عمران خان اگلے الیکشن کی تیاری کریں

06 نومبر 2016

جب دھرنا ہوا ہی نہیں تو سو روپے کس بات کے لیے گئے۔ اللہ د تہ نے 100 روپے واپسی کا مطالبہ کر دیا جو اس نے 2 نومبر دھرنے کے لیے عمران خان کے دھرنے ” فنڈ برائے 2 نومبر “ میں جمع کرائے تھے۔ عمران خان کی مثال اس کھلاڑی کی سی ہے جو گول کرنے کے لیے بال کو بڑی تیزی سے ڈاچ دیتا دیتا آئے ، ڈی میں داخل ہو کر بال کورٹ میں ڈالنے کے بجائے مخالف ٹیم کے کھلاڑی کو تھما دے ۔پانامہ لیکس کے بھنور میں پھنسی پاکستان تحریک انصاف نے 2 نومبر کو بڑ ا سیاسی اکھاڑا لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔وزیر اعلی خیبر پی کے پرویز خٹک کے منہ سے بہادر پٹھانوںکی للکار بھی سنائی دی تھی۔پرویز خٹک نے پچھلے دو ہفتوں میں کم وبیش دس بار وطن عزیز کے منتخب وزیراعظم نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ”ہم تم سے نہیں ڈرتے اور نہ ہی یہ پاکستان تمہارے باپ کا ہے“۔ انہوں نے مسلم لیگی لیڈروں کی پگڑیاں اچھال کرغیر شائستہ اور غیر اخلاقی القابات اور بیانات دیے گو کہ لیگی لیڈروں نے بھی کچھ کسر نہیں چھوڑی۔ کوئٹہ کے زخم ابھی مندمل نہیں ہوئے تھے کہ عمران خان نے جشن کے نام پر رقص و سرور کی محفل سجا لی۔ میں عمران خا ن کا مخالف نہیں لیکن عمران خان کے ہر جلسے ، دھرنے اور مارچ میں خواتین کارکنان کے ساتھ بدتمیزی اور واہیات حرکات ہوتی ہیں۔یوم تشکر کا مطلب ہے” اللہ کا شکر بجا لانا ہے“، العیاذ باللہ کیا اللہ کا شکررقص و سرور اور گالم گلوچ سے ادا ہوتا ہے؟۔ عمران خان کا جلسہ اور لڑائی جھکڑا ، گالم گلوچ اور طعن و تشنیع لازم و ملزوم رویے ہیں۔ غیر تربیت یافتہ سماج اور اسلامی روایات سے کوسوں دور ”کراﺅڈ“ کو بیٹھا کر عمران خان کس کلچر کو پروموٹ کررہے ہیں ۔الامان و الحفیظ ۔حقیقت کے آئینے میں دیکھا جائے تو جشن کے نام پر مرد و خواتین کا والہانہ رقص، مر د وزن کا آپس میں گھتم کھتا ہونااور مر د حضرات کا خواتین کو جنسی طور پر ہراسان کرنا جہاں ملکی و اسلامی ثقافت کے انتہائی خلاف ہے وہاں ہماری نئی نسل کی تربیت کے لیے زہر قاتل سے کم نہیں ہے۔
تمہید تھوڑی لمبی ہو گئی ۔حاصل کلام یہ ہے کہ ماسٹر آف یو ٹرن عمران خان نے اس عرصے میں واضح کر دیا کہ ان کے پاس کوئی جامع پلان ہے نہ کوئی حکمت عملی نہیں ، کوئی لیڈرشپ ہے نہ کوئی مدعا اور نہ ہی اگلے الیکشن میں سیاسی عمل کے ذریعے انتخابات لڑنے کا کوئی ارادہ ۔ قابل التفات بات یہ ہے کہ لوگ بڑی آس امید باندھے بیٹھے تھے کہ خان اب پیچھے نہیں ہٹے گا ۔ لیکن وہی ہوا جسکا ڈر تھا اور عمران خان بغیر کسی نتیجے کے گیم سے آﺅٹ ہو گئے۔ایک بار پھر عمران خان نے بلکل مبہم اور متوقع غیر مناسب حکمت عملی اپنائی ہے جس نہ صرف قوم کا وقت ضائع ہوا بلکہ ایک فوجی آفیسر بھی اس دھرنے کی بھینٹ چڑھ گئے۔اگر عمران خان تیسری قوت نہیں چاہتے تھے تو کم از کم کمیشن اور انکوائری کے آغاز کیساتھ ٹی او آرزاور سپریم کورٹ سے پانامہ کی مکمل تحقیقات کا وقت لیکر یوم تشکر مناتے ۔ دیکھا جائے تو عمران خان آج تک اصل معاملات کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوئے ۔ کرپشن ، پانامہ لیکس ، بہامہ لیکس ، وی کی لیکس،می کی لیکس، سرائے محل ، سویئٹزر لینڈاکاﺅنٹ، حکمرانوں کے لند ن میں فلیٹ، آف شور اکاﺅنٹس، رائیونڈو بنی گالہ، زرداری و بلاول ہاﺅس اور منصورہ و گجرات ہاﺅس ”عوامی مسائل “ نہیں ہیں ۔ عوام کے اصل مسائل تو صاف پانی، تعلیم ، صحت ، روز مرہ کی بنیادی اشیائ،روزگار، سستی رہائش کی فراہمی اور دہشت گردی ، ظلم و زیادتی اور ہر قسم کی معاشرتی آلودگی سے پاک پر امن زندگی کا حصول ہے۔
یہ بات تو تہ شدہ ہے کہ ان بڑی پارٹیوں کے حکمرانوں نے دوچیزوں پر مکمل اتفاق و اتحاد کی فضاءقائم کر رکھی ہے کہ اپنی کرپشن اور فیملی کی کرپشن پرکوئی چارج نہیں لگے گا۔ محسوس ہوتا ہے کہ2018 کے الیکشن پر پانامہ سمیت کوئی بھی کیس اثر انداز نہیں ہوگا۔میاں نواز شریف اپنی تجارتی سوچ کی بدولت ملکی معیشت کو بہتر اشاریوں پر لا رہے ہیں جس میں سڑکوںکے منصوبے اور سی پیک قابل ذکر ہیں ۔ پاکستان کی اسٹاک ایکسچینج میں خوشحالی کے ساتھ ساتھ ”ایمرجنگ مارکیٹ“ ہونے کے ناطے ڈار صاحب ایوارڈ بھی وصول کر چکے ہیں۔ وقت ساتھ نہیں دے رہا یا عمران خان قسمت کے دھنی نہیں ہیں ، جو بھی ہے بہرحال اب یوم تشکر کے بعد پی پی پی ، مولانا فضل الرحمان اور جماعت اسلامی نے سکھ کا سانس لیا کہ شکر ہے یہ ہواکاجشنی بھگولا بھی گیا۔یوم تشکر کے اعلان کے ساتھ ہی امیر جماعت اسلامی سراج الحق ایک بار پھر سے ٹی او آرز کے تعین اورکرپشن کے خلاف جلد ٹرائل کے حوالے سے ایکٹو ہو گئے ہیں ۔سراج الحق ایک زیرک انسان ہیں ، حکومت کو چاہیے کہ وہ خورشید شاہ اور سراج الحق کیساتھ ملکر ٹی او آرز کی جلد تشکیل دیںاور معاملہ سپریم کورٹ کے حوالے کر کے اپنی تمام تر توجہ بھارتی دخل اندازی، دہشت گردی ، روز گار او رسی پیک وغیرہ پرمرکوز کریں۔
عمران خان اپنے جز وقتی مشیروں سے زیادہ اپنے مضبوط اعصاب پر بھروسہ رکھیں ۔ عمران خان صاحب 2013 کے الیکشن میں اسلام آباد کی ہائی جینٹری کو بھول نہیں پائے جو تاریخ میں پہلی بار کسی لیڈر کے لیے باہر نکلے۔ یہ طبقہ ووکل ہے پڑھا لکھا ہے ،لاﺅڈ ہے لیکن یہ طبقہ ووٹوں کے اعتبار سے بہت کم حصہ ہے۔ لہذا عمران خان کواس خاص طبقے کے خول سے خود کو نکالنا ہوگا اور عوامی لیڈر ہونے کا ثبوت دینا ہوگا۔ عمران خان عوام کے بیچ میں جائیں اور عوام کے مسائل کو سمجھیں اور پھر عوام کی زبان بولیں اورجو عوام کا پیغام ہو وہ حکمرانوں تک پہنچائیں ۔ عمران خان کو اب صحیح معنوں میں اگلے الیکشن کی تیاری کرنا ہوگی اور اپنی تمام تر توجہ اپنے صوبے اور عوامی مسائل کو سمجھنے میں صر ف کرنا ہوگی۔ اگر عمران خان اس باربھی عوام کی توقعات پر پورا نہ اتر سکے تو پھر شاید 2018 کے الیکشن کے بعداحمد فراز کی یہ غزل گھنگھنائیں گے۔اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں، یاد کیا تجھ کو دلائیں تیرا پیماں جاناں، ،ہوش آیا تو سب ہی خاک تھے ریزہ ریزہ جیسے اُڑتے ہوئے اُوراقِ پریشاں جاناں