یمنی میزائل کا مکہ مکرمہ پر نشانہ!

06 نومبر 2016

ہم تو دھرنے کے شوق اور شور میں غرق تھے، ہمیں اپنی کوئی خبر نہ تھی۔ کاش! پچھلی جمعرات کا سورج مغرب سے طلوع ہوا ہوتا اور خدائی قیامت برپا ہو جاتی مگر یہ قیامت نہ آتی کہ یمن کی طرف سے ایک بیلسٹک میزائل خانہ کعبہ جیسے متبرک مقام کی طرف داغا جاتا۔ دنیا بھر کی نیوز ایجنسیوں اور ٹی وی چینلز نے اسے نشر کیا، یہ الگ بات ہے کہ ہم بنی گالہ کی تقریروں پر کان لگائے بیٹھے رہے، ہماری آنکھیں اس زہریلے دھوئیں سے آلودہ تھیں جنہیں ایف سی کے شیر دل جوانوںنے داغا اور اپنی تنخواہوںمیں راتوں رات دو گنا اضافہ کروا لیا۔ پتہ نہیں جن یمنی فوجیوں نے مکہ مکرمہ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی جسارت کی، انہیں کس انعام و اکرام سے نوازا گیا ہو گا۔ میں یہاں بتاتا چلوں کہ ترک صدر اردوان کو بھی اس سپیشل پولیس نے فوجی بغاوت سے بچایا جسے وہ برسوں سے نوازتے چلے آ رہے ہیں، پتہ نہیں بھٹو کی ایف ایس ایف کیوں ناکام ثابت ہوئی تھی۔
ڈوئچے ویلے، سی بی ایس، دی ٹائمز لندن جیسے معتبر ذرائع ابلاغ نے خبر دی کہ یمنی حوثیوں نے پانچ سو کلو میٹر کے فاصلے سے ایک بیلسٹک میزائل چلایا، سعودی عرب پر بیلسٹک میزائل کا ایک حملہ پہلے بھی ہو چکا ہے، اسلئے سعودی فورسز نئے حملے کے مقابلے کے لئے پوری طرح تیار تھیں اور انہوں نے امریکہ سے خریدے گئے پیٹریاٹ میزائل سے یمنی میزائل کو مکہ مکرمہ سے ستر میل دور فضا میں تباہ کر دیا۔ اس خبر کی تردید صرف نیویارک ٹائمز نے کی ہے اور وہ بھی اس حد تک کہ نشانہ مکہ کا شہر مقدس نہیں، جدہ کا ایئر پورٹ تھا۔ سعودی فورسز کا کہنا ہے کہ انہوں نے طائف کے اوپر اس میزائل کو تباہ کیا، طائف سے مکہ اور جدہ کا فاصلہ ایک جیسا ہے، اس لئے سعودی اس انتظار میں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے رہ سکتے تھے کہ طائف سے آگے یہ میزائل جدہ کی طرف جائے گا یا اللہ کے گھر کو نشانہ بنائے گا، انہوں نے بروقت فیصلہ کیا اور اسے فضا میں مار گرایا، اس طرح عالم اسلام ایک ممکنہ، لرزہ خیز قیامت سے محفوظ رہا۔ نیویارک ٹائمز نے اس امر کی بھی تردید کی کہ حوثیوں کو یہ میزائل ایران کی طرف سے دیا گیا تھا۔ میزائل کہیں سے بھی ملا ہو، یہ بہرحال فائر کیا گیا ، یہ روسی ساختہ سکڈ میزائل تھا جس کے بارے میں عراقی صدر صدام حسین دعوے کرتا رہا کہ وہ سکڈ میزائلوں کی بارش کر کے اسرائیل کو نیست و نابود کر دے گا مگر اس کا ایک سکڈ بھی اسرائیل تک نہ پہنچ پایا، یمن کا ایک میزائل بہرحال طائف کی فضائوں تک پہنچ گیا۔ عراقی سکڈ کے بارے میں ایک لطیفہ عرض کر دوں، یہ لطیفہ نہیں ایک خبر ہے جو پاکستان کے تمام بڑے اخبارات میں شائع ہوئی تھی کہ پاکستانی وزیراعظم نواز شریف امن مشن پر عالم عرب کی فضائوں میں سفر کر رہے تھے (اس امن مشن کا مشورہ میں نے دیا تھا، مگر میں ساتھ نہیں تھا) کہ ایک قصیدہ گو اخبار نویس نے شور مچا دیا کہ وزیراعظم صاحب! جہاز کے شیشوں سے دیکھیں، ایک سکڈ میزائل اسرائیل کی طرف پرواز کرتا جا رہا ہے، خدا کا شکر ہے کہ آپ اور ہم سب اس سے محفوظ رہے ہیں۔
یمنی سکڈ میزائل سے شہر مقدس بھی محفوظ رہا مگر اس کے فائر سے اندازہ ہو جانا چاہئے کہ یمنیوں کے ارادے کیا ہیں اور انہیں کس طرح کی پُشت پناہی میسر ہے۔
کیا میں اپنا سر پیٹوں کہ سعودیوںنے بار بار ہم سے فوجی مدد طلب کی، سعودی شہزادہ خود پاکستان آیا ، ہمارے وزیراعظم بھی دو مرتبہ ریاض گئے، ایک بار آرمی چیف بھی ساتھ تھے مگر صد حیف! ہم نے سعودیوں کی ایک نہ سُنی اور آج نوبت یہ ہے کہ رمضان کی ستائیسویں شب کو مسجد نبویؐ کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، سعودیوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر اسے ناکام بنا دیا اور مسجد میں دس لاکھ نمازیوںکو محفوظ بنایا۔
ہم نے سعودی عرب کا ساتھ کیوں نہ دیا، ایک ہی دلیل ہمارے پاس تھی کہ دو اسلامی ملکوںکے جھگڑے میں ہم نہیں پڑتے مگر ہم بھول گئے کہ ان میں ایک ملک حرمین شریفین کی سرزمیں تھا، ہم نے اس کی سکیورٹی سے اغماض برت کر کونسی نیکی کما لی۔ سعودی عرب دہائی دیتا رہا کہ یمن کی لڑائی صرف صنعا پر قبضے ا ور کنٹرول کی لڑائی نہیں ہے، اس کا مقصد سعودی عرب کو تہہ و بالا کرنا اور حرمین شریفین کے تقدس کو پامال کرنا ہے، ہمارا میڈیا بڑا محقق ثابت ہوا ہے، اس نے تاریخ کھنگال ڈالی اور ہمیں یاد دلایا کہ یہ گناہ کبیرہ کئی بار سرزد ہو چکا ہے ا ور خانہ کعبہ کا فرش مسلمانوںکے خون سے مسلمانوں کے ہاتھوں سرخ ہوتا رہا ہے، یہ تاریخ کی باتیں ہیں تو کیا اس تاریخ کو دُہرانے کی اجازت دی جانی چاہیے، ہمارے میڈیا کے پاس شاید اس کا جواب نہ ہو۔ اگر ہے تو پھر مجھے بتایا جائے کہ ہم کیوں کہتے رہے کہ ہمارا ایٹمی پروگرام عالم اسلام کے دفاع کی ضمانت ہے اور ہم نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پاکستان عالم ا سلام کا قلعہ ہے۔ ہم اس حد تک خود غرض نکلے کہ سوویت افواج نے گرم پانیوں کی طرف فوجی چڑھائی کی تو ہم نے اس کے خلاف جنگ سعودی ریالوں سے لڑی اور اس سے بھی کون انکار کر سکتا ہے کہ ہم نے ایٹمی سامان بھی سعودی مالی امداد سے خریدا۔ تو آج سعودی عرب کو ضرورت آن پڑی تو ہم نخرے دکھانے لگ گئے۔ اور پھر ہم روتے ہیں کہ ہم دنیا میں تنہا ہو گئے ہیں۔
میں آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ ایوب خاں نے چھ ستمبر پینسٹھ کی دوپہر کو جو تقریر کی تھی، اس میں یہ بات یاد دلائی تھی کہ بھارت یہ کہہ کر اسلحے کے ڈھیر لگا رہا تھا کہ یہ سب چین کے خلاف استعمال ہو گا مگر اصل میں بھارت کی نیت پاکستان کے خلاف جارحیت کی تھی۔ اگر ایوب خان سچ بول رہا تھا توپھر ہمیں سعودیوں پر بھی اعتبار کرنا چاہئے تھا کہ و ہ بھی سچ بول رہے ہیں کہ یمن کی جنگ صنعا پر قبضے کی نہیں ٖحرمین شریفین کو کنٹرول کرنے کی ہے، کیا میں یاد دلائوں کی یہ مطالبہ سامنے آ چکا ہے کہ حرمین شریفین کو سعودیوں سے آزاد کروایا جائے اور مسلم اُمہ کے اجتماعی کنٹرول میں دیا جائے۔ یہ مطالبہ عالم ا سلام کے بخیئے ادھیڑ کر رکھ دے گا، پاکستان پر سکھوں، بدھوں کا راج ہو جائے گا، ایران کے بڑے حصے پر بلوچ چھا جائیں گے اور شام اور ترکی کے بڑے علاقے کردوں کو تحفے میں مل جائیں گے۔ اور خاکم بدہن! ہمیں شہر مدینہ گریٹر اسرائیل کی بھینٹ چڑھانا پڑے گا۔ خدا کے لئے کہیں رُک جائیے، یہیں رک جائیے!