ایمان کامل

06 نومبر 2016

انسانوں کو جو سبق بار بار پڑھایا جاتا ہے اسے وہ بھول جاتا ہے اس سبق کو ذہن نشین کرانے کے لئے اﷲ کریم نے انبیاءاور رسول پیدا کئے۔ یہ انسان تھے مگر ہر لحاظ سے کامل اور خطا¶ں سے پاک و معصوم .... دنیا میں تقریباً سوا لاکھ انبیاءو رسل اﷲ نے بھیجے۔ ان سب کے آخر میں ہمارے آقا و مولا سیدنا محمدﷺ تشریف لائے آپ پر نبوت و رسالت کا سلسلہ مکمل ہو گیا۔ آپ کے بعد کوئی نبی دنیا میں نہیں آئے گا۔ آپ پر نازل ہونے والی مقدس کتاب قرآن مجید اور آپ کا اسوہ¿ حسنہ جن کو سنت کہا جاتا ہے انسانوں کی رہنمائی اور ہدایت کے لئے کافی ہیں۔ یہ اﷲ نے محفوظ کر دئیے ہیں ان میں کوئی رد و بدل نہیں ہو سکتا۔ ایک شخص جو کلمہ طیبہ پڑھ لیتا ہے وہ مسلمان کہلاتا ہے اور اس پر مکمل عمل کرے تو بندہ مومن کہلاتا ہے۔ ایک مومن ہر چیز سے زیادہ اﷲ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔ اپنی‘ اولاد‘ ماں باپ اور تمام انسانوں سے زیادہ اسے اﷲ اور اس کے رسول محبوب ہوتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ نبی پاک کے امتی ساتھی اور دوست تھے وہ آپ کے سچے پیروکار تھے۔ انہوں نے اپنا سب کچھ آپ کی ذات اور آپ کے احکام پر قربان کرنے کی اعلیٰ مثالیں قائم کی ہیں۔ یہ تاریخ کے عظیم ترین انسان تھے اور ان کی جماعت انسانوں کی سب سے اعلیٰ اور مقدس جماعت تھی ان میں سے جس صحابیؓ کے بھی حالات پڑھیں ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔ نبی پاک کے ایک صحابی حضرت خبیب بن عدی تھے۔ وہ مدینہ کے انصار میں سے تھے۔ انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد بڑی قربانیاں دیں۔ نبی پاک کے ساتھ جہاد میں شریک رہے اور اسلام کی سربلندی کے لئے آپ کے ساتھ ساتھ رہے۔ جنگ بدر اور احد اسلامی تاریخ کے پہلے اور اہم معرکے تھے۔ نبی پاک کی تو یہ ذمہ داری بھی تھی کہ تمام لوگوں تک اسلام کی دولت پہنچے اور آپ کی یہ زبردست تمنا بھی ہوتی تھی کہ ہر شخص ہدایت پا لے تاکہ اﷲ کے عذاب سے بچ جائے۔ قریش مکہ کے ساتھ نبی پاک کی دو جنگیں ہوئیں۔ جنگ بدر میں مسلمان صرف 313 تھے اور کفار 1 ہزار تھے مگر ان کو شکست فاش ہو گئی۔ احد کی جنگ میں مسلمان 700 تھے اور کفار 3 ہزار تھے۔ اس جنگ میں ایک غلطی کی وجہ سے مسلمانوں کی فتح شکست میں بدل گئی۔ کافروں کے بہت سے بڑے بڑے سردار بدر اور احد میں قتل ہو چکے تھے اور وہ ان کا بدلہ لینے کی قسمیں کھاتے رہتے تھے۔ ان چھ صحابہ کو جب یہ قبائلی سردار اپنے ساتھ لے کر مدینہ سے اپنے علاقے کی طرف چلے تو ایک وادی میں سے گزر ہوا پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت وادی کے دونوں جانب پہاڑوں پر ان قبائل کے جنگ جو مورچے سنبھالے ہوئے تھے۔ صحابہ کے امیر حضرت عاصم بن ثابت کو اس صورت حال کا احساس ہوا تو انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا ہمارے ساتھ ان لوگوں نے عذر کیا ہے اب ان کے سامنے ہتھیار نہ ڈالنا
ہمت سے مردانہ وار مقابلہ کرنا ہے۔ یہ چھ صحابہ اس گروہ کے سامنے ڈٹ گئے۔ حضرت عاصمؓ اور ان کے تین ساتھی شہید ہو گئے جبکہ دو صحابیوں کو زخمی حالت میں دشمنوں نے گرفتار کر لیا۔ یہ تھے حضرت خبیب بن عددیؓ اور زید بن دثنہؓ ان دونوں کو مکہ میں جا کر فروخت کردیا گیا اور حضرت زیدؓ کو دشمنوں نے تلوار سے شہید کر دیا۔ حضرت خبیبؓ کو پھانسی لگا دی گئی۔ یہ تھا سچا ایمان اﷲ و رسول کے ساتھ سچی محبت حضرت خبیب نے اپنا سب کچھ اﷲ اور رسول کے لئے قربان کر دینے کا عہد باندھا جسے انہوں نے پورا کیا۔ پھانسی لگ گئے مگر اسلام سے وفاداری اور نبی پاک سے سچی محبت پر آنچ نہ آنے دی۔ حضرت خبیبؓ نے آخری لمحے اﷲ سے عرض کیا اے میرے مولا تو مجھے اس حال میں دیکھ رہا ہے میرے آقا کو بھی میری اس حالت کی خبر دے اور ان تک میرا سلام پہنچا دے۔ اﷲ نے جبرائیل کے ذریعے نبی پاک کو سارا نقشہ دکھایا اور خبیب کا سلام بھی آپ کی خدمت میں پہنچا دیا۔ نبی پاک نے حضرت خبیب کے سلام کا جواب دیا اور پھر صحابہ کرام کو ان کی عظیم قربانی اور شہادت سے باخبر کیا ۔ آپ نے فرمایا مجھے جبرائیل نے حالات بھی بتائے ہیں اور سلام بھی پہنچا دیا۔ خبیب نے آخری وقت میں جو نفل پڑھے ہیں میں انہیں اپنی سنت قرار دیتا ہوں۔