پانامہ لیکس تحقیقات کیلئے کمشن بنانے کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست

06 نومبر 2016

اسلام آباد(نمائندہ نوائے وقت)سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کی تحقیقات کے لئے کمیشن بنانے کے خلاف درخواست دائر کرا دی گئی ہے،درخواست میںموقف اختیار کیا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے پاس انکوائری کمیشن تشکیل دینے کا اختیار نہیں ہے ، انکوائری کمیشن بل2016پارلیمنٹ میں زیر التواءہے ، قانون سازی اور ٹی اوآرز بنانا عدالت کا کام نہیں ہے ۔گزشتہ روز سپریم کورٹ میں بیرسٹر ظفراللہ خان کی جانب سے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لئے کمیشن بنانے کے خلاف درخواست دائرکرائی گئی، درخواست میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ چیف جسٹس کمیشن بنانے کی حکومتی درخواست پہلے ہی رد کرچکے ہیں، چیف جسٹس نے حکومت کو معاملے کی تحقیقات کے لئے قانون سازی کی تجویز دی تھی اور با اختےار کمیشن بنانے کا کہا تھا، انکوائری کمیشن بل 2016پارلیمنٹ میں زیر التوا ہے تو ایسے میں عدالت پارلیمنٹ کے اختیار میں مداخلت کیسے کر سکتی ہے۔درخواست گزارکی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ پارلیمنٹ تمام اداروں کی ماں ہے اور عدالتیں بھی پارلیمنٹ کے قوانین پر عمل درآمد کی پابند ہیں، عدالت معاملہ کی تحقیقات کےلئے ٹی او آرز بنانے کی مجاز نہیں۔ بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کہ ایک سیاسی خاندان کا مسلہ ہے جو عدالت میں لایا جارہا ہے جبکہ کسی سیاسی خاندان کا تنازع عدالت کا اختیار سماعت نہیں ہے اور کوئی بھی مخالف عدلیہ کو سیاسی انتقام کےلئے یوںاستعمال نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ۔ درخواست