بلیک میلنگ

06 نومبر 2016

المیہ یہ ہے کہ کچھ الفاظ روزمرہ کی زبان میں اس طرح مستعمل ہو جاتے ہیں کہ لوگ ان کا بلا سوچے سمجھے استعمال کرنے لگتے ہیں۔۔افسوس اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب یہ حماقت کوئی پڑھا لکھا کرنے لگتا ہے۔۔پڑھا لکھا اور تعلیم یافتہ جیسے الفاظ بھی اس ہی زمرے میں آتے ہیں لیکن ہم نے پڑھا لکھا سوچ سمجھ کر ہی لکھا ہے۔۔پڑھا لکھا تو تین چار جماعت والے طالب علم کو بھی کہہ سکتے ہیں لیکن اسے تعلیم یافتہ نہیں کہا جا سکتا۔۔جاہل اور جٹ میں بھی فرق ہوتا ۔۔جاہل پڑھا لکھا بھی ہو سکتا ہے لیکن جٹ ہونے کے لیئے پڑھائی لکھائی غیر ضروری ہے آج اس موضوع پر قلم اٹھانے کی ضرورت اس لیئے پڑی کیونکہ ایک سیاستدان جو بد قسمتی یا خوش قسمتی سے آکسفورڈ سے پڑھے ہوئے توہیں لیکن تعلیم یافتہ نہیں، اپنے بلیک میل کیئے جانے کا رونا رو رہے ہیں۔اس سیاستدان کے لیئے ہم نے جان بوجھ کر ” مشہور زمانہ سیاستدان“ یا” بد نام زمانہ سیاستدان “ کا لاحقہ استعمال نہیں کیا کیونکہ مشہور زمانہ اور بدنام زمانہ بھی اکثر غلط استعمال ہو جا تا۔ بالکل اس طرح جیسے غدار ذلیل میر جعفر کی بجائے لوگ اسے غدار اعظم کہتے یا لکھتے ہیں۔اس مثال کے بعد شاید مشہور زمانہ اور بد نام زمانہ کی تفریق کے سمجھنے میں آسانی ہو جائے۔انگریزی میں بھی فیمس (Famous) اور نوٹوریس (Notorious) جیسے الفاظ کے باوجود کچھ لوگ برے لوگوں کے لیے فیمس کا لاحقہ استعمال کرجاتے ہیں ، جو ہماری دانست میں غلط ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہم نے اس سیاستدان کو فقط ’ سیاستدان‘ ہی لکھا ہے کیونکہ اس کے طرفداروں کے لیئے یہ مشہور زمانہ (famous) ہے اور مخالفین کی نظر میں یہ بدنام زمانہ یعنی(nototious) ہی ہو سکتا ہے ۔۔ہم ٹھہرے غیر جانبدار تو احتیاطً اسے صرف سیاستدان لکھ رہے ہیں( ایک وضاحت اور کہ ہم موجودہ سیاستدانوں کو لیڈر نہیں سمجھتے اس لیئے ان کو لیڈر نہیں لکھتے)اس لمبی چوڑی تمہید کے بعد جو کہ ہمارے کالموں کا خاصہ ہے ہم اصل موضوع پر آتے ہیں۔جب ہم نے اس سیاستدا ن کے منہ سے یہ سنا کہ حکمران جماعت کے کچھ ممبران، جنہیں یہ ” موٹو گینگ“ کہتے ہیں۔، اس کو بلیک میل کر رہے ہیں تو ہم نے فوراً آکسفورڈ ڈکشنری سے ر جوع کیا تو یہ آشکار ہوا”Black mailing is the action, treated as a criminal offence, of demanding money from someone in return for not revealing compromising information which one has about them.“بقول ڈکشنری اردو میں بلیک میلنگ کے مطلب ہیں ” کسی راز کے بدلے میں رشوت“اس سے یہ معلوم ہوا کہ بلیک میل کسی راز یا گناہ کو چھپانے کے لیئے کیا جاتا ہے۔۔۔اور نا کردہ گناہ یا جرم پر الزام تو لگایا جاسکتا ہے لیکن بلیک میل نہیں کیا جاسکتا۔اس سیاستدان نے بلیک میل کا الزام لگا کر یہ تو مان لیا کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔۔کوئی تو جرم یا گناہ ہے جس کی وجہ سے بلیک میل کیا جا رہا ہے اس سیاستدان سے ہمیں یہ ہی گلہ ہے کہ یہ بولنے سے پہلے تولتے نہیں۔۔اس سے ان کے وژن کا بھی پتہ چلتا ہے۔افسوس ہوتا ہے آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ ہونے کی بجائے صرف پڑھے لکھے ہی رہے۔۔بول چال میں اخلاق کی کمی بھی عیاں ہے کیونکہ اس پر دو رائے نہیں کہ سیاست میں گالی گلوچ ان ہی کی رہین منت ہے۔وژن کی کمی کی وجہ سے بار بار بیان کی تبدیلی ، جس کی وجہ سے یو ٹرن کا داغ بھی لگ گیا۔افسوس یہ کہ یہ پہلی بار نہیں۔۔جوش خطابت میں یہ پہلے بھی لایعنی بیانات دیتے رہے ہیں جس میں یہ کہ ” میں ایک گیند سے وکٹ لے سکتا ہوں“ خاصہ زیر بحث رہا۔اور ہمیں بھی اس پر ایک کالم لکھنے کا موقع مل گیا کہ ایک کرکٹر کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ ایک گیند سے دو وکٹ لینا نا ممکنات میں سے ایک ہے۔ کہتے ہیں کہ عذر گناہ بدتر از گناہ کیونکہ جب دو وکٹوں کے دعوے پر کھنچائی ہوئی تو صفائی میں یہ احمقانہ بیان دیا کہ ایک گیند پر جب دسواں آﺅٹ ہوتا ہے تو گیارھواں بھی پویلین کو لوٹ جاتا ہے ۔اس لیئے ایک گیند پر دو وکٹ گر سکتی ہے۔۔اس پر اور مذاق ہوا کہ کوئی نہیں کہتا کہ گیارہ آﺅٹ ہو گئے ۔۔جیتا بھی جاتا ہے تو دس وکٹ سے گیارہ سے نہیں اور یہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ اگر کوئی اوپنر دس وکٹوں کے گرنے کے باوجود بھی کریز پر ہو تو اسے آﺅٹ نہیں کہتے بلکہ” اسے بیٹ کیری کرنا“ کہتے ہیں۔اس سیاستدان کی اینٹری سے سیاست میں کرکٹ کی اصطلاحات کا کافی عمل دخل شروع ہو گیا ہے اس ہی تناظر میں کہہ سکتے ہیں کہ اگر خدا نخواستہ نون لیگ کو آﺅٹ ہو کر پویلین میں لوٹنا پڑا تو بھی وزیر اعظم ول کیری دا بیٹ (The Prime minister will carry the bat)