کراچی کے امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا پولیس اپنی کارکردگی کو ٹھیک کریں وزیراعلیٰ سندھ

06 نومبر 2016

کراچی (وقائع نگار)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کراچی کے امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور دہشت گردوں کو شہر کے امن کو تباہ کرنے کےلئے کسی بھی صورت دوبارہ منظم نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بات ہفتہ کی شام چیف منسٹرہاﺅس میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کےلئے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری سندھ محمد صدیق میمن،آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ،ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثناءاللہ عباسی،ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری نوید کامران بلوچ، کمشنر کراچی سمیت مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ اجلاس میں شہر میں امن وامان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا جب کہ حالیہ ٹارگٹ کلنگ کی لہر اورگرفتاریوں پر بھی گفتگو کی گئی۔اجلاس میں وزیراعلیٰ نے شہر میں ڈرگ مافیا سمیت دیگر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی، وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ کراچی کے امن کے لیے دن رات کام کررہے ہیں اور شہر کے امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ سینٹرل اور ایسٹ میں ٹارگٹ کلنگ اور جرائم کے واقعات زیادہ ہو رہے ہیں فرقہ ورانہ دہشت گردی میں اضافہ ہور ہا ہے جس کی روک تھام کےلئے فور طور پر موثر اقدامات ضروری ہیں۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ نے ڈی آئی جی سینٹرل اور ڈی آئی جی ایسٹ کو وارننگ دی کہ وہ اپنی کارکردگی اور سسٹم کو ٹھیک کریں تاکہ ان کے متعلقہ اضلاع میں اس نوعیت کے واقعات کی موثر طریقے سے روک تھام ممکن ہوسکے۔اجلاس میںآئی جی سندھ کی جانب سے وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ کل کے واقعات میں ایک ہی پستول استعمال ہوا ہے اور ایک ہی گروہ ملوث ہے کل کے واقعہ میں صرف موٹر سائیکل تبدیل کی گئی اوراس سلسلے میں پولیس اہم گرفتاریاں کرنے والی ہے۔ جس کے بعد حالیہ وارداتوں کے حوالے سے بہت کچھ واضح ہو جائیگا اور ملزمان قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔ وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے ٹارگٹ کلنگ کے حالیہ واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں سے کہا کہ وہ شہر کے جس علاقے میں اور جس کے خلاف چاہیںآپریشن کریں لیکن انہیں مثبت نتائج چاہیں ۔ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی نے وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہ کیا کہ پولیس نے کچھ اہم شواہد اکھٹے کرلئے ہیں جس سے ٹارگیٹ کلنگ اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی نشاندہی ہوگئی ہے۔ اجلاس میں تاجروں کو ملنے والی بھتے کی پرچیوں کے حوالے سے موصول ہونے والی شکایات پر ان تمام معاملات کی انکوائری کا فیصلہ کیا گیا اوروزیراعلیٰ سندھ نے بھتہ گروپ کے خلاف فوری کریک ڈاو¿ن کی ہدایت کی۔اجلاس میں منشیات فروشوں کے خلاف شروع کی جانے والی کارروائیوں پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔دریں اثناءحکومت سندھ کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اجلاس میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران شہر میں ہونے والے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات اور ان کے پیچھے کار فرما محرکات کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ہدایت کی کہ وہ شہر میں اس قسم کے واقعات کی موثر طریقے سے روک تھام کےلئے اپنے نیٹ ورک کو زیادہ موثر بنائیں اور اس ضمن میں عوام کا سرگرم تعاون بھی حاصل کیا جائے۔ اجلاس میں ان واقعات کے بعد ہونے والی بعض اہم گرفتاریوں پر بھی گفتگو کی گئی اور شہر میں پہلے سے جاری حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کرنے کےلئے ضروری اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔ یڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثناءاللہ عباسی نے اجلاس کو بتایا کہ فرقہ وارانہ کلنگ میں ملوث گروپوں کی نشاندہی ہوگئی ہے اور ایسے ٹھوس شواہد مل گئے ہیں جن کی بنیاد پر ان واقعات میں ملوث ملزمان قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔
وزیراعلیٰ