کراچی میں ایک گھنٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کے چار واقعات.... لمحہ فکریہ!

06 نومبر 2016
کراچی میں ایک گھنٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کے چار واقعات.... لمحہ فکریہ!

کراچی : ایک گھنٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کے چار واقعات۔ اہلسنت والجماعت کے چار کارکنوں سمیت چھ افراد جاں بحق۔ لیاری میں دستی بم سے حملہ 15 افراد زخمی۔
چند دنوں کے وقفے کے بعد کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا اور ٹارگٹ کلرز نے شہر کے مختلف علاقوں میں ایک گھنٹہ کے دوران اہلسنت والجماعت کے چار کارکنوں سمیت چھ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ٹارگٹ کلنگ کا یہ نیا سلسلہ ایسے وقت شروع ہوا جب ایک دن قبل ہی سندھ اپیکس کمیٹی نے کراچی میں جاری رینجرز آپریشن کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے شہر میں امن و امان کی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ابتدائی تحقیقات کیمطابق تمام وارداتوں میں نائن ایم ایم پستول استعمال ہوا۔ رینجرز آپریشن کے باعث کراچی کے شہریوں نے قدرے سُکھ اور اطمینان کا سانس لیا تھا کہ ٹارگٹ کلنگ کی نئی لہر نے ایک بار پھر انہیں خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے۔ اہلسنت والجماعت کے کارکن ریلی میں شرکت کے بعد واپس آ رہے تھے کہ ٹارگٹ کلرز کی گولیوں کا نشانہ بن گئے جبکہ دوسرے واقعات میں بے گناہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ٹارگٹ کلنگ کے حالیہ واقعات کو 29 اکتوبر کی ناظم آباد کی ٹارگٹ کلنگ کا ردعمل قرار دیا جا رہا ہے جس میں مجلس کے دوران گھر کے باہر تین سگے بھائیوں سمیت پانچ افراد نشانہ بنے تھے جبکہ ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی پاکستان نے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کے یہ واقعات شہر میں فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی سازش ہے۔ آئی جی سندھ نے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس گشت اورسٹیپ چیکنگ بڑھانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ شہر میں جاری رینجرز آپریشن کے باوجود ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ ختم نہ ہونا امن و امان قائم کرنےوالے تمام اداروں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...