سیاسی دھند تو بیٹھ گئی ہے لیکن ……

06 نومبر 2016
سیاسی دھند تو بیٹھ گئی ہے لیکن ……

اسلام آباد کو لاک اپ کرنے کی جو تحریک‘ پاکستان تحریک انصاف نے چلائی تھی اس سے سیاسی منظر پر جو دھند چھائی تھی وہ بیٹھ گئی۔ سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کا معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ اب پاکستان مسلم لیگ (ن) پی ٹی آئی‘ جماعت اسلامی اور دوسری جماعتیں سپریم کورٹ میں اپنا اپنا موقف پیش کریں گی۔ ساری جماعتوں نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم کریں گی۔ قانونی اور سیاسی حلقوں کی رائے ہے کہ سپریم کورٹ نومبر میں ہی پانامہ لیکس کے بارے میں فیصلہ سنا دے گی۔
سیاسی ماحول پر چھائی ہوئی دھند تو فی الحال بیٹھ گئی ہے۔ لیکن پنجاب اور ملک کے کئی دوسرے حصے دھند اور کہر میں لپٹے ہوئے ہیں۔ اس دھند کی وجہ سے کئی جان لیوا حادثات ہو چکے ہیں ‘ جن میں درجنوں مسافر جاں بحق ہوئے ہیں۔ پاکستان نے 2 نومبر کو عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں پیرس سمجھوتے پر دستخط کر دئیے ہیں۔ اس سمجھوتے کے بعد پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کو روکنے کے لئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔
پاکستان ان دس ملکوں میں شامل ہے جو دنیا میں رونما ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس سال مون سون کی بارشوں کی کمی عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔ عالمی سطح پر جو ماحولیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں ان میں بارشوں میں کمی‘ طویل خشک سالی‘ مسلسل بارشیں اور ان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب ان ملکوں کو متاثر کر رہے ہیں‘ جو عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہیں پاکستان ان ملکوں میں شامل ہے۔ پنجاب اور ملک کے دوسرے حصوں میں دھند نے سارے ماحول کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے‘ یہ دھند بارشوں کی وجہ سے ختم ہو سکتی ہے لیکن بارش ہے کہ برسنے کا نام نہیں لیتی۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور بعض دوسرے مذہبی رہنماؤں نے قوم سے نماز استسقاء ادا کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ کم سے کم پانچ ماہ سے جاری یہ خشک سالی ختم ہو۔ پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلیوں کی ایک وجہ تو عالمی سطح پر Environment میں آنے والی تبدیلیاں ہیں۔ ان تبدیلیوں کی ذمہ داری پاکستان پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ پاکستان کا ان میں حصہ بہت کم ہے‘ دنیا کے اسی ترقی یافتہ ملکوں نے عالمی ماحول کو تلپٹ کرنے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ موسمیاتی تغیر سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں میں شامل ہے۔ پاکستان اس خطے میں واقع ہے جو ہندوکش ہمالیہ اور قراقرم کے علاقے میں موجود گلیشیرز کے پگھلنے سے متاثر ہو رہا ہے۔ یہ گلیشیئر گلوبل وارمنگ سے پگھل رہے ہیں۔ ان گلیشیئرز کے پگھلنے سے پاکستان پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ گلیشیئر پگھلنے سے سیلاب آ سکتے ہیں۔ پاکستان میں داخل ہونے والے دریاؤں کے ذریعے آنے والی Pollution کی وجہ سے ہمارے ڈیموں میں مٹی بھر جائے گی۔ ماہرین اس عمل کو Siltation کہتے ہیں۔ اس سے ہمارے ڈیموں کی زندگی کم ہوتی جائے گی۔
گرمی اور درجہ حرارت بڑھنے سے پانی کی فراہمی کم ہو جائے گی۔ پاکستان کے وہ علاقے جو بارشوں سے سیراب ہوتے ہیں ان علاقوں میں بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے زرعی پیداوار کم ہو جائے گی۔ راقم کو کئی غیر ملکی ماہرین سے ملاقات کا موقع ملتا رہا ہے وہ سب ایک عرصہ سے خبردار کرتے چلے آ رہے ہیں کہ پاکستان میں پانی کی کمی کا مسئلہ شدید ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان اپنے دریاؤں کا پانی ضائع کر رہا ہے‘ ان دریاؤں پر بند باندھ کر اس اربوں کیوسک فٹ پانی کو جو سمندر میں چلا جاتا ہے اسے روکا جا سکتا ہے۔ پاکستان ڈیم بنا کر اس پانی کو آب پاشی کے لئے استعمال کر سکتا ہے اور اس سے سستی بجلی بھی حاصل کر سکتا ہے۔ پچھلے 30 برس میں راقم نے بلامبالغہ سینکڑوں ایسے سیمیناروں میں شرکت کی ہے جہاں ملکی اور غیر ملکی ماہرین خبردار کرتے رہے ہیں کہ پاکستان کو پانی کے مسئلے کی طرف توجہ دینا چاہئے ‘ ہمارے پالیسی ساز حضرات ان سیمیناروں اور اجلاسوں میں خود بھی پانی کی کمی کے مسئلہ پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں اور غیر ملکی ماہرین کی ہاں میں ہاں بھی ملاتے رہے ہیں‘ لیکن عملاً پانی کے بارے میں مسائل کے حل کیلئے کچھ نہ ہو سکا۔ یہ ماہرین برف کے تودوں یعنی گلیشیئر کے پگھلنے سے جہاں سیلابوں سے خبردار کرتے رہے ہیں بلکہ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ دریاؤں میں پانی کے زیادہ بہاؤ کی وجہ سے سطح سمندر بلند ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں ساحلی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں اور وہاں کی آبادیوں کو کسی اور جگہ منتقل ہونا پڑے گا۔ پاکستان میں جنگلات کی تباہی بھی ہمارے ماحول کو ایک طویل عرصے سے متاثر کرتی چلی آ رہی ہے۔ جنگلات کی ناجائز کٹائی اور کٹ جانے والے درختوں کی جگہ نئے درخت نہ لگانا یعنی Afforestation نہ کرنا بھی ایک بڑا قومی جرم رہا ہے۔ جنگلات کے محکمہ کی فائلوں میں تو اب تک پاکستان میں ہر سال کروڑوں درخت لگ چکے ہیں لیکن یہ درخت صرف کاغذوں پر ہیں۔ شجرکاری مہم کا ہر سال زور و شور سے آغاز ہوتا ہے‘ صدر وزیراعظم اور دوسری شخصیات پودا لگا کر مہم کا آغاز کرتے ہیں۔ عملاً پودے لگتے کم ہیں اور کٹتے زیادہ ہیں۔ ہمارے ہاں تو بااثر افراد جن میں بعض سیاستدان بھی شامل ہیں کی کمائی کا ذریعہ بھی سرکاری جنگلات کی کٹائی اور لکڑی کی سمگلنگ رہا ہے۔ ماحول دشمن اقدامات کے نتیجہ میں اب پاکستانی قوم کو خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔