دہشت گردوں کو علاج کی فراہمی ، ڈاکٹر عاصم او ر دیگر ملزموں پر فرد جرم عائد

06 نومبر 2016

کراچی(وقائع نگار)انسداد دہشت گردی عدالت نے دہشت گردوں کے علاج معالجے اور سہولت فراہم کرنے سے متعلق مقدمے میں ڈاکٹر عاصم، انیس قائم خانی، وسیم اختر، قادر پٹیل اور عثمان معظم سمیت تمام نامزد ملزمان پر فرد جرم عائد کردی ہے۔ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا ہے ۔ہفتہ کوکراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں دہشت گردوں کے علاج معالجے اور سہولت فراہم کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی۔ کیس میں نامزد ملزمان پیپلزپارٹی کے ڈاکٹرعاصم اور قادر پٹیل ، پی ایس پی کے رہنما انیس قائم خانی، ایم کیوایم پاکستان کے رﺅف صدیقی اور وسیم اختر جبکہ پاسبان سے عثمان معظم عدالت میں پیش ہوئے۔ تمام ملزمان کے وکلا سمیت ڈاکٹر عاصم کے وکیل نے عدالت کے سامنے استدعا کی کہ ڈاکٹر عاصم کو ڈاکٹرز نے مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے اس لئے سماعت کو ملتوی کیا جائے۔تاہم عدالت نے کارروائی جاری رکھتے ہوئے تمام ملزمان پر فردجرم عائد کردی اور الزام پڑھ کرسنایا۔عدالت نے کہا کہ تمام ملزمان پر الزام ہے کہ ضیاءالدین اسپتال میں پولیس کو انتہائی مطلوب ٹارگٹ کلرز، جرائم پیشہ افراد اور دہشت گردوں کا علاج ہوتا رہا ہے، جن ملزمان کا اسپتال میں علاج کیا گیا وہ کم و بیش 330 مقدمات میں مطلوب ہیں جب کہ علاج معالجہ کیس میں نامزد ملزمان کے کہنے پرہی علاج میں دہشت گردوں کو رعایت بھی دی جاتی رہی ہے ۔ ڈاکٹر عاصم کو شدید علالت کے باعث وہیل چیئر پر عدالت میں لایا گیا ۔ڈاکٹر عاصم نے عدالت میں بیان دیا کہ میں نے کوئی جرم نہیں کیا۔الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں جنہوں نے الزامات لگائے ہیں ان پر بھی فرد جرم عائد کریں۔
فرد جرم عائد