کلبھوشن یادیو،اور حالیہ سانحہ کوئٹہ

06 نومبر 2016

کلبھوشن یادیو نامی بھارتی نیول کمانڈر،جس نے 1987ءمیں بھارتی نیوی کی انجینیئرنگ برانچ میںکمیشن حاصل کیا اور بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد ر ا(RAW)میں شمولیت اختیار کی ،03 مارچ 2016ءکو ایران سے چمن کے راستے ،پاکستان میں غیر قانونی طور پر داخل ہوتے وقت قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ہاتھوں گرفتار ہوا۔کلبھوشن نے حسین مبارک پٹیل کے نام سے جعلی پاسپورٹ بھی بنوایاہوا تھا اور پڑوسی ملک ایران کے علاقے میں کاروباری فرد کی حیثیت سے رہتے ہوئے،جیولری کا کاروبار کر رہا تھا۔گرفتاری کے وقت کلبھوشن کے پاس سے پاکستان کے مختلف علاقوں کے نقشے بھی بر آمد ہوئے،گرفتاری کے بعد دوران تفتیش کلبھوشن نے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے، انکشافات کیے کہ اس کو بھارتی انٹیلیجنس ایجنسی را (RAW )نے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوںکی ذمّے داری دینے کے علاوہ سی پیک (CPEC) منصوبہ ناکام بنانے کی بھی ہدایت کی تھی۔اس مقصد کے لیے اس نے گوادر اور گڈانی کا بھی دورہ کیا ،اس دورے میں اس کی ملاقات حاجی بلوچ نامی شخص سے بھی ہوئی جس نے بلوچ علیحدگی پسندوں سے اس کا رابطہ کرایا، کلبھوشن کا رابطہ جن افراد سے قائم تھا،ان ا فرا د کو اسلحہ اور رقم کلبھوشن ہی فراہم کرتا تھا۔کلبھوشن سے رابطے میں افراد ملک میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے رہے ہیں ،جس میں سانحہ صفورا گوٹھ نمایاں ہے۔کلبھوشن کی گرفتاری کے بعدبھارتی حکومت نے یہ کہہ کر اپنی جان چھڑالی کہ وہ ریٹائرڈ کمیشنڈ آفیسر ہے اور بھارت کی کسی ایجنسی کے لیے کام نہیں کرتااور نہ ہی بھارتی حکومت یا را(RAW ) سے ا س کا کوئی تعلق ہے لیکن ا فسوس کہ وزیر اعظم پاکستان نے ملکی سطح پر بھی کلبھوشن کی گرفتاری پر نہ ہی کوئی مذمّتی بیان دیا اور نہ ہی اقوام متحدہ میں اپنے خطاب میںبین الاقوامی برادری کی توجہ، بھارتی جاسوس و دہشت گرد کلبھوشن کی گرفتاری کی طرف مبذول کرانے کی ضرورت محسوس کی ۔حالانکہ کلبھوشن کی گرفتاری کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا ،کلبھوشن کوصرف بھارتی جاسوس کہہ کر جان نہیں چھڑائی جاسکتی،یہ وہ دہشت گرد شخص ہے جو سانحہ صفورا گوٹھ اور نجانے کتنی دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث ہے، جس کی وجہ سے سیکڑوں پاکستانیوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں۔کلبھوشن کی وجہ سے کتنی ماﺅں نے اپنے بیٹے کھوئے ہیں ،کتنی ہی عورتوں کے سہاگ اُجڑے ہیںاور کتنے ہی بچے یتیم اور بے سہارا ہوئے ہیں ۔ حالیہ سانحہ کوئٹہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کلبھوشن کا بچھایا ہوا نیٹ ورک ابھی بھی فعال ہے اور اس کے کارندے بے خوف و خطر اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیںگو کہ کلبھوشن سے رابطے میں ایک اہم فرد حاجی بلوچ کی گرفتاری کا دعویٰ تو کیا گیا ہے لیکن کوئٹہ کا حالیہ واقعہ اس بات کا متقاضی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروںکواپنی کارروائیوں کو مزید فعال اور تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آیندہ مزید کسی اور دہشت گردی کے واقعے سے بچا جاسکے۔کلبھوشن کو صرف بھارتی جاسوس سمجھ کر مطمئن ہوجا نا نادانی ہے ۔یہ شخص جاسوس ہونے کے ساتھ ایک مکروہ دہشت گرد بھی ہے،جس نے اپنے ہاتھ سیکڑوں پاکستانیوں کے خون سے رنگے ہیں۔اس لیے ضرورت امر کی ہے کہ کلبھوشن سے تفتیشی عمل کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جائے اور حکومت پاکستان،بین الاقوامی برادری اور اقوام کی توجہ، کلبھوشن کی وجہ سے ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی طرف مبذول کرائے۔