امریکی صدارتی الیکشن پرسوں، ہیلری کو ٹرمپ پر 4پوائنٹس کی برتری ، ساری توجہ فلوریڈ پر

06 نومبر 2016

واشنگٹن (نوائے وقت رپورٹ) امریکی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن کو ریپبلکن حریف ڈونلڈ ٹرمپ پر چار پوائنٹس کی برتری حاصل ہو گئی ہے۔ نئے سروے کے مطابق ہلیری کلنٹن کو 47 جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو 43 فیصد عوامی حمایت حاصل ہے یاد رہے کہ 30 اکتوبر کو ٹرمپ کو ہلیری پر ایک پوائنٹ کی سبقت حاصل تھی۔ امریکہ میں صدارتی الیکشن کو دو دن باقی، معرکے سے قبل دہشت گردی کا خطرہ، سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی۔ 8 نومبر کو امریکہ میں صدارتی انتخاب ہے اور ریپبلکن جماعت کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن دونوں ہی نیو یارک میں ہوں گے۔ دوسری جانب دونوں صدارتی امیدوار مہم کے آخری مراحل میں ہیں۔ فوکس نیوزکے مطابق ہلیری کلنٹن کو ڈونلڈ ٹرمپ پر دو پوائنٹس کی سبقت ہے۔ امریکہ میں 8 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کیلئے مہم آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہے۔ اب تک 3 کروڑ 30 لاکھ افراد عام ووٹنگ کے دن سے قبل ہی اپنا حق رائے دہی استعمال کر چکے ہیں۔ دونوں امیدواروں کی ٹیم اب ووٹروں کو اپنی جانب راغب کرنے کے بجائے زیادہ سے زیادہ اپنے حامی ووٹروں کو ووٹ ڈالنے کی ترغیب دے رہی ہیں۔ دوسری جانب ایف بی آئی اور نیو یارک پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ان اطلاعات کا جائزہ لے رہے ہیں جس کے مطابق القاعدہ امریکہ میں الیکشن سے ایک روز قبل دہشت گرد کارروائی کر سکتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے تفتیشی افسر ان اطلاعات کا جائزہ لے رہے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن سے ایک روز قبل نیو یارک ٹیکس اور ورجینیا کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ایف بی آئی نے کہا ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ملکر ان اطلاعات کی تفتیش کر رہی ہے اور تمام انٹیلجنس رپورٹس شیئر کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ 8 نومبر کو امریکہ میں صدارتی انتخابات ہے اور ریپبلکن جماعت کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹ جماعت کی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن دونوں ہی نیویارک میں ہوں گے۔ شدت پسند کارروائی کے خطرے کے حوالے سے سب سے پہلے خبر سی بی ایس نیوز نے چلائی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے دفتر پرنامعلوم افرادنے پتھراﺅ کیا، جس کے بعد پولیس نے ایک مشتبہ شہری کو حراست میں لے لیا اور اسے تھانے منتقل کر دیا گیا۔ پتھراو¿سے دفتر کو نقصان پہنچا تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ واقعہ جس وقت پیش آیا تب ٹرمپ دفتر میں موجود تھے یا نہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے ڈینیور میں دفتر پر نامعلوم شخص نے پتھراﺅ کر دیا جس کے بعد پولیس نے ایک مشتبہ شہری کو حراست میں لے لیا ہے اور اسے تھانے منتقل کر دیا گیا ہے۔ حراست میں لیے گئے ملزم سے پولیس کی تفتیش جاری ہے جبکہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے حاصل ہونے والی تصاویر سے بھی مدد لی جا رہی ہے۔ ٹرمپ نے ریپبلکنز سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ عوام ہلیری اور بل کلنٹن کو الوداع کہہ دیں۔ اس وقت دونوں امیدواروں کی ساری توجہ ریاست فلوریڈا پر ہے جو اس کاٹنے دار صدارتی مہم میں فتح گر کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ دونوں امیدواروں کی ٹیم اب ووٹروں کو اپنی جانب راغب کرنے کے بجائے زیادہ سے زیادہ اپنے حامی ووٹروں کو ووٹ ڈالنے کی ترغیب دے ہی ہیں۔ صدارتی انتخابات کا تو کچھ ریاستوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں کامیابی حاصل کرنے والے صدارتی امیدوار اصل انتخاب میں بھی کامیاب ہوتے ہیں ریاست اوہایو میں کامیاب ہونے والے امیدوار 44 انتخابات میں صدر بن سکے ہیں کسی بھی ریاست کا یہ بہترین ریکارڈ ہے۔ اوہایو نے 1964ءسے لیکر آج تک یعنی 13 مسلسل انتخابات میں کبھی ہارنے والے کو ریاستی سطح پر کامیابی نہیں دی۔ متذبدب امریکیوں کے نزدیک ہلیری کٹھ پتلی اور ٹرمپ ایک مذاق ہیں۔