نوازشریف ، مریم کے گوشواروں میں تضاد نہیں: چارٹرڈ اکائونٹنٹ فرم، پاکستان بار نے سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرنے کا عندیہ دیدیا

06 نومبر 2016
نوازشریف ، مریم کے گوشواروں میں تضاد نہیں: چارٹرڈ اکائونٹنٹ فرم، پاکستان بار نے سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرنے کا عندیہ دیدیا

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+ ایجنسیاں) پاکستانی چارٹرڈ اکائونٹنٹ فرم فرگوسن نے کہا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف اور مریم نوازکے ٹیکس گوشواروں میں تضاد نہیں ، ٹیکس گوشوارے قانون کے مطابق ہیں ،2011 میں مریم نواز کا نام پلاٹ گوشواروں کے درست کالم میں درج کیا گیا ، ٹیکس گوشواروں میں مریم کا نام زیر کفالت افراد میں شامل نہیں تھا، خود کفیل اولاد کا کالم نہ ہونے پر مریم کا نام کالم 12میں لکھنا پڑا ، پلاٹ خریداری کے وقت مریم نواز خود بھی ٹیکس فائلر تھیں ، مریم نواز نے بینک ذرائع سے رقم ادا کرکے پلاٹ اپنے نام کرایا ، مریم نواز نے 2012-13ء کے گوشواروں میں پلاٹ اپنے نام ظاہر کیا ، ٹیکس گوشواروں کے فارم میں تبدیلی 2015ء میں ایف بی آر نے کی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ لیکس کے حوالے سے دائر درخواستوں کے معاملے پر فرگوسن سے طلب کی گئی رائے سامنے آگئی ہے ، یہ رپورٹ سابق اٹارنی جنرل اور وزیراعظم کے اس کیس میں وکیل سلمان اسلم بٹ کل بروز پیر سپریم کورٹ میں جمع کرائینگے۔رپورٹ کے حوالے سے حاصل دستاویز میں شریف گروپ آف کمپنیز کے منیجر اکائونٹس و ٹیکس افیئرز سید اجمل سبطین کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ یکم اکتوبر 2016کو آپ کی جانب سے وزیراعظم محمد نوازشریف کی جانب سے ٹیکس2011کے ویلتھ سٹیٹمنٹ میں اثاثوں کا جو ذکر کیا تھا اس حوالے سے رائے مانگی گئی ، ہماری معلومات کے مطابق ٹیکس 2011ء میں ٹیکس دہندہ نوازشریف نے اپنی بیٹی مریم صفدر کے نام سے اثاثہ خریدا ، وہ ایک بالغ اور خود ٹیکس فائلر ہے ، ویلتھ سٹیٹمنٹ میں ٹیکس سال 2011میں ٹیکس دہندہ نوازشریف نے اثاثہ ظاہر کیا جو ان کی بیٹی کے نام پر خریدا گیا تھا۔ ویلتھ سٹیٹمنٹ کے متعلقہ فارم کے سیریل نمبر12میں درج ہے۔ اسکالم کا عنوان ہے ’’اثاثے‘‘ اگر کوئی شریک حیات ، چھوٹے بچے یا دوسرے انحصار کرنے والوں کے حوالے سے ہے ، یہ اثاثہ بیٹی کے حوالے سے 2011ء کی ویلتھ سٹیٹمنٹ کے فارم کا حصہ نہیں ہمارے پاس دستیاب معلومات کے مطابق ٹیکس 2012ء میں ٹیکس دہندہ کی بیٹی نے اس متعلقہ اثاثے کی بینک ذرائع سے ٹیکس دہندہ کو منتقل کی۔ نتیجتاً ٹیکس دہندہ کی ویلتھ سٹیٹمنٹ سے اثاثے کو مٹا دیا گیااور ویلتھ سٹیٹمنٹ اس کے اپنے اثاثے کے طور پر شامل کی گئی۔ مندرجہ بالا حقائق کے پیش نظر اس حوالے سے ہماری رائے جانی گئی کہ ٹیکس دہندہ اور اس کی بیٹی کی 2011-12ء کے لئے ویلتھ سٹیٹمنٹ ،مصالحت کا ہے۔متذکرہ بالا اثاثہ انکم ٹیکس آرڈینننس 2001کی پروویژن کے مطابق تھا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ خط میں ظاہر کئے گئے کمنٹس اور خیالات کے مقصد کے تحت ہم نے آرڈیننس کی پروویژن متعلقہ قواعد اور فارم ویلتھ سٹیٹمنٹ برائے2011-12کا جائزہ لیا ،یہ فارمیٹ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ آرڈیننس کا سیکشن 116ویلتھ سٹیٹمنٹ فائل کرانے کا طریقہ کار بتاتا ہے سیکشن 116کی ذیلی دفعہ 1ویلتھ سٹیٹمنٹ کی تجدید کے بارے میں بتاتی ہے ذیلی دفعہ2ویلتھ سٹیٹمنٹ جمع کرانے اور ریٹرن کے ساتھ مصالحت کے تناظر کے بارے میں بتاتی ہے جبکہ ذیلی دفعہ1کمشنر کی جانب سے جاری کئے گئے نوٹس پر تخصیصات کی تجدید کے حوالے سے بھی بتاتی ہے۔ ذیلی دفعہ 1 کے تحت ایک شخص کے کل اثاثوں ، اس پر عائد ذمہ داریوں ، شریک حیات، چھوٹے بچوں اور اس کے زیر کفالت افراد کے حوالے سے ہیں جبکہ ذیلی دفعہ 1کی جزو سی میں کسی بھی شخص کی جانب سے ایک شخص کی جانب سے کسی دوسرے شخص کو متعلقہ یا خاص مدت میں اثاثے منتقل کئے جاتے ہیں۔ اس بات کا اعادہ کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں کئی حوالے بھی دیے گئے اور یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ مندرجہ بالا حقائق اور کیس کی صورتحال ، آرڈیننس کی پروویڑنز اور ہمارے نقطہ نظر کے مطابق ٹیکس دہندہ اور ان کی صاحبزادی جیسا کہ ویلتھ سٹیٹمنٹ میں قراردیا گیا یہ ٹیکس 2011-12کے مطابق درست ہیں اور اس سے آرڈیننس کی اس حوالے سے نافذ پروویڑن کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ ہمیں اس بات پر اعتماد ہے کہ یہ رپورٹ آپ کے مقاصد پر پوری اترے گی ، اگر مزید بھی ضرورت پڑی تو اے ایف فارگوسن اینڈ کمپنی مکمل تعاون کرے گی۔ ہماری رائے ، حقائق، اور ماخوذات پر مبنی ہے۔ہماری رائے آج تک کے قانون کے مطابق ہے ایڈوائس ، قانون کی تشریح اور ٹیکس حکام کے ساتھ ہمارے تجربات پر مبنی ہیں ، یہ ضروری نہیں کہ ٹیکس حکام اوپر دی گئی رائے کو تسلیم کریں۔
اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت+ ٹیرنس جے سگمونی+ دی نیشن رپورٹ) پاکستان بار کونسل نے سپریم کورٹ میں ’’پامانہ پیپرزلیکس‘‘ سے متعلق زیرالتوا مقدمہ میں سپریم کورٹ کے دائرہ سماعت کو چیلنج کرنے کا عندیہ دیاہے۔ ہفتہ کے روز اٹارنی جنرل / چیئرمین پی بی سی اشتر اوصاف علی کی زیر صدارت پی بی سی کا اجلاس سپریم کورٹ بلڈنگ میں واقع پی بی سی کے مرکزی دفتر میںمنعقد ہوا جس میں 23میں سے 13ممبران نے شرکت کی جن میںاحسن بھون ،سید قلب حسن، عابد ساقی ، راحیل کامران، اعظم نذیر تارڑ، یوسف لغاری ، کامران مرتضیٰ، عبدالفیاض خان ،اختر حسین، حفیظ الرحمان ، غلام شبیر شر،سیدامجد شاہ اور شیر محمد شامل تھے ، وائس چیئرمین بیرسٹر فروغ نسیم سمیت 10ممبران نے اجلاس کابائیکاٹ کیا۔ اجلاس کے بعد ان فاضل ارکان نے مشترکہ پریس کانفرنس منعقد کی جس میں پی بی سی کے سندھ سے رکن یوسف لغاری نے صحافیوںکو بتایا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ چونکہ پی بی سی کے وائس چیئرمین بیرسٹر فروغ نسیم اکثریت کھو چکے ہیں اسلئے ان کا اس عہدہ پر رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے، کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ کو اپنا ترجمان مقرر کردیا گیا ہے ، پی بی سی کے 13 میں سے 12اس وقت ہمارے ساتھ ہیں جبکہ ایک رکن شیر محمد کی فلائٹ تھی اسلئے چلے گئے ہیں۔ پی بی سی کی مشترکہ رائے کی بجائے فرد واحد کی رائے ہی میڈیا پر لائی جارہی تھی ،جس پر ہم نے اپنا مشترکہ ترجمان مقرر کیا ہے ،انہوں نے کہا آئندہ 26نومبر کے اجلاس میںپی بی سی کی جانب سے پانامہ پیپرز لیکس کے حوالہ سے سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرنے کا بھی جائزہ لیا جائیگا، اگر ایک عدالت کو کسی چیز کا اختیار ہی نہیں ہے تو اگر فریقین بھی اس پر اپنی مرضی دیدیں تو بھی عدالت اس پر عمل نہیں کرسکتی ہے ، عدالت کو سیاسی معاملات میں ملوث نہیں ہونا چاہیے۔ دی نیشن کے مطابق پاکستان بار کونسل نے پانامہ گیٹ کے حوالے سے درخواستوں کی سماعت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔