سانحہ کوئٹہ میں ہسپتال کے ڈاکٹرز اور طبی عملے کی غفلت ناقابل معافی ہے

06 نومبر 2016

سانحہ کوئٹہ : ایمبولینس تھی نہ سٹریچر ، پیرا میڈیکل سٹاف فلم بناتا رہا ۔ زخموں پر ٹائیاں باندھیں ، عینی شاہد ڈاکٹر شہلا ، دھماکے کی جگہ ہوئے۔ آواز سن کر پہنچی تو کوئی اور ڈاکٹر یا نرس نظر نہیں آئی ۔ بروقت طبی امداد دی جاتی تو کئی جانیں بچ سکتی تھیں ۔عدالت میں بیان
6 اگست کو سول ہسپتال کے مین گیٹ پر ہونےوالے خود کش دھماکے میں بڑی تعداد میں وکلاءکی ہلاکتوں کے کیس کی سماعت کے دوران واقعہ کی عینی شاہد ڈاکٹر شہلا نے عدالت میں جس طرح ہسپتال کے عملے کی غفلت اور بے حسی کا ذکر کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دھماکہ کے بعد اگر طبی عملہ جو ہسپتال میں موجود تھا موبائل سے سلفیاں اور موویز بنانے کی بجائے ڈاکٹر شہلا کی طرح زخمیوں کی فوری امداد کو پہنچتا تو کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں ۔ مگر وہاں تنہا ڈاکٹر شہلا نے ہمت و جذبے سے زخمیوںکو سنبھالا اس کام میں انکی درخواست پر صرف 4 وکلاءآگے آئے جنہوں نے انکی مدد کی ۔ اس دھماکے کے بعد موقع واردات سے غائب ہونیوالے ڈاکٹرز اور طبی عملے نے جس طرح اپنے فرائض کی انجام دہی سے روگردانی کی وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں ۔ ان کےخلاف عدالت میں کیس کے علاوہ خود صوبائی حکومت سرکاری ملازمین ایکٹ کے تحت سخت کارروائی کرے ۔ ایم ایس کی طرف سے 25 منٹ بعد آنے اور ہسپتال میں درجنوں سٹریچرز اور ایمبولینسوں کی موجودگی کا بیان کسی صورت ان کا دفاع یا اس نقصان کی تلافی نہیں کر سکتا جو ہو چکا۔ یہ تمام لوگ اپنی ڈیوٹی سے سنگین غفلت کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ انہیں اسکی سزا ضرور ملنی چاہئے۔