رائے ونڈ کے اجتماع کے بعد بھی بھائی چارے کا جذبہ برقرار رکھا جائے

06 نومبر 2016
رائے ونڈ کے اجتماع کے بعد بھی بھائی چارے کا جذبہ برقرار رکھا جائے

اللہ آزمائش میں ثابت قدم رہنے والوں کو نوازتا ہے‘ بھلائی اور خیر کو عام کرنے کےلئے ہر امتی داعی امن و آشتی بن جائے۔ رائیونڈ کے اجتماع سے علماءکرام کا خطاب۔
رائیونڈ کے سالانہ تبلیغی اجتماع میں ملک بھر کے علاوہ دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان شرکت کرتے ہیں۔ اس سہ روزہ اجتماع میں علما کرام مسلمانوں کو دنیاوی برائیوں سے بچنے اور انہیں احکامات خداوندی اور سنت نبوی پر چلنے کی تلقین کرتے ہیں۔ اگر ہم سب اس پر عمل پیرا ہوں تو ہمارا معاشرہ ایک مکمل پرامن اسلامی معاشرہ بن سکتا ہے۔ جہاں جھوٹ‘ نفرت‘ کرپشن اور فرقہ واریت کا نشان تک نہیں ملے گا۔ اجتماع کے آخری روز علما کرام نے جس دلسوزی سے روتے ہوئے اللہ کے حضور امن‘ انصاف اور باہمی بھائی چارے‘ برائیوں سے نفرت اور نیک اعمال بجا لانے کی ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کی دعائیں کیں اگر وہ قبول ہو جائیں تو ہمارے ملک میں ہر طرف امن و آشتی کا دور دورہ ہو جائے۔ یہ اجتماع ملک بھر کے ہر زبان و نسل کے لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے جبکہ اس کا نظم و ضبط اور انتظام و انصرام اس حوالے سے بے مثال ہے کہ ہر سال ہونیوالے لاکھوں افراد کے اس اجتماع میں آج تک تخریب کاری اور دہشتگردی کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا۔ اس سے یقیناً مسلمانوں کے بارے میں دہشت گردی کے تاثر کو زائل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اب اس اجتماع کے بعد بھی اسکے شرکا اگر یہی جذبہ برقرار رکھیں تو ہم ایک متحد و مضبوط قوم بن کر اپنے ملک میں ایک مثالی اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔