پرویز رشید نہیں، متنازعہ خبر کی تحقیقات ہو رہی ہے: ہائیکورٹ کے سابق جج کی سربراہی میں کل تک کمیٹی بنے گی: نثار

06 نومبر 2016

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی+ خبرنگار خصوصی+ ایجنسیاں) قومی سلامتی سے متعلق اجلاس کے بارے میں متنازعہ خبر لیک ہونے کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی کی بجائے ہائیکورٹ کے سابق جج کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی پیر تک قائم کردی جائیگی۔ پارلیمانی کمیٹی کی ضرورت نہیں ہے۔ ٹی او آر پر مشاورت مکمل کرلی ہے۔ مجوزہ انکوائری کمیٹی کیلئے نام وزیراعظم کو پیش کر دیئے ہیں۔ یہ تحقیقات پرویز رشید کے خلاف نہیں ہو رہی بلکہ یہ خطرناک اور جھوٹی خبر لیک کرنے کے بارے میں کی جا رہی ہے۔ صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ چودھری نثار نے کہاکہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے، بچوں کا کھیل نہیں، وزیراعظم چاہتے ہیں کہ جوبھی جھوٹی خبرکامحرک ہے اس کی نشاندہی ہونی چاہئے۔ تحقیقات کیلئے بننے والی کمیٹی کا سربراہ ہائی کورٹ کا سابق جج ہوگا، کمیٹی میں قابل احترام لوگ حساس اداروں کے افسر شامل ہونگے۔ کمیٹی کا سربراہ اور دیگر ارکان باکردار لوگ ہوں گے، انکی ایمانداری پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکے گا۔ انکوائری کمیٹی انتظامی سطح کی ہوگی جو کسی بھی شخص کو پوچھ گچھ کیلئے بلا سکتی ہے۔ اس معاملے پرسیاست نہیں ہونی چاہئے،کمیٹی کوآزادانہ اورشفاف ماحول میں کام کرنے دیا جائے حکومت کا جہاں تک تعلق ہے کمیٹی کے ناموں سے ہی اندازہ ہوجائے گا کہ حکومت ایک شفاف اورغیرجانبدار تحقیقات چاہتی ہے تاکہ جن لوگوں نے جھوٹ ،بہتان ،غلط فہمی کا بازار گرم کر رکھا ہے، ان سے قوم کی جان خلاصی ہو۔ وزیر داخلہ نے سینیٹ میں رضا ربانی کی رولنگ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ رضا ربانی کا احترام کرتے ہیں انکا شمار پیپلز پارٹی کے اکابرین میں ہوتا ہے جو جمہوریت، آئین اورقانون کی بالادستی سے متعلق واضح اور دوٹوک موقف رکھتے ہیں تاہم پرویز رشید سے پارلیمنٹ کی کوئی کمیٹی تحقیقات نہیں کریگی حکومت نے جو کمیٹی بنائی ہے، صرف وہی پرویز رشید سے تحقیقات کریگی۔ تحقیقات پرویز رشید کے خلاف نہیں ہو رہی بلکہ یہ حساس اور جھوٹی خبر کے افشاء ہونے کے بارے میں کی جا رہی ہے۔امید ہے پیر تک کمیٹی کا قیام ہوجائیگا، یہ نیشنل سکیورٹی کا معاملہ ہے کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہر ایک کو ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہیے، حکومت معاملے کی شفاف‘ غیر جانبدارانہ انکوائری چاہتی ہے تاکہ حقائق قوم کے سامنے آئیں اور انتہائی اہم اور حساس ایشو پر سیاست کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔ ہم بھی یہ چاہتے ہیں کہ جو بھی غلط خبر کا محرک ہے اس کی نشاندہی جلد از جلد کی جائے تاکہ چند لوگوں نے جھوٹی الزام تراشی کا جو بازار گرم کر رکھا ہے اس سے قوم کی جان چھوٹ جائے۔ اس بات کا اعادہ کرتا ہوں کہ یہ نیشنل سکیورٹی کا معاملہ ہے کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہر ایک کو ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہیے۔ کمیٹی کو آزاد اور شفاف ماحول میں کام کرنے دیا جائے جہاں تک تعلق ہے اس کمیٹی کے ناموں سے اس کا اندازہ ہو جائے گا کہ حکومت ایک شفاف‘ غیر جانبدارانہ انکوائری چاہتی ہے تاکہ حقائق قوم کے سامنے آئیں اور انتہائی اہم اور حساس ایشو پر سیاست کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ خبر لیک کی تحقیقات حکومت کی اعلان کردہ پالیسی کے مطابق ہوگی ۔