پاکستان چین مشترکہ حکمت عملی سے بھارت کو اقوام عالم میں تنہاءکیا جاسکتا ہے

06 نومبر 2016

چین کا سی پیک سبوتاژ کرنے کی بھارتی سازشوں کیخلاف سلامتی کونسل جانے کا اعلان اور 18 بھارتی ایجنٹوں کی گرفتاری

وفاقی حکومت نے پاکستان میں جاسوسی کرنیوالے بھارتی سفارتکاروں کے معاملہ پر عالمی برادری کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ایجنڈا سے آگاہ کرنے کیلئے مو¿ثر سفارتی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ اس حوالے سے پاکستانی حکام نے سفارتی رابطوں کے ذریعے امریکہ‘ چین اور دیگر اہم ممالک کو اس صورتحال سے آگاہ کیا۔ پاکستانی حکام کے مطابق سی پیک کیخلاف بھارتی سازشوں کا معاملہ جلد باہمی مشاورت سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھایا جائیگا‘ اس سلسلہ میں پاکستان‘ چین اور دوسرے ممالک کی جانب سے بھارت پر عالمی پابندیاں عائد کرانے کیلئے سلامتی کونسل میں مشترکہ قرارداد پیش کی جا سکتی ہے۔ متعلقہ ممالک نے پاکستان کو عندیہ دیا ہے کہ وہ بھارت سے بات کرینگے اور سفارتی محاذ پر پاکستان کا ساتھ دینگے۔ وفاقی حکومت کے اہم ذرائع کے مطابق چین نے سی پیک سبوتاژ کرنے کی سازشوں کیخلاف بھارت کو سخت سفارتی پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی سازشیں بند کردے بصورت دیگر معاملہ سلامتی کونسل میں اٹھایا جائیگا۔ چین کے پیغام میں باور کرایا گیا ہے کہ اگر بھارت باز نہ آیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین نے سی پیک کیخلاف بھارتی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں مشترکہ حکمت عملی طے کی جائیگی اور سی پیک کی سکیورٹی میں مزید اضافہ کیا جائیگا۔
سی پیک سبوتاژ کرنے کی بھارتی گھناﺅنی سازشیں تو اب کھل کر سامنے آرہی ہیں۔ ان سازشوں کا آغاز خود بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اقتصادی راہداری کے اس منصوبے کے آغاز ہی میں بیجنگ جا کر چینی قیادت کے ساتھ باضابطہ احتجاج کی صورت میں کیا تھا اور چین پر اس منصوبے میں شامل نہ ہونے کیلئے دباﺅ ڈالا تھا تاہم چین کے صدر اور وزیراعظم دونوں نے نریندر مودی کو دوٹوک الفاظ میں باور کرادیا کہ چین اقتصادی راہداری منصوبے سے کسی صورت دستکش نہیں ہوگا اس لئے بھارت اپنے کام سے کام رکھے اور دو ممالک کے مابین طے پانے والے معاہدہ میں کسی قسم کی مداخلت نہ کرے۔ چین کی جانب سے اس دوٹوک جواب کے بعد مودی نے ایران کے ساتھ چاہ بہار پورٹ کی تکمیل کیلئے راہ و رسم بڑھائی اور اسے گوادر بندرگاہ کے مقابل لانے کی سازش کی جس کے تحت مودی نے افغانستان اور خطے کے دوسرے ممالک کو چکمہ دیا کہ باہمی رابطے اور تجارت کیلئے گوادر پورٹ کی نسبت چاہ بہار پورٹ ان کیلئے زیادہ سودمند ہوگی۔ اس حوالے سے افغانستان ضرور بھارت کے چکمے میں آیا اور اس نے پاکستان پر دہشت گردی کا ملبہ ڈالنے کیلئے بھارت جیسا لب و لہجہ ہی اختیار کرلیا جبکہ خطے کے دوسرے ممالک بشمول روس اور دوسری وسطی ایشیائی ریاستوں نے اس بھارتی چکمے کو ہرگز قبول نہیں کیا اور اس حوالے سے بھی سی پیک کی تکمیل اور اسے اپریشنل کرنے کیلئے بھارت اور افغانستان کے سوا خطے کے دوسرے تمام ممالک دلچسپی لے رہے ہیں کہ اس سے خطے میں بھارت کی تھانیداری اور امریکہ کے سپرپاور ہونے کا زعم بھی ٹوٹے گا جبکہ ان دونوں ممالک کے گٹھ جوڑ کے نتیجہ میں علاقائی اور عالمی سلامتی کو سخت خطرات لاحق ہیں۔ چین کی بھی اسی تناظر میں سی پیک کی تکمیل میں زیادہ دلچسپی ہے کہ اس راہداری منصوبے کے ذریعے اسکی علاقائی اور عالمی منڈیوں تک رسائی آسان ہو جائیگی اور عالمی منڈیوں تک کا سفر کم ہونے سے بھی اسکی اخراجات کی مد میں تقریباً آدھی رقم بچ جائیگی اس لئے سی پیک کی تکمیل چین کی اپنی ضرورت ہے اور اسی بنیاد پر ایران کو بھی اس منصوبے میں شامل ہونے کی چین نے خود پیشکش کی جس پر اب تک حوصلہ افزاءپیش رفت بھی کی جاچکی ہے۔
یہ صورتحال دیکھ کر بھارت کے سینے پر سانپ لوٹ رہے ہیں کیونکہ اسکی خواہشات اور تمام تر سازشوں کے برعکس سی پیک کے ذریعہ پاکستان کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے راستے کھل رہے ہیں چنانچہ وہ پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کی اپنی شروع دن کی سازشوں کو آگے بڑھا کر سی پیک کے درپے ہو گیا ہے جسے سبوتاژ کرنے کیلئے مودی سرکار نے بھارتی ایجنسی ”را“ میں ایک خصوصی سیل قائم کیا جس کا بلوچستان میں نیٹ ورک قائم کرکے پاکستان کے دیگر متعلقہ حصوں تک پھیلا دیا گیا۔ اس سیل نے ہی اربوں روپے تقسیم کرکے پاکستان میں موجود اپنے ایجنٹوں کے ذریعے سی پیک پر اعتراضات اور تحفظات کے اظہار کا سلسلہ شروع کرایا جبکہ اس سیل کو چلانے والے آٹھ بھارتی سفارتکاروں نے سی پیک کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کی نیت سے بھی بلوچستان‘ کراچی اور ملک کے دوسرے حصوں میں فرقہ ورانہ دہشت گردی کو ہوا دی اور بلوچستان کے علیحدگی پسند عناصر کی بھی سرپرستی شروع کردی۔
بھارتی ”را“ کے اس جاسوسی اور دہشت گرد نیٹ ورک کا انکشاف بلوچستان سے گرفتار ہونیوالے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو نے اپنے اقبالی بیان میں کیا تو اس نیٹ ورک کا ”کھرا“ نکلتے نکلتے اسلام آباد میں قائم بھارتی ہائی کمیشن تک جا پہنچا جہاں سفارتکاروں کے بھیس میں بھارتی ”را“ کے آٹھ جاسوس تعینات تھے جن کی اب تک کی غیرسفارتی سرگرمیوں سے انکے پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہونے اور دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے کے ٹھوس ثبوت بھی ہماری سکیورٹی ایجنسیوں کو حاصل ہوچکے ہیں اس لئے ان بھارتی جاسوسوں کے حوالے سے کوئی متضاد سوچ موجود نہیں چنانچہ حکومت نے یہ سنگین معاملہ بھارتی قیادت کے سامنے اٹھایا اور بھارت کیخلاف سلامتی کونسل میں جانے کا عندیہ دیا۔
پاکستان کی سلامتی اور سی پیک کو سبوتاژ کرنے کی ان بھارتی سازشوں کے منظرعام پر آنے کے بعد پاکستان نے بھارتی ہائی کمیشن میں بیٹھے بھارتی جاسوسوں اور دہشت گردوں کیخلاف سخت کارروائی کیلئے ویانا کنونش کے تحت اقوام متحدہ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو بھارت اپنے ان دہشت گردوں کے منظرعام پر آنے کے بعد خفت مٹانے کیلئے انہیں ملک واپس بلوا رہا ہے تاہم ان دہشت گردوں کا پھیلایا نیٹ ورک بلوچستان‘ شمالی علاقہ جات اور کراچی میں بدستور سرگرم عمل ہے اور گزشتہ روز حساس اداروں نے شمالی علاقہ جات میں سی پیک کیخلاف سازشوں میں مصروف اس نیٹ ورک کو 18 بھارتی ایجنٹوں سمیت پکڑ لیا ہے جن میں پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے میں معاون بننے والے ہینڈلرز اور سہولت کار بھی شامل ہیں۔ انکے قبضے سے دھماکہ خیز مواد اور حساس مقامات کے نقشے بھی برآمد ہوئے ہیں جس سے واضح عندیہ ملتا ہے کہ یہ دہشت گرد پاکستان کے متعدد اہم مقامات اور تنصیبات کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔ دشمن کے ان ایجنٹوں نے اپنے مقامی کارندوں کے نام بھی اگل دیئے ہیں اس لئے توقع کی جاسکتی ہے کہ ہماری سکیورٹی ایجنسیوں کے بے لاگ اور بلاامتیاز اپریشن سے ان دہشت گردوں اور بھارتی جاسوسی نیٹ ورک کا یہاں نام و نشان بھی نہیں رہے گا۔
بھارتی ایجنٹوں کا اسلام آباد میں سفارتکار کے بھیس میں بھارتی ہائی کمیشن میں بیٹھ کر پاکستان کی سالمیت کیخلاف کھلم کھلا سازشوں میں مصروف ہوناسفارتی پروٹوکول کے حوالے سے ویانا کنونشن کی ہی صریحاً خلاف ورزی نہیں‘ ہمارے لئے لمحہ¿ فکریہ بھی ہے کہ یہ بھارتی ایجنٹ عرصہ دراز سے بھارتی ہائی کمیشن میں سفارتکار کے بھیس میں بیٹھے ہماری سلامتی کیخلاف سازشیں کررہے تھے اور ہماری حکومتی‘ سیاسی اور عسکری قیادتوں کو اسکی کانوں کان خبر نہ ہوسکی۔ اس تناظر میں جہاں ہماری انٹیلی جنس اور سکیورٹی کی ایجنسیوں کو اپنی صفوں میں موجود خامیوں اور کمزوریوں کو دور کرنا ہے وہیں ہمارے حکمرانوں نے اقوام عالم میں بھارتی عزائم ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ بے نقاب بھی کرنے ہیں۔ خوش قسمتی سے چین اس وقت ہم سے بھی زیادہ پرجوش انداز میں پاکستان کی سلامتی اور اسکے مفادات کی وکالت کررہا ہے جو بھارت کیخلاف سلامتی کونسل اور دوسرے عالمی فورموں پر رجوع کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ اس سے یقیناً بھارت کیخلاف ہمارے موقف کو مزید تقویت حاصل ہورہی ہے۔ اب چین اور پاکستان باہم مل کر سی پیک سبوتاژ کرنے کی بھارتی سازشوں کیخلاف سلامتی کونسل سے رجوع کررہے ہیں جس کیلئے سلامتی کونسل کے متعدد دوسرے ممالک بھی چین اور پاکستان کی حمایت کا عندیہ دے چکے ہیں تو اب بھارت کو اقوام عالم میں تنہاءکرانے اور ایک دہشت گرد ملک ہونے کے ناطے اس پر اقوام متحدہ کی جانب سے عالمی اقتصادی پابندیاں عائد کرانے کی کوششوں میں کوئی کمی نہیں ہونے دینی چاہیے کیونکہ اسی عالمی دباﺅ کے نتیجہ میں بھارت یواین قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر حل کرنے اور کشمیری عوام کو استصواب کا حق دینے پر مجبور ہوگا۔