سیاستدانوں میں سنجیدگی کب آئے گی؟

06 نومبر 2016
سیاستدانوں میں سنجیدگی کب آئے گی؟

مکرمی! پاکستان کے قیام کے 70 سال بعد بھی بھی عوام میں سنجیدگی نہیں آئی اس میں عوام کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ سیاستدان اپنے طرز عمل سے عوام میں سیاسی شعور پیدا کرتے ہیں وہ خود ایک دوسرے سے د ست و گریباں رہتے ہیں۔ پی ٹی آئی کا دھرنا ہو یا پی پی کی ریلی اکثر دیکھا گیا ہے اس میں جیالے ناچ گانے میں مصروف ہوتے ہیں۔ عوامی گزر گاہوں کے راستے بند کر دئیے جاتے ہیں عوام تکلیف دہ حالت میں ہوتے ہیں کراچی میں پی پی کی ریلی کی وجہ سے میت لے جانے والی گاڑی کیلئے راستہ نہ ملنے کی وجہ سے میت کو سرٹیچر پر قبرستان پہنچایا گیا۔ افسوس ہے کہ زندہ بھی تکلیف میں اور مرد بھی تکلیف میں۔ عوامی ریلیاں اور جلسے جمہوریت کا حسن ہیں اور عوام کا یہ حق ہے کہ وہ اپنی پارٹی کے منشور کو عوام کے سامنے پیش کریں لیکن یہ سب کچھ نظم و ضبط کے تحت ہونا چاہئے ورنہ جمہوریت کا حسن گہنایا جاتا ہے۔ نعرے بازی ضرور کریں یہ بھی جلسے جلوس کی شان ہے۔ عوام کی آمد و رفت کا خیال کریں ان میں رکاوٹ نہ بنیں۔ ہمیں سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔