پانامہ لیکس کیس‘ پاکستان بارکونسل کا سپریم کورٹ کا دائرہ سماعت چیلنج کرنے کا عندیہ

06 نومبر 2016

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) پاکستان بار کونسل نے سپریم کورٹ میں 'پامانہ پیپرزلیکس 'سے متعلق زیر التواء مقدمہ میں سپریم کورٹ کے دائرہ سماعت کو چیلنج کرنے کا عندیہ دیاہے۔ ہفتہ کے  روز اٹارنی جنرل / چیئرمین پی بی سی اشتر اوصاف علی کی زیر صدارت پی بی سی کا اجلاس سپریم کورٹ بلڈنگ میں واقع پی بی سی کے مرکزی دفتر میںمنعقد ہوا جس میں 23میں سے 13ممبران نے شرکت کی جن میںاحسن بھون ،سید قلب حسن، عابد ساقی ، راحیل کامران، اعظم نذیر تارڑ، یوسف لغاری ، کامران مرتضیٰ، عبدالفیاض خان ،اختر حسین، حفیظ الرحمان ، غلام شبیر شر،سیدامجد شاہ اور شیر محمد شامل تھے ،جبکہ وائس چیئرمین بیرسٹر فروغ نسیم سمیت 10ممبران نے اجلاس کابائیکاٹ کیا ، اجلاس کے بعد ان فاضل اراکین نے مشترکہ پریس کانفرنس منعقد کی جس میں پی بی سی کے سندھ سے رکن یوسف لغاری نے صحافیوںکو بتایا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ چونکہ پی بی سی کے وائس چیئرمین بیرسٹر فروغ نسیم اکثریت کھو چکے ہیں اس لئے ان کا اس عہدہ پر رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے جبکہ مختلف معاملات پر پی بی سی کے اراکین کا مشترکہ موقف اور فیصلے میڈیاکے سامنے لانے کے لئے ممبرپی بی سی کامران مرتضیٰ ایڈوکیٹ کو اپنا ترجمان مقرر کردیا گیا ہے ، پی بی سی کے 23میں سے 13ممبران کی اکثریت ہمارے ساتھ ہے،جن میں سے 12اس وقت ہمارے ساتھ ہیں جبکہ ایک رکن شیر محمد کی فلائٹ تھی اس لئے چلے گئے ہیں ، انہوںنے کہا کہ ہماری روایت رہی ہے کہ جب پی بی سی کے کسی عہدہ دار کے پاس اکثریت ختم ہو جاتی ہے وہ خود ہی عہدہ چھوڑدیتا ہے ،لیکن اس وقت ایسا نہیں ہو رہا ہے ،جبکہ اس وقت ہڑتالوں کے اعلان اور دیگر معاملات پر پی بی سی کی مشترکہ رائے کی بجائے فرد واحد کی رائے ہی میڈیا پر لائی جارہی تھی ،جس پر ہم نے اپنا مشترکہ ترجمان مقرر کیا ہے ،انہوں نے کہا کہ پی بی سی کے اجلاس میں پانامہ پیپرز لیکس کے حوالہ سے سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے ا ور آئندہ 26نومبر کے اجلاس میںپی بی سی کی جانب سے پانامہ پیپرز لیکس کے حوالہ سے سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرنے کا بھی جائزہ لیا جائے گا کیونکہ اگر ایک عدالت کو کسی چیز کا اختیار ہی نہیں ہے تواگر دونوں فریقین بھی اس پر اپنی مرضی دے دیں تو بھی عدالت اس پر عمل نہیں کرسکتی ہے ، عدالت کو سیاسی معاملات میں ملوث نہیں ہونا چاہییے، فاضل عدالت نے اگر اس کیس کی سماعت کرنی ہی ہے تو خود احتسابی کا مظاہر کرتے ہوئے سب سے پہلے لاہور ہائی کورٹ کے حاضر سروس جج، جسٹس فرخ عرفان جنکا نام پانامہ اور بہامال لیکس میں آف شور کمپنیوں کے حوالہ سے آرہا ہے، ان کا احتساب کیا جائے۔