام اجلاسوں سے لے کر اعلیٰ سطحی میٹنگز تک میں یہ پھوپھو پُتر کی تمام حرکات و سکنات نوٹ کر رہی ہوتی ہے۔ ظالموں نے کیا ظالمانہ جملہ بنایا ہے کہ میٹھا خربوزہ اور اچھی پھوپھو قسمت والوں کو ملتی ہے۔ اب دیکھتے ہیں یہ نئی پی پی پی میںپاپا، پھوپھو اور پُتر کا ملاپ آپ آسمان سیاست پر کیا گل کھلاتا ہے۔
٭....٭....٭....٭
سینٹر میاں عتیق نے الطاف حسین کو اپنا قائد مان لیا!
یہ کوئی زبان پھسلنے کا معاملہ نہیں، بے خودی میں منہ سے نکلا جملہ نہیں، سینٹ میں جسے ہم پاکستانی ایوان بالا کہتے ایک معزز قسم کے سینٹر نے بالآخر دل کی بات پورے زور و شور سے کہہ ہی ڈالی۔ اگرچہ موصوف نے یہ زہر نہایت لطیف پیرائے میں شکر میں لپیٹ کر کر دیا۔ میاں عتیق کہتے ہیں کہ خیبر پی کے کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک بھی میرے قائد الطاف حسین کی طرح تقاریر کے بعد معافی مانگنے کی روایت اپنائیں۔ یہ تو گویا غالب سے معذرت کے ساتھ
کھلتا کسی پہ کیوں میرے دل کا معاملہ
”لفظوں“ کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے
والی بات ہے۔ اب کیا کہتے ہیں چیئرمین سینٹ بیچ اس مسئلے کے کیونکہ پوری قوم الطاف کو اسکے غدارانہ اور ملک دشمن تقاریر پر غدار قرار دیتی ہے۔ اب جو لوگ غدار کے ساتھ ہوں ان کو کیا کہا جائےگا۔ وہ بھی جو حکومت کے اعلیٰ ایوانوں میں بیٹھ کر جس ملک کا کھاتے ہیں اسی سے نمک حرامی کرتے ہوئے ملک کے مخالف کو اپنا قائد کہتے ہیں۔ ایسے مرغ باد نما قسم کے لوگوں کو کیا پاکستان کے معزز ایوانوں میں بیٹھنے کا حق ہے۔
٭....٭....٭....٭....٭

روحانی شادی....

شادی کام ہی روحانی ہے لیکن چھپن چھپائی نے اسے بدنامی بنا دیا ہے۔ مرد جب چاہے ...