جنوبی وزیرستان میں میجر کی شہادت کے بعد انتظامیہ متحرک، مارکیٹ کو ڈائنامائٹ سے اُڑا دیا

06 نومبر 2016

ڈیرہ اسماعیل خان (آن لائن ) وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کی جنوبی وزیرستان ایجنسی میں رواں ہفتے ایک بم دھماکے میں آرمی میجر کی شہادت اور متعدد کے زخمی ہونے کے بعد مقامی انتظامیہ نے سزا کے طور ایک مارکیٹ کو ڈائنامائٹ سے اڑا دیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق مقامی حکام اور رہائشیوں نے تصدیق کی کہ واقعہ جنوبی وزیرستان کے ہیڈ کوارٹرز وانا کے رستم بازار میں پیش آیا۔جنوبی وزیرستان ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ ظفرالاسلام خٹک نے بتایا یہ اقدام فرنٹیئر کرائم ریگولیشن (ایف سی آر) کی شق اجتماعی اور علاقائی ذمہ داری کے تحت اٹھایا گیا۔حکام نے بازار کی شناخت المحب مارکیٹ کے نام سے کی، جہاں رواں ہفتے ایک سرچ آپریشن کے دوران ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں ایک فوجی افسر میجر عمران شہید اور 10 دیگر افراد زخمی ہوگئے تھے۔ واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ نے وانا بازار میں کرفیو نافذ کرکے 6 ہزار سے زائد دکانوں کو بند کردیا۔مارکیٹ کے مالک علی وزیر نے بتایا 2 منزلہ مارکیٹ کو ڈائنامائٹ سے اڑانے کے نتیجے میں انھیں شدید مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ دھماکے پورے ملک میں ہوتے ہیں، لیکن کہیں بھی سزا کے طور پر مارکیٹوں کو ڈائنامائٹ سے نہیں اڑایا جاتا۔ مقامی ذرائع کے مطابق مقامی عمائدین کی جانب سے اس معاملے کو جرگے کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں ناکام ہوگئی تھیں۔ ساؤتھ ایشیا ٹیرزم پورٹل کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس 11 ستمبر تک پاکستان میں 457 شہری اور 182 سکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے ہیں تو 2015ء کے اسی عرصے میں ہونے والے جانی نقصان کے مقابلے میں کم نقصان ہوا۔