سندھ کھنڈر کا منظر پیش کرتا ہے وہاں کے حکمرانوں کو بڑی تقریریں نہیں کرنی چاہئیں سعد رفیق

06 نومبر 2016

کراچی(اسٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہاہے کہ عدلیہ کے فیصلے کے حق میں ہوں یا مخالفت میں، قبول کرنے ہی پڑتے ہیں،سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ناانصافی ہوئی لیکن پیپلزپارٹی نے اسے قبول کیا‘ 900 ارب لگاکر بھی صوبہ کھنڈر نظر آئے تو دوسروں کے بجائے اپنا احتساب کرنا چاہئے ‘ پنجاب کے تمام شہروں کی حالت بدل رہی ہے تو سندھ میں کیوں نہیں بدل سکتی ،کراچی کچرے کا ڈھیر بنا ہواہے ،یہاںکی سڑکیں اور ٹرانسپورٹ کا نظام ٹھیک نہیں ہے۔ کراچی سرکلرریلوے کراچی کی ضرورت ہے، میٹروٹرین اورمیٹروبس سب سے پہلے کراچی میں بننی چاہئے تھی،3 سال پہلے ریلوے کباڑ خانہ تھا، لیکن اب آہستہ آہستہ تبدیلی آرہی ہے،فاروق ستار کے نفرت انگیز بیان سے لاتعلقی کے اظہار کو سراہتا ہوں ،بانی ایم کیوایم کی مہربانی ہے کہ انہوں نے خود کو سیاست سے الگ کرلیا ہے ان خیالات کا اظہارانہوں نے ہفتہ کو یہاںساڑھے 16 کروڑروپے کی لاگت سے اڑتالیس نئے فلیٹس کے تین بلاک تعمیر کروانے کا سنگ بنیاد رکھا جو جنوری 2018ئ میں تکیمل کو پہنچیں گے ،رہائشی منصوبے کے افتتاح کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے خواجہ سعدرفیق نے کہاکہ پاناما لیکس پرفیصلہ جوبھی فیصلہ آئے قبول کریں گے۔عدلیہ کے فیصلے حق میں ہوں یامخالفت میں قبول کرنے ہی پڑتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ادارے کے ملازمین کی طرز زندگی بہتر بنانے کے لیے ہاﺅسنگ سوسائٹی متعارف کروائی ہے، 16 فلیٹس کی 3 عمارتیں 2018ئ میں مکمل ہوں گی، ریلوے ملازمین کی رہائش کے منصوبے پر 165 ملین روپے لاگت آئے گی، ریلوے کے بڑے افسران بڑے بڑے گھروں میں رہ رہے ہیں لیکن ہم بڑے بڑے بنگلے والے افسران کے گھروں کو چھوٹا کریں گے۔انہوں نے کہاکہ ہاﺅسنگ اسکیم میں سیاسی بنیادوں پرالاٹمنٹ نہیں دیں گے ۔کراچی سرکلرریلوے کی بحالی کے متعلق وزیر ریلوے نے بتایاکہ انہوں نے پہلے بھی دوبار سابق وزیراعلیٰ قائم علی شاہ سے بات کی اور وہ اب مراد علی شاہ سے بھی بات کرنے کوتیار ہیں، کیونکہ سرکلرریلوے کراچی کی ضرورت ہے،صوبے کو 350 ایکٹر زمین دے چکے ہیں تاکہ وہ اس پر اورنج لائن جیسا منصوبہ بنائیں ،کراچی سمیت پور ا سندھ کھنڈر اور آثار قدیمہ کا منظر پیش کرتا ہے جو انتہا ئی افسوسناک ہے،جس صوبے میں کچرے کے ڈھیر ہوں ، وہاں کے حکمرانوں کو بڑی تقریریں نہیں کرنی چاہئیں‘شہر کے سرکلر ریلوے کےلئے وفاق کو بیچ میں ڈالنے کی ضرورت نہیں تھی ۔انہوں نے کہاکہ ریلوے کی زمین پرقبضہ کرنیوالے موٹے مرغوں کو ڈنڈے مارکر نکال دینا چاہئے یہ ہماری پالیسی ہے ہم کچی آبادی کو چھیڑتے نہیں اورموٹے مرغوں کو چھوڑتے نہیں ہیں، آئی جی سندھ سے قبضے کی زمین چھڑانے کے لیے بات کروں گا، تجاوزات اور قبضہ گروپ کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گے ۔
سعد رفیق

تقریریں اور فیصلے

آئین میں فوج اور عدلیہ کو عوامی تنقید سے باقاعدہ تحفظ دیا گیا ہے حتیٰ کہ ...